Hum Sab Bik Rahe Hain
ہم سب "بِک" رہے ہیں

میں نے ایک بار ایک بزرگ سے پوچھا، "بابا جی، آج کل کے دور میں سب سے مہنگی چیز کیا ہے؟" انہوں نے ایک گہری نظر ڈالی اور ہنستے ہوئے بولے، "بیٹا! صرف خاموشی"۔
مجھے کچھ عجیب سا لگا تو انہوں نے بات واضح کی، "آج کے دور میں ہر کوئی "بک" رہا ہے۔ کوئی اپنی رائے بیچ رہا ہے، کوئی اپنی اوقات اور کوئی اپنی عزتِ نفس۔ اس بازار میں صرف وہی شخص کامیاب ہے جسے اپنی اصلی قیمت کا پتہ ہے اور جو چپ رہ کر اپنی قیمت بڑھانا جانتا ہے"۔
آپ غور کریں، ہم کتنے بدقسمت ہو چکے ہیں۔ ہم نے "شور" کو علم اور "خاموشی" کو حماقت کا نام دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس ڈیجیٹل بازار میں ہر شخص خود کو "دانشور" سمجھتا ہے۔ کسی کو خبر نہیں کہ کیا کہنا ہے، بس ایک دھن سوار ہے کہ کچھ نہ کچھ "کہنا" ضروری ہے۔ ہم کانوں کے ذریعے اپنا دماغ روزانہ کچرے سے بھر رہے ہیں۔ ہم بھول چکے ہیں کہ ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ نے کتنا جامع اور سنہری اصول دیا تھا: "جو شخص اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے" (صحیح بخاری)۔
کتنا مکمل ضابطہِ اخلاق ہے یہ! اگر آج ہم صرف اسی ایک حدیث کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، تو معاشرے کا آدھا شور اور فتنہ خود بخود ختم ہو جائے۔ ہم نے اپنی نئی نسل کو یہ غلط سبق دے دیا ہے کہ جو چیخے گا، وہی جیتے گا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو سنے گا، وہی سیکھے گا۔ نبی کریم ﷺ کا ایک اور ارشادِ گرامی ہے: "جس نے خاموشی اختیار کی، اس نے نجات پائی" (جامع ترمذی)۔ آج کے اس مشینی دور میں، جہاں "کمیونیکیشن" کو ترقی کا سب سے بڑا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، ہم اس حقیقت سے غافل ہیں کہ ضرورت سے زیادہ بولنے والے اکثر اپنا وقار گنوا بیٹھتے ہیں۔ زبان اگر قابو میں رہے تو موتی ہے اور بے لگام ہو جائے تو زہرِ قاتل۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا یہ قول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہونا چاہیے کہ "خاموشی انسان کے علم کا سب سے بڑا ثبوت اور اس کے وقار کی بہترین محافظ ہے"۔
آپ خود سوچیے، کیا آپ کبھی کسی ایسے شخص سے ملے جو بہت زیادہ بولتا ہو اور بہت زیادہ سمجھدار بھی ہو؟ سمجھدار لوگ عموماً وہی ہوتے ہیں جو سننے کا فن جانتے ہیں۔ بولنا ایک عمل ہے، لیکن سننا ایک ریاضت ہے۔ آج کے دور میں "سناٹا" ملنا ایک نعمت بن چکا ہے۔ ہم نے تختی چھوڑ کر جدید آلات تو تھام لیے، مگر ان میں وہ "ٹھہراؤ" نہیں جو کبھی کانے کے قلم کی نوک میں ہوا کرتا تھا۔ تختی پر لکھتے ہوئے جو سکون اور دھیان ملتا تھا، وہ آج کے "نوٹیفیکیشنز" کے شور میں کہیں گم ہوگیا ہے۔
یاد رکھیں، جو شخص ہر وقت بولتا ہے، وہ اپنے اندر کی کھوکھلی دنیا کی نمائش کر رہا ہوتا ہے۔ خاموشی خود ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ جب آپ خاموش رہتے ہیں، تو آپ سامنے والے کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی حدود آپ کے سامنے بے نقاب کر دے۔ آپ خاموش رہ کر لوگوں کو پرکھ سکتے ہیں۔ آج کے دور میں "خاموشی" کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ سچائی کے خلاف زبان بند کر لیں، نہیں! اس کا مطلب ہے "غیر ضروری شور" سے اجتناب۔
آج کا معاشرہ ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں ہر شخص "اوپینین میکر" بننے کی دوڑ میں شامل ہے۔ ہم بغیر تحقیق کیے، بغیر سوچے سمجھے کسی بھی مسئلے پر اپنا فتویٰ صادر کر دیتے ہیں۔ یہ عمل دراصل ہمارے اخلاقی زوال کی نشانی ہے۔ ہم نے اپنی زبانوں کو بغیر کسی "فلٹر" کے چھوڑ دیا ہے۔ اسی لیے ہمارے الفاظ میں سے تاثیر کا عنصر ختم ہوگیا ہے۔ جب انسان کا ہر لفظ تول کر ادا ہوتا ہے، تو اس کے الفاظ میں ایک وزن ہوتا ہے۔ لیکن جو انسان لاؤڈ اسپیکر کی طرح ہر وقت چیختا رہتا ہے، اس کے الفاظ کی وقعت وقت کے ساتھ خاک میں مل جاتی ہے۔
آئیے، آج سے ایک عہد کریں۔ اپنی تحریروں میں، اپنی باتوں میں اور اپنے سوشل میڈیا کے اظہار میں ایک "ٹھہراؤ" پیدا کریں۔ کم بولیں، مگر جو بولیں وہ وزن رکھتا ہو۔ اپنے قلم کو دوات میں ڈبونے سے پہلے، اپنے ضمیر کی کسوٹی پر ضرور پرکھیں کہ کیا یہ بات کہنا ضروری بھی ہے؟
شورِ محفل میں جو کھو جائے، وہ ہستی کیسی؟
جو خاموشی میں خود کو پا لے، وہی بستی کیسی؟
آج کا میرا آپ کو مشورہ صرف ایک ہے: ذرا ٹھہریے! ذرا خاموش ہو جائیے! اپنے اندر کی اس دبی ہوئی آواز کو سنیے جو اس بے معنی شور کے نیچے دم توڑ رہی ہے۔ جب آپ چپ رہنا سیکھ جائیں گے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ کتنی بڑی طاقت کے مالک ہیں۔ دنیا آپ کے بولنے کی منتظر نہیں ہے، دنیا آپ کے "ٹھہر جانے" کی منتظر ہے۔ اپنی قیمت بڑھائیے، بولنا کم کیجیے اور سننا شروع کیجیے۔ کیونکہ جس دن آپ نے خاموشی کا وقار سیکھ لیا، اس دن آپ نے آدھی دنیا فتح کر لی۔ یاد رکھیں، خاموشی صرف ایک عمل نہیں، یہ ایک عبادت ہے، یہ ایک فن ہے اور یہ ایک بہت بڑی طاقت ہے۔

