Monday, 23 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Akhtar Sardar Chaudhry
  4. Ramzan Ul Mubarak Aur Hum: Hamari Masroofiyat, Hamari Zimmedariyan

Ramzan Ul Mubarak Aur Hum: Hamari Masroofiyat, Hamari Zimmedariyan

رمضان المبارک اور ہم: ہماری مصروفیات، ہماری ذمہ داریاں

رمضان المبارک، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ عظیم الشان مہینہ ہے جو رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا پیغام لے کر آتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ پس جو شخص اس مہینے کو پائے تو روزہ رکھے" (سورہ بقرہ: 185)۔ یہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی مہینہ ہے، جو ہمیں صبر، تقویٰ، ایثار، عبادت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔

ایک ماہ کا رمضان درحقیقت پوری زندگی سنوارنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس کی قدر کریں اور اپنی مصروفیات کو درست انداز میں ترتیب دیں۔ سوال یہ ہے کہ رمضان المبارک میں ہماری مصروفیات کیا ہونی چاہئیں؟ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اور ہمیں اس مہینے کو کس طرح گزارنا چاہیے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب حاصل کر سکیں؟ اس تحریر میں ہم ان پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے، قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں، تاکہ رمضان کو ایک بابرکت اور تبدیلی کا مہینہ بنایا جاسکے۔

سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری روزہ رکھنا ہے، جو اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ روزہ ہمیں صرف کھانے پینے سے نہیں روکتا بلکہ جھوٹ، غیبت، بدکلامی اور ہر قسم کی برائی سے بھی باز رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولنے اور اس پر عمل کرنے کو نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑے" (صحیح بخاری)۔ اس لیے ہماری اولین مصروفیت یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنے روزوں کی حفاظت کریں، اپنی زبان، آنکھوں اور دل کو گناہوں سے بچائیں اور تقویٰ اختیار کریں۔ رمضان میں روزہ صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی بھی ہے۔ یہ ہمیں اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے جو ہماری خودداری کو بڑھاتا ہے اور ہمیں اللہ کے قریب کرتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ" (سورہ بقرہ: 183)۔ لہٰذا، روزہ کی فرضیت کو ادا کرتے ہوئے ہم اپنے اعمال کو بھی درست کریں، تاکہ یہ روزہ اللہ کے ہاں قبول ہو۔

رمضان المبارک میں قرآنِ مجید کی تلاوت کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا" (سورہ قدر: 1)۔ اس لیے ہمیں اپنی روزمرہ مصروفیات میں سب سے پہلے قرآن کو شامل کرنا چاہیے۔ کوشش کریں کہ روزانہ باقاعدگی سے تلاوت کریں، ترجمہ اور تفسیر پڑھیں تاکہ ہم اللہ کے کلام کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگی میں نافذ کر سکیں۔ اگر ممکن ہو تو کم از کم ایک مرتبہ پورا قرآن ختم کرنے کی کوشش کریں۔ حضور ﷺ رمضان میں جبرائیلؑ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: "رسول اللہ ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے اور جبرائیل آپ سے ملتے تھے اور آپ ان کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے" (بخاری)۔ قرآن سے تعلق مضبوط کرنا ہی رمضان کا اصل پیغام ہے۔ یہ نہ صرف اجر کا ذریعہ ہے بلکہ ہماری زندگیوں کو ہدایت کی روشنی دیتا ہے۔ رمضان میں قرآن کی تلاوت کے لیے مخصوص اوقات مختص کریں، جیسے فجر کے بعد یا افطار سے پہلے اور اسے اپنی روزانہ روٹین کا حصہ بنائیں۔

نماز کی پابندی بھی ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ پانچ وقت کی فرض نمازوں کو باجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں۔ مرد حضرات مساجد میں جا کر نماز ادا کریں اور خواتین گھروں میں باقاعدگی سے نماز کا اہتمام کریں۔ رمضان میں تراویح کی نماز بھی ایک عظیم عبادت ہے، جس میں قرآنِ مجید سننے اور پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ایمان اور اجر کی امید کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں" (بخاری و مسلم)۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تراویح کا اہتمام کریں اور اسے بوجھ نہ سمجھیں بلکہ خوشی اور شوق کے ساتھ ادا کریں۔ تراویح نہ صرف روحانی سکون دیتی ہے بلکہ یہ امت کی اتحاد کی علامت بھی ہے۔ اگر مسجد جانا ممکن نہ ہو تو گھر میں بھی تراویح ادا کی جا سکتی ہے، کیونکہ اللہ نیت دیکھتا ہے۔

