Saturday, 21 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Akhtar Sardar Chaudhry
  4. Madri Zuban Ka Aalmi Din

Madri Zuban Ka Aalmi Din

مادری زبان کا عالمی دن

زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ ایک قوم کی روح، اس کی تاریخ، تہذیب، شناخت اور اجتماعی شعور کی سب سے بڑی امین ہوتی ہے۔ یہ وہ پل ہے جو نسلوں کو جوڑتا ہے، ثقافتوں کو زندہ رکھتا ہے اور انسانی تنوع کو رنگین بناتا ہے۔ اسی شعور کو بیدار کرنے اور مادری زبانوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) نے 1999ء میں 21 فروری کو عالمی مادری زبان کاخاص دن قرار دیاتھا۔ یہ تجویز بنگلہ دیش کی طرف سے پیش کی گئی تھی، جو 1952ء میں ڈھاکہ میں بنگالی زبان کے لیے جدوجہد کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ 2000ء سے یہ دن دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے اور 2025ء میں اس کی 25ویں سالگرہ منائی گئی، جو لسانی تنوع کے تحفظ کی عالمی کاوشوں کی عکاسی کرتی ہے۔ آج 2026ء میں ہم اس دن کو منا رہے ہیں، یہ موقع نہ صرف جشن کا ہے بلکہ خود احتسابی کا بھی ہے۔

عالمی سطح پر یہ دن سیمینارز، ثقافتی واکس، مباحثوں اور تقریبات کے ذریعے منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو مادری زبان کی تہذیبی، تعلیمی اور فکری اہمیت کا احساس دلایا جائے۔ یونیسکو کی رپورٹس کے مطابق دنیا میں تقریباً 7ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں، لیکن ان میں سے ہزاروں خطرے کی زد میں ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 40 فیصد سے زائد عالمی آبادی کو اپنی مادری زبان میں تعلیم نہیں ملتی، جو تعلیمی ناکامی اور ثقافتی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ یونیسکو کے مطابق تقریباً 25سو سے زائد زبانیں شدید خطرے میں ہیں اور 200 سے زائد مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہیں۔ یہ اعداد محض شمار نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کے بڑے حصوں کے خاتمے کی خبردیتے ہیں۔ زبانوں کی معدومیت کے ساتھ ساتھ روایتی علم، موسیقی، ادب اور ثقافتی ورثہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یونیسکو کی حالیہ دستاویزات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مادری زبان پر مبنی تعلیم بچوں کی خود اعتمادی، تجسس اور علمی ترقی کو فروغ دیتی ہے، جو پائیدار معاشروں کی بنیاد رکھتی ہے۔

ایک سوال جو بار بار ذہن میں اُبھرتا ہے، کیا محض ایک دن منانے، نعرے لگانے اور تقاریر کرنے سے زبانیں زندہ رہ سکتی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ زبانوں کا تحفظ تقریبات اور بیانات سے نہیں، بلکہ مستقل پالیسیوں، تعلیمی اصلاحات، میڈیا کی ذمہ داری اور سماجی رویوں کی تبدیلی سے ممکن ہے۔ اگر ہم عالمی سطح پر دیکھیں تو یونیسکو کی "دیکیڈ آف انڈیجینس لینگویجز" جیسی مہمات اس سمت میں اہم ہیں، جو 2026ء میں اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ مہم مقامی زبانوں کی حفاظت اور اشاعت پر زور دیتی ہے، خاص طور پر ایشیا اور افریقہ جیسے خطوں میں جہاں لسانی تنوع سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان لسانی تنوع کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ملک میں 74 سے زائد زبانیں اور لہجے بولی جاتے ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے پنجابی تقریباً 48 فیصد، سندھی 12 فیصد، سرائیکی 10 فیصد، پشتو 8 فیصد، اردو 8 فیصد، انگریزی 8 فیصد، بلوچی 3 فیصد، ہندکو 2 فیصد اور براہوی ایک فیصد افراد کی مادری زبان ہے، یونیسکو کے مطابق پاکستان کی 27 سے زائد زبانیں شدید خطرے میں ہیں، ایک حالیہ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ سرائیکی جیسی بڑی زبان بھی سماجی اور تعلیمی دباؤ کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہے۔ پاکستان مادری زبانوں کے تحفظ کے حوالے سے دنیا میں 28ویں نمبر پر ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

