Saturday, 21 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Khateeb Ahmad
  4. Reel Nahi Real

Reel Nahi Real

ریل نہیں ریئل

نجانے کب ایسا ہوا کہ میرا فون میرے لیے ایک مقناطیس بن گیا۔ ایسا کبھی بھی نہیں تھا جب میں سوشل میڈیا پر سرگرم ہوتا تھا تب بھی نہیں۔ مگر اب؟ کھانا کھاتے بھی انگلی چل رہی ہوتی تھی، ٹوائلٹ میں بھی فون ساتھ لیجانے لگا، رات گئے تک فیس بک، انسٹا، ٹک ٹاک کے پھیرے یا کبھی کوئی فلم یا ڈرامہ سیریز، صبح اٹھ کے پہلا کام سارے نوٹیفکیشن چیک کرنا۔ مسجد سے نکل کر جوتا پہنتے ہوئے جیب سے فون نکال لینا، گاڑی چلاتے ہوئے بھی فون استعمال کرنا وغیرہ۔

اس سارے دورانیے میں کوئی پچاس فیصد فون کا ضروری استعمال بھی تھا۔ ای میلز چیک کرنا، وٹس ایپ پر ضروری رابطے، بلکہ مائکروسافٹ آفس کا بھی فون میں استعمال اور تھوڑا بہت اے آئی کا استعمال۔

دن میں دو بار فون چارج کرنا پڑتا تھا۔

نجانے کیا سوچا کوئی دو ہفتے قبل فون کا استعمال کم کرنا شروع کیا۔ کھانا کھانے کے دوران، ٹوائلٹ جاتے ہوئے فون کمرے میں چھوڑا، رات کو سرہانے کے پاس رکھنے کی بجائے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھنا شروع کیا، مسجد جاتے ہوئے فون آفس، گاڑی میں یا گھر پر چھوڑنا شروع کیا۔

ای میلز اور مائکرو سافٹ آفس کا استعمال لیپ ٹاپ پر کرنا شروع کیا۔ روز مرہ کے کام موبائل نوٹس کی جگہ ڈائری میں پین سے لکھنا شروع کیے۔ سوشل میڈیا کو بتدریج کم کیا۔ اپنی فیس بک پروفائل کی ریچ بلکل ختم کری دی۔ اوروں نے کیا لکھا یا شئیر کیا وہ بھی شاز و ناز ہی دیکھ پاتا ہوں۔ ایسا نہیں میں بہت زیادہ مصروف ہوگیا ہوں۔ بلکہ اسکرین ایڈیکشن نے سوچنے، سمجھنے، کوالٹی آف ورک اور فوکس کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہر ایپ کے الگورتھم ایسے ڈیزائن کیے جارہے ہیں کہ آپ کو اسکا نشہ لگ جائے، آپ فون رکھیں اور پھر پکڑ لیں، کسی اور ایپ پر جائیں پھر واپس اسی پر آئیں، Real کی بجائے Reel کو دیکھیں اور انگلی چلاتے ہی رہیں۔ یہ زہر اس مہارت سے اثر کرتا ہے کہ مریض کو پتا بھی نہیں وہ کونسی اسٹیج پر پہنچ چکا ہے۔

اب اسکرین کے نشے سے تھوڑا نہیں کافی پیچھے ہٹا ہوں تو جو ایریاز متاثر ہوئے تھے وہ اب الحمدللہ قدرے بہتر ہونا شروع ہوئے ہیں۔ دنوں کی نہیں چند ماہ کی محنت کے بعد ایک بیلنسڈ اسکرین ٹائم کا استعمال شاید اپنا سکوں۔ جو ضروری ہو یا تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ اور انفوٹینمنٹ کے لیے ہو۔ انفارمیشن کا گاربیج اور ایموشنل گاربیج ٹرالیاں بھر بھر کے ہمارے سر پر ڈالا جا رہا ہے کہ اسے استعمال یا ہضم کیا کرنا؟ اسکے نیچے ہم دب ہی جاتے ہیں۔

نجانے کب اور کیسے یہ فیصلہ کیا کہ اس دلدل سے کچھ وقت کے لیے تھوڑا پیچھے ہٹنا ہے۔ کہ وہ احساس بھی لے کر جیا جا سکے جو اس سب تماشے سے پہلے ہماری زندگیاں تھیں۔ آپ یقین کریں گے ان پچھلے دنوں میں دو تین بار ایسا ہوا میں نے دو دن بعد فون چارج کیا؟

آپ کی روٹین اسکرین سے چمٹے رہنے کو لیکر کیسی ہے؟

Check Also

Bhai, Ye Nafsiyati Mareez Hai

By Abu Nasr