Kya Pakistan Ne Salamti Council Mein Iran Ke Khilaf Vote Diya?
کیا پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف ووٹ دیا؟

یہ سوال کافی اٹھایا جا رہا ہے، آئیے اس حوالے سے صورتحال کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔ کل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دو قراردادیں پیش ہوئیں، ایک روس کی طرف سے پیش ہوئی جس میں ایران و امریکہ و اسرائیل سمیت تمام فریقوں سے فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا گیا، دوسری طرف بحرین نے قرارداد پیش کی جس میں ایران کی طرف سے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی گئی۔
بحرین کی پیش کردہ قرارداد منظور کر لی گئی جس کی بیشتر ممالک نے حمایت کی جو تاریخی اعتبار سے بڑی تعداد ہے۔ صرف روس اور چین نے اس قرارداد پر اعتراض کیا اور کہا کہ قرارداد میں تنازعے کی اصل وجوہات بیان ہی نہیں کی گئیں۔ روس نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد تعصب پر مبنی ہے جس میں ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کا کوئی حوالہ نہیں ہے اور بغیر سیاق و سباق کے یوں لگے گا جیسے تہران نے خلیجی ممالک پر اچانک بلاجواز حملے کئے ہیں۔
روس نے یہ بھی واضح کیا کہ ان ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی ہے لہذا ایران ان ممالک میں فوجی اڈوں پر حملہ کرنے میں حق بجانب ہے۔ تاہم بحرین نے اس کی تردید کی کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوئی۔
دوسری طرف روس نے ایک قرارداد پیش کی جس میں تمام فریقین سے فوری لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس پر مطلوبہ ووٹ نہ مل سکے۔ صرف پاکستان، چین اور صومالیہ نے اس کے حق میں ووٹ دیے۔ اسی سے اقوام عالم کی ترجیحات سمجھ آتی ہیں، امریکہ و صیہونی ریاست کو ہر قسم کی جارحیت کا حق حاصل ہے لیکن وہی ملک، جس پر جارحیت کی گئی ہو، اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرے تو اس کے خلاف قراردادیں منظور ہوتی ہیں۔
اس معاملے میں دلچسپ کھیل پاکستان نے کھیلا ہے۔ پاکستان نے دونوں قراردادوں کے حق میں ووٹ دیے۔ روس اور چین نے کھل کر ایران کی حمایت کی جبکہ پاکستان نے سب کی حمایت کی۔
پاکستانی مندوب نے بحرین اور روس دونوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں کی قراردادیں پاکستان کی پوزیشن سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ایران پر 28 فروری کو ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ہم ایران کی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے ایران میں بچیوں کے اسکول پر حملے کی بھی مذمت کی جس میں بچیوں سمیت 168 افراد شہید ہوئے۔ ساتھ ہی اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان نے کہا کہ خطے کے ایک ملک کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ دوسرے ممالک کو جنگ میں دھکیل دے۔
تاہم بحرین کی قرارداد پر پاکستان کا موقف تھا کہ ہم خلیجی ممالک سے بھی اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ایران پر اصولی موقف رکھنے کے باوجود پاکستان اپنے خلیجی دوستوں کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا۔
ہم اس روش سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا موقف ایران کے متعلق بہت واضح اور دو ٹوک ہے جو موجودہ حالات کے تناظر میں بہت اہم ہے۔