اس صورتحال کا سب سے بڑا المیہ ہماری تعلیمی پالیسی ہے۔ ابتدائی تعلیم میں مادر زبان کو کوئی جگہ نہیں دی جاتی۔ ماہرین تعلیم بار بار تاکید کرتے ہیں کہ کم از کم کلاس پانچ تک بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دی جائے۔ اس سے بچے کی فکری بنیاد مضبوط ہوتی ہے، سائنسی سوچ پروان چڑھتی ہے، خود اعتمادی بڑھتی ہے اور احساسِ کمتری ختم ہوتا ہے۔ یونیسکو کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان میں تقریباً 55 لاکھ بچے کبھی سکول نہیں جاتے اور سکول جانے والوں میں سے ہر سال لاکھوں تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔

135 ممالک میں سکول سے باہر رہنے والے بچوں کے حوالے سے پاکستان کا مقام 134واں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ابتدائی تعلیم میں مادر زبان کا فقدان ہے۔ حالیہ پیشرفتوں میں پنجاب اسمبلی میں 2025ء میں ایک بل پیش کیا گیا جس کے مطابق پرائمری سطح پر مادری زبان (جیسے پنجابی، سرائیکی) کو لازمی مضمون بنایا جائے گا۔ یہ بل سرکاری اور نجی سکولوں سمیت مدارس میں بھی نافذ ہوگا اور ضلعی سطح پر زبانوں کو نوٹیفائی کیا جائے گا۔ یہ تجربات اُمید کی ایک کرن ہیں، لیکن قومی سطح پر انہیں اپنانے کی ضرورت ہے۔

ہمارے سکولوں میں اکثر انگریزی کو مسلط کیا جاتا ہے، جبکہ بعض مدارس میں اسے ناپسند کیا جاتا ہے، نتیجتاً اس سے ایک طرف فکری غلامی جنم لیتی ہے اور دوسری طرف انتہا پسندی۔ مگر دیکھیں کہ چین، جاپان، ترکی، جرمنی، فرانس اور کوریا جیسی قومیں اپنی مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم اور سائنسی ترقی کر رہی ہیں۔ انگریزی ان کے لیے ایک اضافی ہنر ہے، قومی شناخت بھی نہیں ہے۔ چین کے سابق وزیراعظم کا قول ہے کہ "چین بے زبان نہیں ہے" ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے پاکستانی پارلیمنٹ میں ترکی زبان میں خطاب کرکے واضح پیغام دیا کہ ترقی اپنی زبان کے ساتھ بھی ممکن ہے۔

ہمارے ہاں اکثر مادری زبان بولنے والے کو جاہل سمجھا جاتا ہے۔ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی یا سرائیکی بولنے والا اکثر "غیر تعلیم یافتہ" کا لیبل لگا لیتا ہے۔ یہ احساسِ کمتری ہماری سب سے بڑی قومی کمزوری ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ پرائمری سطح تک مادری زبان میں تعلیم کو لازمی بنایا جائے، تمام صوبائی زبانیں نصاب کا حصہ ہوں، لسانی تنوع کو قومی اثاثہ تسلیم کیا جائے۔ میڈیا، خاص طور پر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، مقامی زبانوں میں مواد کی ترویج کرے۔ ادبی اور تحقیقی اداروں کو مادری زبانوں کے تحفظ کے لیے فنڈز اور منصوبے دیے جائیں۔ بچوں میں اپنی زبان سے فخر اور خود اعتمادی پیدا کی جائے۔

یونیسکو کی حالیہ دستاویزات میں پاکستان کے لیے خصوصی توجہ دی گئی ہے، جہاں مقامی زبانوں کی موسیقی، شاعری اور دستکاریاں بھی خطرے میں ہیں۔ اگر ہم نے اپنی زبانیں نہ بچائیں تو نہ صرف ہماری تہذیبیں مٹ جائیں گی، بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اپنی جڑوں سے کاٹ دی جائیں گی۔ مادر ی زبان کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فخر محض نعروں میں نہیں، عملی اقدامات میں ہونا چاہیے۔ زبان زندہ رہے گی تو ہم زندہ رہیں گے۔

Check Also

Ghareeb Ke Liye Rerhi, Ashrafia Ke Liye Runway

By Syed Mehdi Bukhari