Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab: Aik Ba Barkat Panah

Kitab: Aik Ba Barkat Panah

کتاب: ایک بابرکت پناہ

کہتے ہیں ایک بزرگ عالم کے پاس ایک نوجوان آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس کی زندگی میں بے چینی بہت ہے۔ کام بھی بہت ہیں، ملاقاتیں بھی بہت ہیں اور مصروفیات کا شور بھی ہر وقت اس کے گرد منڈلاتا رہتا ہے، مگر اس کے باوجود دل کو سکون نصیب نہیں ہوتا۔ بزرگ نے مسکرا کر اس سے پوچھا: "کیا تم کبھی کتاب کے ساتھ تنہائی میں بیٹھے ہو؟" نوجوان نے جواب دیا: "جی، وقت ہی نہیں ملتا"۔ بزرگ نے کہا: "بس یہی تمہاری بیماری ہے۔ جو شخص کتاب کے ساتھ تنہائی کا ذوق نہیں رکھتا، وہ دراصل خود اپنے دل سے دور ہو جاتا ہے۔ کتابیں انسان کو دوسروں سے نہیں، خود اپنے آپ سے ملاتی ہیں"۔ نوجوان نے حیرت سے پوچھا: "کیا واقعی ایک کتاب انسان کو سکون دے سکتی ہے؟" بزرگ نے جواب دیا: "اگر کتاب اچھی ہو تو وہ تمہیں دنیا کے شور سے نکال کر تمہارے دل کی خاموشی میں لے جاتی ہے اور یہی خاموشی سکون کی اصل منزل ہے"۔

انسانی زندگی کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر مصروف رہتے ہیں، مگر اس مصروفیت میں کوئی حقیقی معنی نہیں ہوتے۔ ہمارے دن فون کی گھنٹیوں، پیغامات، ملاقاتوں اور نہ ختم ہونے والی دوڑ دھوپ میں گزرتے ہیں۔ بظاہر ہم بہت کچھ کر رہے ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں ہم اپنے اندر سے دور ہوتے جا رہے ہوتے ہیں۔ جدید دنیا نے ہمیں بے شمار سہولتیں دی ہیں، مگر اس کے ساتھ ایک نہ ختم ہونے والی ہنگامہ خیزی بھی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ اس ہنگامہ خیزی میں انسان کو اپنے دل کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ایسے میں ایک اچھی کتاب گویا ایک خاموش دوست کی طرح ہمارے سامنے آ بیٹھتی ہے۔ وہ شور نہیں کرتی، مطالبہ نہیں کرتی، بلکہ آہستگی سے ہمیں اپنے ساتھ ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہے جہاں انسان اپنے اندر کی دنیا سے دوبارہ آشنا ہونے لگتا ہے۔

اچھی کتاب کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں غیر ضروری گہما گہمی اور خود ساختہ مصروفیات سے کچھ دیر ہی کو سہی، راحت فراہم کرتی ہے اور یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ انسان کی روح کو بھی ویسی ہی آسودگی درکار ہوتی ہے جیسی جسم کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب انسان کتاب کے اوراق کھولتا ہے تو دراصل وہ اپنے لیے ایک ایسا گوشہ پیدا کر لیتا ہے جہاں وقت کی رفتار بھی دھیمی ہو جاتی ہے اور ذہن کے بکھرے ہوئے دھاگے بھی آہستہ آہستہ سلجھنے لگتے ہیں۔ ایک اچھی کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ دنیا کی اصل حقیقت شور نہیں بلکہ فکر ہے، ہجوم نہیں بلکہ تنہائی ہے اور تیز رفتاری نہیں بلکہ ٹھہراؤ ہے۔ اسی لیے بڑے بڑے مفکرین نے کتاب کو انسان کی بہترین رفاقت قرار دیا ہے۔

کتابیں صرف معلومات نہیں دیتیں، وہ انسان کے باطن کو بھی سنوارتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کے اندر سوالات پیدا کرتی ہے، اس کے خیالات کو ترتیب دیتی ہے اور اس کے شعور میں ایک نئی وسعت پیدا کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں میں کتاب پڑھنے کی روایت زندہ رہتی ہے، وہاں فکری پختگی بھی پیدا ہوتی ہے۔ کتاب دراصل انسان کے ذہن کو تربیت دیتی ہے کہ وہ چیزوں کو محض سطحی انداز میں نہ دیکھے بلکہ ان کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ یہی وہ عمل ہے جو ایک عام انسان کو ایک باشعور انسان میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس اعتبار سے کتاب محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب کی تعمیر کا ایک بنیادی ستون ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اچھی کتاب انسان کو تنہا نہیں کرتی بلکہ اسے پوری انسانیت سے جوڑ دیتی ہے۔ جب ہم کسی عظیم مصنف کو پڑھتے ہیں تو دراصل ہم اس کے تجربات، اس کی سوچ اور اس کے احساسات کے ساتھ ایک خاموش مکالمہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ مکالمہ صدیوں کے فاصلے کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ ایک قاری جب کسی بڑے مفکر کی تحریر پڑھتا ہے تو گویا وہ وقت کی سرحدوں کو عبور کرکے اس کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ یہی کتاب کی اصل طاقت ہے کہ وہ انسان کو وقت، جگہ اور حالات کی قید سے آزاد کر دیتی ہے۔ اس طرح ایک اچھی کتاب نہ صرف انسان کو سکون دیتی ہے بلکہ اسے ایک وسیع تر فکری دنیا کا حصہ بھی بنا دیتی ہے۔

