Ghareeb Ke Liye Rerhi, Ashrafia Ke Liye Runway
غریب کے لیے ریڑھی، اشرافیہ کے لیے رن وے

ایک طرف اگر پنجاب کے گلی کوچوں میں غربت کی بہار ہے تو دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں آسائشوں کی بھی بہار ہے۔ سرکاری سطح پر غرباء کے واسطے رمضان پیکج چل رہا ہے، درجنوں فلاحی منصوبوں کے فیتے کاٹے گئے ہیں، ریڑھی بانوں کو بہترین کارٹس دی جا رہی ہیں۔ پنجاب بھر میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے لگ بھگ ایک کروڑ بچے سکولز سے باہر ہیں۔ بیروزگاری کی سطح کا درست تخمینہ لگانا ممکن نہیں رہا اندازے کے مطابق پنجاب میں چالیس لاکھ سند یافتہ لوگ نوکریوں کے متلاشی ہیں اور حکومتِ پنجاب ایک جدید لگثری جہاز خرید چکی ہے۔ جس کے بارے میڈیا پر خبر آنے کے بعد عظمیٰ بخاری صاحبہ بے سرو پا بیانات دینے آ گئیں۔
یہ Gulf Stream G-500 Luxury سیریز کا جہاز ہے۔ دس سے گیارہ ارب روپیس کی مالیت بنتی ہے۔ امریکی ڈالرز میں کنورٹ کریں تو چار کروڑ امریکی ڈالرز بنتے ہیں۔ صوبائی کابینہ نے وی آئی پی فلائٹ کے لیے سالانہ چھیاسی کروڑ سے زائد کی رقم مختص کی ہوئی ہے۔ یہ پیارے جہاز کے لازمی اخراجات ہیں جو پورے کرنے ہیں۔ کچھ ایسے اخراجات بھی ہیں کہ طیارہ اگر پارک رہے تو دو چار ماہ بعد کچھ پرزے اس کے تبدیل ہونے ہوتے ہیں وہ بھی اسی گرانٹ کی مدد میں آئیں گے۔ گویا جہاز صرف اڑتا ہی نہیں زمین پر کھڑا رہ کر بھی خزانے کو پروں سے جھاڑتا رہتا ہے۔
اس جہاز کے سٹینڈرز پر پورا اُترنے کے لیے پائلٹس کو ہر چھ ماہ بعد امریکا سے ریفریشل کورس کرنا ہوگا۔ اس جہاز کے لیے نومبر میں پاک فضائیہ سے دو تین پائلٹس ڈیپوٹیشن پر شامل کیے گئے۔ نومبر میں ہی ایک بی ایس انیس گریڈ کے ایک پائلٹ کی آسامی اس کی تشہیر کی گئی تھی جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ گلف سٹریم ایس فور ہنڈرڈ ٹائپ جہاز اڑانے کا جس کا تجربہ ہو وہ اپلائی کر سکتا ہے۔ تب تک یہ جہاز یہاں نہیں پہنچا تھا لیکن اس اشتہار سے معلوم پڑتا ہے کہ سرکار اصل میں اس جہاز کے لیے پائلٹ رکھنا چاہ رہی تھی۔ یعنی خواب پہلے دیکھا گیا، تعبیر بعد میں پائی۔
اس جہاز کی تفصیلات عرب نیوز سے وابستہ صحافی شاہ نواز صاحب نے فراہم کی ہیں۔ شاہ نواز جینون صحافی ہیں اور ان کے پاس اس جہاز کے بارے سرکاری کاغذات کا ریکارڈ موجود ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ سرکاری فائلوں میں لفظ Inducted لکھا گیا ہے لیز نہیں لکھا گیا۔ یعنی یہ جہاز حکومت پنجاب نے خریدا ہے۔ جس کے بارے میں عظمیٰ بخاری صاحبہ نے کہا کہ یہ پنجاب ائیرلائن کا حصہ ہوگا۔ ایسا لگثری جہاز کسی بھی عام ائیرلائن کا حصہ نہیں ہوتا یہ پرائیوٹ جیٹ ہوتا ہے۔ یہ مسافر بردار جہاز نہیں ہے اور ائیر پنجاب کیا بن گئی ہے؟ ابھی تو وہ رجسٹریشن مراحل میں ہے۔ نہ اس کے دفتر کا قیام ہوا ہے نہ کمپنی ابھی زمین پر وجود رکھتی ہے۔ ابھی تو میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر سات مسافر بردار طیارے (بوئنگ یا ائیربس) لیز پر لیے جائیں گے۔ جہاز کے ایندھن اور آپریشنل اخراجات ملا کر 28 لاکھ روپے فی گھنٹہ خرچ اُٹھے گا۔ یعنی دو گھنٹے یہ جہاز اڑتا رہے تو چھپن لاکھ روپے سرکاری خزانے سے سواہ ہو گئے۔
مجھے انتظار اس بات کا ہے کہ پنجاب سرکار اس حوالے سے تفصیلی پریس کانفرنس کرے اور بتائے کہ اس جہاز کے فیوض و برکات کیا ہیں۔ اس کی افادیت کیا ہے۔ یہ کیونکر خریدنا ضروری تھا۔ اس صوبے کے عوام کی تقدیر اس جہاز سے کیسے بدل جائے گی۔ اس پر سفر کرنا کتنا سستا ہوگا۔ یہ ساری تفصیلات سامنے رکھی جائیں ویسے ہی جیسے کبھی گزرے وقت میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری بڑے فخر سے 55 روپے فی کلومیٹر والے ہیلی کاپٹر کے فوائد گنواتے تھے اور کابینہ اجتماعی طور پر اس کی معاشی افادیت پر ایمان لاتی تھی۔
بات یہ ہے کہ سیاسی ایلیٹ کو عوام کی اتنی ہی پرواہ ہوتی ہے جتنی امریکا کو دنیا کی۔ دنیا جائے بھاڑ میں امریکا بہادر کا سر سلامت رہے۔ اصل مسئلہ جہاز سے بدرجہا زیادہ ذہنیت ہے۔ سیاسی اشرافیہ کا مائنڈ سیٹ یکساں ہوتا ہے۔ عوام کے لیے اعلانات اپنے لیے انتظامات۔ عوام کو سبسڈی خود کو سُپر لگژری۔ غریب کے لیے ریڑھی اشرافیہ کے لیے رن وے۔

