Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Babar Ali
  4. Molvi Aur Samaj

Molvi Aur Samaj

مولوی اور سماج

سماج کے کئی مذہبی تصورات بدلتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی بنیاد مذہب نہیں، مولوی کا تصورِ مذہب ہوتا ہے۔ جیسے کل تک سینما میں فلم دیکھنے کو بے حیائی تصور کیا جاتا تھا۔ جس کسی کے بارے میں پتہ چل جاتا تھا کہ اس نے آج سینما میں فلم دیکھی ہے، تو ابا سوٹا لے کے پیچھے پڑ جاتا تھا، گھر بھر کی گالیوں اسے پڑتی تھیں اور تو اور چترا ہار دیکھنے پہ گھر کی عورتوں پہ پابندی ہوتی تھی۔ کبھی ٹی وی میں چتراہار (نغموں کی مالا، نغموں کا سلسلہ، گیتوں کا گلدستہ) لگا ہوتا اور بڑا بھائی آ جاتا تو عورتیں فوراََ چینل بند کر دیتیں یا یہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ جاتیں: اوہ پا جی آ گیا اے۔

مگر آج سارے گھر والے ٹی وی پہ اکٹھے فلم دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ گانے چل رہے ہوتے ہیں، بچے اپنے اپنے موبائلوں پہ ہر قسم کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ تو کلچر کو مولوی حضرات مذہب کا رنگ چڑھا دیتے ہیں اور قوم بھی مان جاتی ہے۔ جب ٹیکنالوجی کا سیلاب آتا ہے، تو یہ کلچر دُھول کے بادلوں کی طرح اڑ جاتا ہے۔ تصویر، ٹی وی، ڈش، کیبل، انٹرنیٹ بھی اسی قبیل کی چیزیں ہیں۔ جو کل تک حرام تھیں، مگر آج حلال ہو چکی ہیں۔

رؤف کلاسرا جب گھر والوں سے چھپ کر سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی فلمیں دیکھتا اور اس کی اماں کو پتا چل جاتا تو وہ اس کے بڑے بھائی مرحوم نعیم کلاسرا سے کہتیں کہ رؤف بگڑ رہا ہے۔ چھپ چھپ کر فلمیں دیکھتا ہے۔ اسے روک۔

یاد آیا، ٹی وی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ فلاں کے گھر میں شیطان ہے۔ جب بچے ضد کرتے کہ ہم نے بھی ٹی وی لانا ہے، تو مائیں رولا ڈالتیں، باپ شور مچاتے کہ ہم نے گھر میں شیطان نہیں لانا۔

نوٹ: مذہب صرف پیغمبر بیان کرتا ہے، جبکہ بعد والے بھلے وہ صحابی ہو، مذہب کی تشریح کرتے ہیں اور وہ تشریح درست بھی ہو سکتی ہے اور نادرست بھی۔

Check Also

Khud Ki Qadar Ki Kamyabi Hai

By Amer Abbas