آج کے زمانے میں جب ہر طرف معلومات کی یلغار ہے، انسان کے لیے یہ فیصلہ کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ ہر تحریر کتاب نہیں ہوتی اور ہر کتاب انسان کو بہتر نہیں بناتی۔ اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جو انسان کے اندر روشنی پیدا کرے، اس کے شعور کو بیدار کرے اور اسے زندگی کے بارے میں زیادہ گہرا فہم عطا کرے۔ ایسی کتابیں انسان کو وقتی مسرت نہیں بلکہ دیرپا سکون فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے زندگی میں کتاب کو اپنا ساتھی بنا لیا، وہ اکثر دنیا کے شور سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ ان کے اندر ایک ایسی داخلی مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے جو انہیں ہر طرح کے ہنگاموں کے باوجود متوازن رکھتی ہے۔

اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ ہماری بہت سی مصروفیات دراصل ہماری اپنی پیدا کردہ ہیں۔ ہم نے اپنے گرد ایسے کاموں اور رابطوں کا جال بُن لیا ہے جن کے بغیر بھی زندگی چل سکتی ہے۔ مگر اس جال میں الجھ کر ہم اپنے لیے سکون کے وہ لمحے کھو دیتے ہیں جو دراصل ہماری روح کی غذا ہوتے ہیں۔ ایک اچھی کتاب ان گم شدہ لمحوں کو واپس لے آتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی صرف دوڑنے کا نام نہیں بلکہ رک کر سوچنے کا نام بھی ہے۔ جب انسان کتاب کے ساتھ بیٹھتا ہے تو وہ دراصل اپنی زندگی کے شور کو تھوڑی دیر کے لیے خاموش کر دیتا ہے اور اسی خاموشی میں وہ اپنے آپ کو زیادہ واضح انداز میں دیکھنے لگتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے بڑے بڑے اذہان نے کتاب کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنایا۔ مفکرین، فلسفیوں اور اہلِ علم کی زندگیوں میں کتاب محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ ایک روحانی ضرورت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ فکر کی آبیاری بغیر مطالعہ کے ممکن نہیں۔ کتاب انسان کے ذہن کو نہ صرف وسعت دیتی ہے بلکہ اسے عاجزی بھی سکھاتی ہے، کیونکہ مطالعہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ علم کا سمندر کتنا وسیع ہے اور انسان کی اپنی معلومات کتنی محدود ہیں۔ یہی احساس انسان کو متوازن اور سنجیدہ بناتا ہے۔

مختصر یہ کہ ایک اچھی کتاب انسان کو دنیا سے فرار نہیں دیتی بلکہ اسے دنیا کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ وہ انسان کو شور سے نکال کر شعور کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ مصروفیت کے ہجوم میں ایک لمحۂ سکون عطا کرتی ہے اور یہی لمحہ انسان کی زندگی میں توازن پیدا کر دیتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کتاب دراصل انسان کی روح کے لیے ایک پناہ گاہ ہے، ایک ایسی پناہ گاہ جہاں انسان کچھ دیر کے لیے دنیا کے شور سے نکل کر اپنے باطن کی خاموش روشنی میں بیٹھ سکتا ہے۔

کتاب محض کاغذ اور روشنائی کا مجموعہ نہیں ہوتی، یہ دراصل انسان کے باطن کی ایک کھڑکی ہے۔ جب یہ کھڑکی کھلتی ہے تو انسان کو اپنے اندر ایک نئی روشنی محسوس ہوتی ہے۔ یہی روشنی انسان کو مصروفیت کے ہجوم سے نکال کر سکون کے ایک ایسے راستے پر لے جاتی ہے جہاں فکر، شعور اور خاموشی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

کتاب کھولی تو اک اور ہی جہاں ملا
شعور جاگا تو دل کو نیا اماں ملا

ہجومِ شہر میں کھویا ہوا تھا میں کب سے
ورق پلٹتے ہی تنہائی کا نشاں ملا

یہ لفظ لفظ چراغوں کی ایک بستی ہے
جہاں بھی بیٹھا وہاں روشنی کا مان ملا

جو ڈھونڈتے تھے سکوں شور کی فضا میں ہم
کتاب میں وہی خاموش آسماں ملا

عجیب بات ہے دنیا کی بھیڑ میں لیکن
مطالعے سے مجھے میرا ہی مکاں ملا

Check Also

Makhi Kamal Urr Rahi Hai

By Syed Mehdi Bukhari