Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Makhi Kamal Urr Rahi Hai

Makhi Kamal Urr Rahi Hai

مکھی کمال اڑ رہی ہے

مراد سعید کی کتاب پر شور کتاب سے زیادہ اس بیانیے پر ہے جو برسوں سے تراشا گیا کہ خان صاحب ہی نجات دہندہ ہیں۔ جب اچانک وہ اپنے ہی بیانئیے کے متضاد ایک ایسی داستان پیش کریں جس میں مرکزی کردار مکمل طور پر بے بس دکھائی دے تو سوال پھر اٹھیں گے۔

مراد سعید کا سیاسی تعارف خود عمران خان صاحب کے بیانیے سے جڑا ہوا ہے۔ مراد سعید وہی ہیں جو کہتے تھے خان آئے گا، دو سو ارب ڈالر سوئس بینکوں سے لائے گا، امریکا کے منہ پر مارے گا۔ یہ اسی سیاسی مکتب کے نمائندہ ہیں جس نے خودمختاری، حقیقی آزادی اور فیصلے خود کرنے کا دعویٰ کیا۔ اب اگر کتاب کا خلاصہ یہ بنے کہ اصل فیصلے جنرل باجوہ کی قیادت میں جی ایچ کیو میں ہوتے تھے، وزراء ساتھ نہیں دیتے تھے اور وزیراعظم عملی طور پر تنہا تھے تو یہ صرف ایک اعتراف نہیں ایک تضاد ہے۔

یہاں اصل مسئلہ بیانیے کی ساخت ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا بریگیڈ کا دن رات پھیلایا بیانئیہ ہے۔ واحد مزاحمتی لیڈر، عالمی طاقتوں کے سامنے ڈٹ جانے والا کردار، امتِ مسلمہ کا آخری چراغ۔ دوسری طرف کتاب کا تاثر کہ ایک ایسا حکمران جس کے اختیار میں آئی جی کی تقرری یا تبدیلی تک نہیں، جس کی کابینہ اس کی نہیں، جس کی حکومت کے بڑے فیصلے کہیں اور طے ہوتے ہیں۔ جو عملاً لاچار و مجبور تھا۔ کتاب کا نچوڑ یہ ہے کہ جنرل باجوہ کنگ بنے ہوئے تھے وہ سب فیصلے خود کرتے تھے جبکہ سوشل میڈیا پر بیانئیہ یہ ہے رہا کہ امریکا نے اڈے مانگے تو اس کو ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ دیا۔ یہ دونوں تصویر ایک ساتھ درست نہیں ہو سکتیں۔ یا تو وہ سپرمین تھے یا پھر بے اختیار لاچار وزیر اعظم۔ دونوں بیانیے اکٹھے نہیں چل سکتے۔

پاکستانی سیاست میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی رہنما کو مسیحا بنایا گیا ہو۔ ہمارے ہاں لیڈر جلدی واحد نجات دہندہ بن جاتے ہیں اور پھر جلد ہی مظلوم ترین کردار بھی۔ مسئلہ شخصیت نہیں اجتماعی نفسیات ہے۔ یہاں دہائیوں سے ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے کہ لوگوں کے گروہ ایک فرد سے امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی ایک فرد نہ امت کو بچا سکتا ہے نہ ریاست کو۔ پائیدار تبدیلی جماعتی اصلاحات، پارٹی آئین اور سیاسی برداشت سے آتی ہے جبکہ لوگ ادارہ جاتی اصلاحات کے طویل اور صبر آزما عمل کے بجائے ایک کرشماتی حل چاہتے ہیں۔

اگر کتاب یہ کہتی ہے کہ اصل اختیار کہیں اور تھا تو یہ سوال اس حکمران کی شخصیت، اس کی فیصلہ سازی کی قوت اور اس کی عظمت پر اُٹھتا ہے اور اگر سوشل میڈیا بریگیڈ یہ کہتی ہے کہ وہ واحد نجات دہندہ ہیں تو یہ سوال ان کے سیاسی کلچر پر اٹھتا ہے۔ کیا ہم کبھی ایسی سیاست تک پہنچ سکیں گے جہاں کامیابی یا ناکامی کسی ایک فرد کے گرد نہ گھومے؟ جہاں پارٹی آئین، ادارہ جاتی بالادستی اور اجتماعی فیصلہ سازی اصل طاقت ہوں؟ جب تک اس سوال کا جواب "نہیں" ہے تب تک ہر دور میں ایسی کتابیں آتی رہیں گی، نئے نئے بیانئیے بنتے یا گول پوسٹ بدلتے رہیں گے اور ایک نیا دبنگ لیڈر دریافت ہوتا رہے گا۔

زیڈ اے بخاری کے ہاں لکھنو بھارت سے ایک ادیب ملاقات کو تشریف لائے۔ دورانِ گفتگو چائے پانی میں کچھ تاخیر ہوگئی تو زیڈ اے بخاری نے قریب سے گزرتے ملازم کو کہا ذرا خانساماں کو آواز مارنا۔ مہمان نے سنا تو بولے "بخاری صاحب! آپ صاحبِ ذوق و مطالعہ ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئیے کہ آواز ماری نہیں جاتی، آواز دی جاتی ہے"۔ بخاری بولے "آپ کے ہاں دی جاتی ہوگی، ہمارے ہاں تو ماری جاتی ہے"۔

بات یہ ہے کہ مملکت خداداد میں اسٹیبلشمنٹ آواز نہیں دیتی کہ آؤ ہمارے ساتھ مل کر حکومت بناؤ۔ وہ آواز مارتی ہے۔ یہ سب چی گویرے بھاگ کر جاتے ہیں پھر بعد میں سب روتے پھرتے ہیں مجھے کیوں نکالا، اوئے مسٹر ایکس مسٹر وائے، ہمارے تو بس میں ہی کچھ نہیں تھا اوپر جنرل فلانا بیٹھا ہوا تھا، تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، باجوہ حساب دو، یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے اور پھر کتابی نوحے آنے لگتے ہیں۔

اصولِ پرواز کی تعریف کے مطابق بطخ یا مرغی کی طرح مکھی کو بھی نہیں اڑنا چاہیے کیونکہ مکھی کا وزن اس کے پروں کے حجم اور وزن سہارنے کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر صاحبو یہاں بس مکھی اڑ رہی ہے اور کمال اڑ رہی ہے۔

Check Also

Ilaqai Aur Aalmi Taqat Ki Harkiat

By Mohammad Din Jauhar