Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Kiran Arzoo Nadeem
  4. Umar Aur Zindagi Mein Farq

Umar Aur Zindagi Mein Farq

عمر اور زندگی میں فرق

اس وقت دنیا کے حالات ٹھیک نہیں ہیں، جنگیں ہو رہی ہیں اور تیل کی قیمتیں دنیا بھر میں آسمان کو چھو رہی ہیں لیکن میرا دل اس وقت دنیا کے حالات سے بے خبر ہے۔

میں اب سمجھا دنیا کچھ نہیں، دنیا میرا دل ہے
بدل جانے سے اس کے رنگ ہر چیز کا بدلہ

اس دل میں میرے ابو کے انتقال کا دکھ یا غم اس قدر زیادہ ہے کہ میں دنیا کے اردگرد کے حالات سے بے خبر ہوں۔

اپنے پیارے جب ہم سے بچھڑ جاتے ہیں تو جو دل کی کیفیت ہوتی ہے اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، ایسا لگتا ہے کہ الفاظ آپ کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں، زبان کا زائقہ ختم ہوگیا ہے اور بس آپ کو کھانا ہے میکانیکی طریقے پر۔

سب کام کرنے ہیں بس مشین کی طرح سے
جو دنیا میں آیا ہے اس کو جانا ہے

لیکن بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے جن کا وجود ہماری زندگی ہوتا ہے۔

قائد اعظم نے انتہائی بیماری کی حالت میں اپنے عظم سے ہمیں پاکستان لے کر دیا لیکن ان کی زندگی اب بھی پاکستان کے استحکام کے لئے ضروری تھی۔

ہمارے ابو ہم چاروں بہن، بھائیوں کی تو کل کائنات تھے۔

انھوں نے تین بیٹیوں کی اس طرح پرورش کی کے ہمیں کبھی اف تک نہ کہا۔ لیکن پھر اچانک پوری عمر احتیاط کے ساتھ گزارتے گزارتے چند ماہ کی بد احتیاطی ان کو اپنی اگلی دنیا میں لے گئی، جہاں وہ بہت مزے میں ہیں۔

اقبال کی reconstruction of islam کو آسان اردو میں وضاحت سے لکھنے کی ایک کامیاب کوشش ہے جو کہ چودہ سو صفحات ہر مشتمل ایک ضحیم کتاب ہے جو تقریباََ ختم ہونے کے قریب تھی۔

ابو کے لئے death کا لفظ بولتے ہوئے دل کٹ سا جاتا ہے، لیکن صبح قرآن پڑھتے پڑھتے میں اس آیت پر ٹھہر سی گئی جب وہ عمر اور زندگی میں فرق کرتا ہے۔ عمر سالوں، مہینوں، ہفتوں سے ناپی جاتی ہے، ہم روز بولتے ہیں ساٹھ سال کی عمر 70 سال کی عمر ہوگئی۔ جب تک ہماری آخری سانس اس دنیا میں ہوتی ہے وہی انسان کی عمر ہوتی ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ زندگی خوشخال گزاری، عمر خوشخال گزاری نہیں کہتے۔

قرآن نے عمر اور زندگی میں فرق کیا ہے۔

ابو کی عمر 77 برس تھی 25 فروری کو ان کی عمر ختم ہوگئی، لیکن ان کی زندگی ختم نہیں ہوئی، زندگی آگے چلتی ہے، وہ تو زندہ انسانوں سے کہتا ہے

استجیبو للہ و لرسول ازا دعا کم لما یحیکم (8: 24)

اے چلتے پھرتے انسانوں۔ لبیک کرو، رسول کی اس دعوت پر۔ وہ یہ دعوت اس لئے دیتا ہے کہ تمھیں زندگی مل جائے کیوں، کیونکہ انسان کی جو زندگی ہے وہ تو حسن عمل سے عبارت ہے۔

خدا کے ہاں زندگی کا پیمانہ، انسانی اعمال کا پیمانہ ہے۔ زندگی اصل حیات ہے۔

اچھی خوراک کھانے سے صحت اچھی ہوتی ہے۔ اس سے زندگی کو فرق نہیں پڑتا۔ زندگی کو اچھے اعمال سے فرق پڑتا ہے۔

عمر تو طبعی اسباب سے مرتب ہوتی ہے جبکہ اچھے اعمال انسان کے ساتھ جاتے ہیں۔ ابو اکثر کہتے تھے کہ میں نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی، کسی کا حق نہیں رکھا، لیکن میرے ساتھ سب نے کیا کیا۔

ابو کی عمر تو ختم ہوگئی لیکن ان کی زندگی ان کے تمام اعمال کے ساتھ اگلی دنیا میں منتقل ہوگئی۔ ان کی زندگی اگلی منازل طے کرتی رہی گئی۔ جو آگے ہی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اور ہمارے اعمال پر منحصر ہے کہ ہماری زندگی آگے ہی آگے بڑھے گئی یا رک جائے گئی۔

Check Also

Molvi Aur Samaj

By Babar Ali