PMP
پی ایم پی

پی ایم آئی عالمی سطح پر پروجیکٹ منیجمنٹ کا معتبر ترین ادارہ ہے۔ اس کی سرٹیفکیشن کرنے والے فخر سے اپنے نام کے ساتھ پی ایم پی لگاتے ہیں اور سی وی پر اس کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ وہ اچھی ملازمت کی ضمانت ہوتا ہے۔ پاکستان میں پی ایم آئی کے تقریباََ چار ہزار پی ایم پی ہیں۔
میں بھی سرٹیفائیڈ پی ایم پی ہوں۔ میں نے پانچ سال پہلے یہ امتحان پاس کیا تھا۔
جو لوگ اس بارے میں نہیں جانتے، ان کے لیے عرض ہے کہ کسی بھی چھوٹے بڑے کام کو انجام دینا پروجیکٹ منجمنٹ جیسا ہی ہوتا ہے۔ عام آدمی اس بارے میں نہیں جانتا اس لیے معمول کے مطابق کام کرتا ہے۔ پروفیشنل ہر کام کو سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کرکے پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔
پروجیکٹ منیجمنٹ کو پانچ بڑے مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا مرحلہ انیشی ایشن ہوتا ہے۔ اس میں طے کیا جاتا ہے کہ پروجیکٹ کرنا چاہیے یا نہیں، اس کی ضرورت اور مقصد کیا ہے، اسٹیک ہولڈرز کون ہیں اور پھر چارٹر کی تشکیل یعنی یہ کام کیسے ہوگا۔ بہت سے پروجیکٹ ناکام ہوجاتے ہیں۔ اس لیے نئے پروجیکٹ شروع کرتے ہوئے ناکام پروجیکٹس کی دستاویزات دیکھی جاتی ہیں تاکہ آئندہ وہ غلطیاں نہ کی جائیں۔
دوسرا مرحلہ پلاننگ ہے جس میں پروجیکٹ کا اسکوپ یعنی کیا کیا کام کرنے ہیں، ان کا شیڈول اور ٹائم لائن، بجٹ، کمیونی کیشن پلان، رسک اور ٹیم کے ارکان طے کیے جاتے ہیں۔ تیسرا مرجلہ ایگزی کیوشن یعنی عمل درآمد کا ہوتا ہے۔ اس میں منصوبے کے مطابق کام کیا جاتا ہے، ٹیم کو منظم اور اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ رکھا جاتا ہے اور ڈیلیورایبلز تیار کیے جاتے ہیں۔
تیسرے مرحلے کے ساتھ چوتھا مرحلہ جاری رہتا ہے جو مانیٹرنگ اور کنٹرلنگ ہوتا ہے۔ یعنی پروجیکٹ کی پیشرفت پر نظر رکھنا، بجٹ اور شیڈول کو ٹریک کرنا، مسائل اور رسک کو قابو میں رکھنا اور ضرورت پڑنے پر مناسب تبدیلیاں کرنا۔
آخری مرحلہ کلوزنگ ہوتا ہے جس میں پروجیکٹ کی فائنل ڈلیوری، کلائنٹ یا اسپانسر سے حتمی منظوری، ٹیم کو ریلیز کرنا، ایسیٹس یا لیسن لرنڈ یعنی تمام دستایزات کو ترتیب دینا اور پروجیکٹ کو ختم کرنا شامل ہوتا ہے۔
یہ اسٹینڈرڈ پروجیکٹ منیجمنٹ ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کے ہر شعبے میں اسی طرح کام ہوتا ہے۔ پروجیکٹ منیجرز کی ہر جگہ مانگ ہے اور یہ مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر آئی ٹی میں سب سے زیادہ پی ایم پیز کام کرتے ہیں کیونکہ وہاں بہت اچھے معاوضے ملتے ہیں لیکن کنسٹرکشن میں بھی بہت طلب ہے۔
