Saturday, 21 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Maryam Ka Jahaz

Maryam Ka Jahaz

مریم کا جہاز

طاقت کا نشہ اور شہرت کا جن بڑے خطرناک ہتھیار ہیں جو انسان کو ارد گرد کے ماحول سے بے آشنا کر دیتے ہیں اور انسان کی آنکھوں کو اندھا اور کانوں کو بہرا بنادیتے ہیں۔ نواز شریف کی بیٹی نے وزارت اعلیٰ کے دو سال مکمل کیے تو میرا خیال تھا کہ ان دو سالوں کی کارکردگی پر کوئی تنقیدی جائزہ بیان کیا جائے کہ اسی دوران میں مریم نواز کے جہاز خریدنے کی خبریں گردش کرنے لگیں اور میں نے پہلے تو سوچا کہ حکمران شاہانہ عادتیں پالتے ہیں اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے لوگوں کا خون بھی چوس لیتے ہیں اور ایسی ہی کوئی خواہش کی تکمیل کے لئے جہاز خریدا گیا ہوگا وہ تو پریشانی اس وقت بڑھی جب وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا کہ یہ جہاز حکمرانوں کی عیاشی کے لئے نہیں بلکہ پنجاب کی نئی ائر لائن کی تیاری کے لئے خریدا گیا ہے اور مزید طیارے بھی خریدے جائیں گے۔

اس اعلان کے بعد کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اگر ائرلائن ہی بنانی تھی تو پی آئی اے میں کیا خرابی تھی بلکہ وہ تو ایک چلتا ہوا ادارہ تھا جس کے پاس جہاز، ائر لائسنس سمیت تربیت یافتہ عملہ بھی موجود تھا اور اس ائر لائن کو بیچنے کے بعد شادیانے بجانے والے حکمرانوں کا خیال تھا کہ انھوں نے قوم کے سروں سے ایک بڑا بوجھ ہٹادیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومتیں کمرشل محکمے نہیں چلایا کرتی ہیں اور یہ بھی اعلان کیا گیا کہ پی آئی اے کے بعد مزید کمرشل محکموں کو بھی نجکاری کے عمل سے گزارا جائے گا تو پھر ایسی سوچ کے بعد ایک دم سے پنجاب کی نئی ائر لائن بنانے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور اگر وزیر اعلیٰ پنجاب کو اتنا ہی شوق تھا کہ وہ اپنے جہاز چلائیں تو وہ پی آئی اے کو ہی گود لے لیتیں اور نئے سرے سے محکمہ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔

میرا تو خیال یہی ہے کہ ایسا اقدام بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ حکومتیں کوئی بھی محکمہ کھڑا تو کردیتی ہیں لیکن اس کے اندر کرپشن اور کک بیک جیسی بری عادات کو ختم نہیں کر پاتی جس کی وجہ سے منافع کماتا ہوا پورا محکمہ تباہی کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ پی آئی اے، ریلویز، سٹیل ملز اور واپڈا جیسے سارے ہی کمرشل محکمے بدترین خساروں کا شکار ہیں اور پھر حکومتیں ان محکموں کو پالنے کے لئے عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھٹی میں جھونکتی ہیں اور ہر آنے والا حکمران ان محکموں میں اپنے پسندیدہ افراد کو شامل کرکے نوازشات شروع کر دیتا ہے اور اپنے من پسند لوگوں کو ٹھیکے دینا شروع کر دیتا ہے جس کے بعد ان محکموں میں صرف ملازمین کا ہجوم ہی باقی بچتا ہے اور پورا محکمہ زمین بوس ہو جاتا ہے۔

واپڈا کا ہی معاملہ دیکھ لیں کہ مختلف اوقات میں ان ہی حکمرانوں نے ظالمانہ معاہدے کئے تھے جس کا نتیجہ آج قوم کو مہنگی ترین بجلی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے اور خدا کا غضب دیکھیں کہ معاہدے بھی اس قدر غیر فطری اور غیر منطقی ہیں کہ پرائیویٹ پاور پلانٹس کو بجلی کی فراہمی کے بغیر بھی ڈالروں کے حساب سے رقم فراہم کی جارہی ہے اور پچیس پچیس سال کے معاہدوں پر کھربوں روپے ان پلانٹس کو دیئے جاتے رہے ہیں۔

آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور ہٹ دھرمی تو اس پر ہے کہ کئی پاور پلانٹس کے ساتھ معاہدوں میں توسیع بھی کی گئی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ملک کے اندر کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں اور لوگ سرمایہ کاری کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اس قدر بلند لاگت کے ساتھ کاروبار کرنا آسان نہیں ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ کاروباری لاگت میں اضافہ ہی ہورہا جس میں بجلی، پٹرول، گیس کی قیمتوں کا بڑا عمل دخل ہے اور حکمرانوں کی پالیسیاں ایسی ہیں کہ ان محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں ہر سال اضافہ کرکے ان کی بری پرفارمینس کو سیلوٹ کیا جاتا ہے جبکہ اس کا بوجھ عوام پر مزید مہنگی توانائی کی صورت میں ڈال دیا جاتا ہے جبکہ کرپشن اور رشوت کے نرخ بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں جیسا کہ بجلی اور گیس کے کنکشن حاصل کرنے کے لئے ناصرف اضافی ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں بلکہ رشوت ستانی کے ریٹ میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

آپ پی آئی اے کو ہی دیکھ لیں کہ جہاز وقت کے ساتھ کم ہوتے چلے گئے اور ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اچھا بھلا محکمہ حکمرانوں کی عیاشیوں اور غلط حکمت عملی سے برباد ہوگیا لیکن قوم نے شکر کیا کہ چلیں پی آئی اے کے خساروں سے جان چھوٹی ہے اور اب مریم نواز نئی ائر لائن کھڑی کرکے قوم کو دوبارہ اسی بدحالی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے جس میں بد انتظامی، اقربا پروری اور لوٹ مار کا بازار پھر گرم ہوگا اور قوم پر مخصوص مراعات یافتہ طبقہ دوبارہ سے مسلط کیا جائے گا۔

میں تو یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ سارے حکمران کمرشل محکمے بنانے اور ان کو چلانے میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتے ہیں جبکہ یہی وہ محکمے ہیں جو حکمرانوں کے نام کو خراب کرتے ہیں اور ان محکموں میں عام آدمی کے لئے کوئی کشش ہوتی ہے نہ بھلا ہوتا ہے بلکہ مخصوص لوگوں کے لئے کاروبار کے موقع مزید بڑھتے ہیں۔

میں نہیں سمجھتا ہوں کہ مریم نواز ایک نئی ائر لائن بنانے میں اس قدر دلچسپی رکھتی ہیں بلکہ لگتا یہی ہے کہ یہ طیارہ خالصتاً حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کے ذاتی استعمال کے لئے ہی خریدا گیا ہوگا کیونکہ ہر حکمران یہی سمجھتا ہے کہ یہ سارے عہدے ہمیشہ ان کی جاگیر رہیں گے اور ان کی شاہانہ انداز سے عام آدمی کو متاثر بھی ہونا چاہئیے اور خوفزدہ بھی ہونا چاہئیے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ یہی حکمران عمران خان کے بطور وزیر اعظم ہیلی کاپٹر کے استعمال پر تنقید کرتے نہیں تھکتے تھے اور آج ایک قدم آگے بڑھ کر ہوائی جہاز خریدنے لگے ہیں۔

یہ بات تو درست ہے کہ مریم نواز عوام کو تو لندن کی عوام کی طرح ڈسپلن سکھانا چاہتی ہیں لیکن خود لندن کے حکمرانوں کی طرح سادگی نہیں اپنانا چاہتی ہیں ورنہ اس وقت جو عوام کی حالت ہے اس میں جہاز تو درکنار درد دل رکھنے والے حکمران گاڑی بھی سوچ کر ہی استعمال کرتے۔ وطن عزیز کی بدقسمتی دیکھیں کہ اسے کبھی اچھے حکمران میسر ہی نہیں آئے بلکہ مفادات اور خود پسندی کے فیصلے ملک کو کے بیٹھے ہیں۔

Check Also

Maryam Ka Jahaz

By Shahid Mehmood