Riyasti Tarjeehat Ka Sawal
ریاستی ترجیحات کا سوال

ایک طرف حکومتی بیانات میں ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے دعوے سنائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب پنجاب کے ہزاروں سرکاری ملازمین اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے دس روز تک کھلے آسمان تلے سڑکوں پر دھرنا دیے بیٹھے رہے۔ ملک کی مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات نے دھرنے میں شرکت کرکے اظہارِ یکجہتی کیا اور حکومت سے ملازمین کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے اس تمام عرصے میں مسلسل خاموشی، بے حسی اور بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا۔ بالآخر دس دن بعد مسئلے کے حل کے بجائے ایک مرتبہ پھر معاملہ ٹالنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
حکومت اور اس کے حامی حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ سرکاری خزانہ خالی ہے، وسائل محدود ہیں اور موجودہ معاشی حالات ملازمین کے مطالبات تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ بظاہر یہ دلیل معقول محسوس ہوتی ہے، مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ مالی مشکلات کا بوجھ ہمیشہ عوام پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے، جبکہ حکمران طبقہ اپنی مراعات اور اخراجات کم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا؟
عوام کے لیے خزانہ خالی قرار دیا جاتا ہے، لیکن حکمرانوں کی مراعات میں کبھی کمی دکھائی نہیں دیتی۔ تنخواہوں میں اضافے، پروٹوکول، مہنگی گاڑیوں، سرکاری اخراجات اور شاہانہ طرزِ زندگی کے لیے وسائل ہمیشہ دستیاب رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے استعمال کے لیے گلف اسٹریم GVII-G500 جیسے جدید اور پرتعیش طیارے کی خریداری کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں تقریباً 38 سے 42 ملین ڈالر، یعنی دس ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔
اصل مسئلہ محض ایک طیارے کی خریداری نہیں، بلکہ ریاستی ترجیحات کا تعین ہے۔ جب ایک طرف حکومت یہ مؤقف اپنائے کہ عوام کے حقوق ادا کرنے کے لیے خزانہ خالی ہے اور دوسری طرف اربوں روپے حکومتی آسائشوں پر خرچ کیے جائیں تو سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ یہی خطیر رقم تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی شعبوں کی بہتری پر صرف کی جا سکتی تھی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں استعمال ہو سکتی تھی۔
ریاست کا تصور انصاف، توازن اور ترجیحات کے درست تعین پر قائم ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے موجودہ طرزِ حکمرانی میں یہ توازن کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اگر حکومت اپنی سہولتوں اور آسائشوں کے لیے وسائل فراہم کر سکتی ہے تو اسے ملازمین کے جائز حقوق کی ادائیگی کو بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ ترجیح دینا چاہیے۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے شہریوں اور ملازمین کے اعتماد کو مقدم رکھے، نہ کہ انہیں مسلسل انتظار اور یقین دہانیوں پر چھوڑ دے۔