یہ سب تفصیل محض تمہید تھی۔ اصل مقصد امریکا کی طرف توجہ دلانا ہے۔ یہاں مشہور ہے کہ آپ کو کرسمس پر، یعنی دسمبر میں چھٹی چاہیے تو جنوری میں اہلائی کریں۔ اس قدر پہلے سے اور منصوبہ بندی سے کام کیے جاتے ہیں۔ اب سوچیں کہ کوئی پروجیکٹ شروع کرنے سے پہلے کتنا سوچا جاتا ہوگا اور بجٹ، شیڈول، ٹائم لائن، ٹیم، مال اور ڈلیوری کے کون کون سے امکانات پر غور نہیں کیا جاتا ہوگا۔
جنگ ایک بڑا پروجیکٹ ہوتا ہے۔ شاید سب پروجیکٹس میں سب سے بڑا پروجیکٹ۔ ممکنہ طور پر سیکڑوں ارب ڈالر کا پروجیکٹ۔ میں ان لوگوں کی باتیں سن کر حیران ہوتا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ ایک صبح صدر ٹرمپ کو خواب آیا یا نیتن یاہونے ضد کی تو انھوں نے پینٹاگون کو ایران سے جنگ کرنے کا حکم دے دیا۔
جنگ میں پہلی گولی، پہلا میزائل چلنے سے پہلے اس کی آخری گولی اور آخری میزائل تک کا حساب ویسے ہی لگایا جاتا ہے جیسے چیس ماسٹرز شطرنج کی اوپننگ سے شہ مات تک سب چالیں سوچ لیتے ہیں۔ اس میں اوفینس، ریٹریٹ اور متبادل پلان شامل ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا ایک طرف، مین اسٹریم میڈیا سے بھی دھوکا نہ کھائیں۔ میں نے پچیس سال نیوزروم میں گزارے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جنگ میڈیا کے لیے بزنس اور انٹرٹینمنٹ ہے۔ اخبارات کی سرخیاں اور نیوز چینلز کے پروگرام آپ کو باخبر کرنے کے لیے نہیں، پیسہ کمانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ لیفٹ اور رائٹ کا میڈیا ویسے بھی پروپیگنڈے کی جنگ لڑتا ہے۔
سیاست دانوں اور قائدین کے بیانات بھی دشمن کو ڈرانے یا بہکانے کے لیے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کے بیانات کے وہی مقاصد ہوں جو وہ بیان کررہے ہوں۔ آپ اتنے اہم نہیں ہیں کہ امریکا یا ایران کا صدر آپ کو مخاطب کرے۔ جنگ کے زمانے میں بیانات بھی جنگی حکمت عملی ہوتے ہیں۔
عام آدمی جنگ کو فٹبال میچ سمجھتا ہے جس میں کسی ٹیم کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے جیت جانا چاہیے۔ لیکن جنگیں ایسی نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات صرف ایک لیڈر یا جنرل کو مارنا ہدف ہوتا ہے۔ بعض اوقات حریف کو صرف انگیج رکھنا پیش نظر ہوتا ہے۔ بعض اوقات دشمن کی فوجی طاقت کا خاتمہ مقصد ہوتا ہے۔
جنگ کتنی چلے گی اور کس کے کیا کیا مقاصد ہیں، میں عام آدمی ہونے کی وجہ سے نہیں جانتا۔ لیکن پہلے ہفتے میں ایران کو دو محاذوں پر شکست ہوچکی ہے۔ ایک، اس کے سپریم لیڈر کو قتل کردیا گیا اور کوئی انھیں نہیں بچاسکا۔ دو، ایران نے جھنجلاہٹ میں پورے خطے کی ریاستوں پر حملے کرکے انھیں اپنا دشمن بنالیا۔ آج امریکا جنگ ختم کرکے نکل جائے تو بھی پچاس سال تک عرب ان ایرانی حملوں کو نہیں بھولیں گے۔ جنگ سے پہلے ایران جتنا تنہا تھا، جنگ کے بعد زیادہ تنہائی کا شکار ہوگا۔