ذکر و اذکار اور دعاؤں کا اہتمام بھی رمضان کی اہم مصروفیات میں شامل ہونا چاہیے۔ یہ مہینہ دعا کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ افطار کے وقت کی دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "تین دعائیں رد نہیں ہوتیں: روزہ دار کی افطار کے وقت کی دعا، عادل حکمران کی دعا اور مظلوم کی دعا" (ابن ماجہ)۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے لیے، اپنے والدین، اہلِ خانہ، ملک و ملت اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعائیں کریں۔ درود شریف، استغفار اور کلمہ طیبہ کا ورد اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ رمضان میں ذکر اللہ دل کو مطمئن کرتا ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا: "یاد رکھو کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے" (سورہ رعد: 28)۔ یہ مصروفیت ہمیں دنیاوی ہنگاموں سے الگ کرکے اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

رمضان المبارک ہمیں صبر اور برداشت کا سبق بھی دیتا ہے۔ بھوک اور پیاس کے باوجود نرم لہجہ اختیار کرنا، غصے سے بچنا اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی جھگڑا کرے تو روزہ دار کو چاہیے کہ کہہ دے: "میں روزہ دار ہوں"، جیسا کہ حدیث میں ہے (بخاری)۔ یہ مہینہ ہمیں اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ قرآن میں صابرین کی تعریف کی گئی ہے: "اور خوشخبری دے دے صبر کرنے والوں کو" (سورہ بقرہ: 155)۔ رمضان میں صبر کی مشق ہمیں زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کی طاقت دیتی ہے۔

صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی رمضان کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس مہینے میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "رمضان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت نازل فرماتا ہے اور نیکیوں کا اجر ستر گنا بڑھا دیتا ہے" (بیہقی)۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مستحقین کی مدد کریں، غریبوں کو کھانا کھلائیں، یتیموں اور مسکینوں کی خبرگیری کریں۔ افطاری کا اہتمام کریں اور روزہ داروں کو افطار کروانے کی سعادت حاصل کریں، کیونکہ حدیث کے مطابق روزہ دار کو افطار کروانے والے کو بھی برابر کا ثواب ملتا ہے (ترمذی)۔ زکوٰۃ رمضان میں ادا کرنے کی سنت ہے، جو ہمارے مال کو پاک کرتی ہے۔ قرآن میں فرمایا: "نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو" (سورہ بقرہ: 43)۔

یہ عمل نہ صرف اجر کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرتی انصاف کو فروغ دیتا ہے۔

رمضان المبارک میں ہمیں اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں، ناراضگیوں کو ختم کریں اور معاف کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔ اگر کسی سے کوئی اختلاف ہے تو اسے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلہ دے، بلکہ وہ جو قطع رحمی کے باوجود جوڑے" (بخاری)۔ یہ مہینہ دلوں کو صاف کرنے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کا بہترین موقع ہے۔ معاشرے میں امن اور محبت پھیلانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

ہماری مصروفیات میں اعتکاف بھی شامل ہو سکتا ہے، خاص طور پر آخری عشرے میں۔ یہ وہ عشرہ ہے جس میں شبِ قدر جیسی عظیم رات آتی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ قرآن میں فرمایا: "شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے" (سورہ قدر: 3)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "جو شخص شبِ قدر کو ایمان اور اجر کی امید کے ساتھ قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں " (بخاری)۔ ہمیں چاہیے کہ آخری عشرے میں عبادات کا خصوصی اہتمام کریں، نوافل پڑھیں، قرآن کی تلاوت کریں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں۔ اعتکاف اللہ کی عبادت میں مکمل انہماک کا موقع ہے۔

رمضان المبارک صرف انفرادی عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح کا بھی موقع ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو رمضان کی اہمیت سمجھانی چاہیے، انہیں نماز اور روزے کی ترغیب دینی چاہیے اور عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے۔ گھروں میں دینی ماحول پیدا کریں، فضول مشاغل، غیر ضروری ٹی وی پروگرامز اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے بچیں۔ اپنی قیمتی گھڑیاں نیکیوں میں صرف کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں لوگ دھوکا کھاتے ہیں: صحت اور فارغ وقت" (بخاری)۔ رمضان میں وقت کی قدر کریں۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہم رمضان کو صرف کھانے پینے کی تیاریوں اور ظاہری رسومات تک محدود نہ کریں۔ سادگی اختیار کریں، اسراف سے بچیں اور وقت کی قدر کریں۔ قرآن میں اسراف کی مذمت کی گئی ہے: "اسراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے" (سورہ بنی اسرائیل: 27)۔ اگر ہم نے یہ مہینہ غفلت میں گزار دیا تو یہ ہمارے لیے بہت بڑا نقصان ہوگا۔ اس لیے ہر لمحہ قیمتی سمجھیں اور نیکیوں کی طرف بڑھیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ رمضان المبارک ہمارے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ ایک ماہ کی محنت ہمیں پوری زندگی کا اجر دے سکتی ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے میں اپنے آپ کو بدل لیا، قرآن سے تعلق جوڑ لیا، نمازوں کی پابندی اختیار کر لی، گناہوں سے توبہ کر لی اور انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیا تو یقیناً ہماری زندگی سنور جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی صحیح قدر کرنے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور زیادہ سے زیادہ عبادات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Pyasi Ragen Aur Muntazir Aankhen

By Malik Asad Jootah