Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Khud Ki Qadar Ki Kamyabi Hai

Khud Ki Qadar Ki Kamyabi Hai

خود کی قدر ہی کامیابی ہے

انسان کی زندگی میں سب سے پہلی اور سب سے بڑی پہچان خود اپنی ہوتی ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ ہم سب سے آخر میں خود سے تعارف کرتے ہیں۔ ایک استاد روزانہ کلاس میں بچوں کو خود اعتمادی کا درس دیتا تھا مگر وہی استاد اپنے دفتر میں افسر کے سامنے نظریں جھکا کر کھڑا رہتا، حالانکہ اس کی قابلیت پر کسی کو شک نہ تھا۔ مسئلہ علم یا صلاحیت کا نہیں تھا، مسئلہ اپنی ذات کو کم تر سمجھ لینے کا تھا۔ ہم جب خود کو معمولی مان لیتے ہیں تو دنیا بھی ہمیں اسی خانے میں رکھ دیتی ہے۔

خود کو بے وقعت سمجھنا اکثر ہم عاجزی کا نام دے دیتے ہیں، حالانکہ یہ خاموش خود آزاری ہوتی ہے۔

دفتری ماحول کی ہی مثال لے لیجئے۔ ایک ملازم ہر کام "جی سر" کہہ کر قبول کر لیتا ہے، وقت، صحت اور عزت سب قربان کر دیتا ہے، مگر ترقی کسی اور کے حصے میں چلی جاتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے کبھی یہ باور ہی نہیں کروایا کہ اس کی محنت کی ایک قیمت ہے۔ دوسری طرف وہ شخص جو اپنی حدود واضح رکھتا ہے، کم بولتا ہے مگر وقت پر بولتا ہے، وہی احترام بھی سمیٹتا ہے۔

زندگی کے تعلقات میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ ایک دوست ہر وقت دستیاب رہتا ہے، ہر شکوہ سنتا ہے، ہر بار معاف کر دیتا ہے، مگر بدلے میں اسے صرف خاموشی ملتی ہے۔ کیونکہ اس نے خود کو ہمیشہ ایک سہولت کے طور پر پیش کیا، ایک ضرورت کے طور پر نہیں۔ جب انسان خود کو آپشن بننے دیتا ہے تو لوگ اسے ترجیح کیوں دیں؟

خود کو ویلیو کرنا غرور نہیں سکھاتا بلکہ توازن سکھاتا ہے۔ جیسے ایک دکاندار جسے معلوم ہو کہ اس کی چیز معیاری ہے، وہ نہ تو گاہک سے جھگڑتا ہے اور نہ ہی اپنی قیمت گرا کر منتیں کرتا ہے۔ وہ خاموشی سے کھڑا رہتا ہے اور گاہک خود اس کی طرف آ جاتا ہے۔ یہی اصول انسان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جو اپنی قدر جان لیتا ہے، اسے خود کو ثابت کرنے کے لیے شور نہیں مچانا پڑتا۔

دنیا دراصل ایک آئینہ ہے۔ ایک نوجوان جو ہر محفل میں خود کو کمتر ثابت کرتا ہے، لوگ بھی اس سے ویسا ہی برتاؤ کرتے ہیں۔ مگر وہی نوجوان جب خود پر یقین کرنا سیکھ لیتا ہے، اس کی نشست، اس کا لہجہ اور اس کی خاموشی تک بدل جاتی ہے۔ پھر لوگ اس سے رویہ بدل لیتے ہیں، کیونکہ اب وہ خود کو بدل چکا ہوتا ہے۔

آخر میں سچ یہی ہے کہ خود کی قدر کرنا سیکھ لینا زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ وہ خاموش طاقت ہے جو انسان کو نہ صرف دوسروں کی بے اعتنائی سے بچاتی ہے بلکہ اسے خود اپنے سامنے بھی سرخرو رکھتی ہے۔ کیونکہ جس دن انسان خود کو قیمتی سمجھنے لگتا ہے، دنیا اس دن اسے سستا نہیں سمجھ سکتی۔

Check Also

Kya Pakistan Ne Salamti Council Mein Iran Ke Khilaf Vote Diya?

By Syed Jawad Hussain Rizvi