Ye Ghazi Ye Tere Purisrar Bande
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے

وقت کے دریچوں پر بیس برس کی دستک سنائی دیتی ہے مگر دل کی دہلیز پر ان کی آہٹ آج بھی ویسی ہی تازہ ہے۔ بچھڑنے والے اگر صرف جسم سے جدا ہوں تو یادوں کے موسم کبھی خزاں نہیں ہوتے۔ اباجی بھی ایسے ہی تھے۔ سایہ دار درخت کی طرح جنکی ٹھنڈی چھاؤں میں ہم نےزندگی کی پہلی دعائیں، پہلی ہدایات اور پہلی امیدیں سیکھیں۔ بیس سال ایک صدی جیسے لگتے ہیں۔ مگر ان کی مسکراہٹ، ان کی نصیحتوں کی گونج اور ہمارت سروں پر شفقت کا ہاتھ آج بھی وقت کی گرد سے محفوظ ہے۔ وہ ہمیں سکھا گئے کہ رزق صرف روٹی کا نام نہیں، کردار بھی رزق ہوتا ہے اورعزت مانگے سے نہیں بلکہ سچائی اور محنت سے کمائی جاتی ہے۔
آج ان کی بیسویں برسی پر دل ایک چراغ کی طرح جل رہا ہے جو غم کا بھی ہے اور فخر کا بھی ہے۔ غم اس جدائی کا جو کبھی کم نہیں ہوا اور فخر اس نسبت کا کہ ہم ایسے باپ کی اولاد جس نے اپنی خاموشی سے ہمیں بولنا، اپنی سادگی سے ہمیں جینا اور اپنی دعا سے ہمیں سنبھلنا سکھایا۔ آج بیس سال بعد بھی ہماری اگر کوئی پہچان ہے تو ان کی شخصیت کا سحر ہے جو لوگوں کو ہمارے اندر ان کی تھوڑی سی جھلک ضرور دکھاتا ہے۔ اباجی! بیس سال بیت گئے مگر آپ کی دی ہوئی روشنی ابھی تک ہمارے راستوں کو منور کئے ہوئے ہے۔ آپ ہماری دعاوں میں زندہ ہیں، ہماری شبہاتوں اور عادتوں میں موجود ہیں اور ہماری ہر کامیابی کے پیچھے آپ کی محنت کا عکس صاف جھلکتا ہے۔
اباجی لفٹیننٹ (ر) محمد ایاز خان کی آج بیسویں برسی پر جب ہم یادوں کے چراغ روشن کرتے ہیں تو صرف ایک شفیق باپ کا چہرہ ہی نہیں ابھرتا بلکہ وطن کے ایک بہادر مجاہد اور غازی فوجی افسر، ایک سماجی کارکن، ایک دین دار انسان کی مکمل تصویر آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوتی ہے جو پاکستان کے پہلےاوٹی ایس میں کمیشن حاصل کرنے والے بہادروں میں شامل تھے۔ بیس سال بعد بھی ان کی زندگی کا ہر باب آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا مینار ہے انہوں نے تحریک پاکستان کی جدوجہد کے دوران اپنے بیوی بچے اور خاندان کی شہادتوں کا نذرانہ دیا ان کے گھر کو جلا دیا گیا۔ پھر پاکستان پہنچ کر انہوں نے فوجی وردی میں وطن کی سرحدوں کی حفاظت کو عبادت سمجھا اور جس نے قیام پاکستان کے فوراََ بعد کشمیر کی جنگ میں اپنے لہو سے تاریخ کے ابتدائی اوراق تحریر کئے پھر چھ ستمبر کی جنگ کے معرکہ میں سینہ سپر ہو کر دشمن کے دانت کھٹے کردیے اور1971ء کی آزمائش میں ملک و قوم سے وفاداری کا علم بلند کیا اور شدید زخمی ہونے کے باوجود دوسال کی طویل قید کی اذیتیں برداشت کیں۔
ڈسپلن ان کا شعار تھا، اپنی فوجی وردی سے عشق اور ملک وقوم سے وفاداری ان کی پہچان تھی۔ ان کے لیے فرض صرف ملازمت نہ تھا، عہدہ نہ تھا بلکہ ایک عہد تھا ایک ایسا عہد جس کی پاسداری انہوں نے ہر حال میں کی چاہے وہ آزاد کشمیر کی آزادی کی جنگ ہو یا پاکستانی سرحدوں کی حفاظت ہو یا پھر مشرقی پاکستان میں شدید زخمی ہوکر طویل جنگی قید کاٹنا ہو یا پھر سماجی اور دینی خدمات ہوں۔ وطن اور دین سے محبت ان کے لہجے میں بھی تھی اور عمل میں بھی دکھائی دیتی تھی۔ ان کے سینے پر سجا ہر جنگی تمغہ ان کی شجاعت اور بہادری کا گواہ تھا تو ان کی درویشانہ زندگی اپنے دین اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی پیروی کا ثبوت تھی۔ شوق شہادت اور عشق رسول اور اہل بیت سے محبت سے سرشار سراپا ان کی درویشانہ پہچان تھی۔ انہوں نے پوری زندگی حضرت ابوذر غفاریؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے درویشی میں گزاری۔
اباجی کی بیسویں برسی پر جب ہم ان کی عسکری زندگی کے اوراق الٹتے ہیں تو 1947-48 کی وہ گھمسان کی گھڑیاں یاد آتی ہیں جب وطن عزیز پاکستان ابھی نوزائیدہ تھا اور ہرسمت آزمائشوں کے بادل منڈلا رہے تھے۔ انہی دنوں اباجی نے ایک سپاہی کے طور پر بلکہ ایک بہادر اور باوقار کمانڈر کی حیثیت سے اپنے ساتھیوں کی قیادت کا فریضہ ادا کیا۔ ان ہی کے زیر کمان لڑنے والے ان کے ایک پلاٹون کمانڈر اور جانباز سپاہی نائیک سیف علی جنجوعہ شہید نے شجاعت کی ایسی تاریخ رقم کی کہ دشمن بھی اعتراف پر مجبور ہوا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود مورچہ نہ چھوڑااور جان کی بازی لگا کر وطن کی حرمت کا دفاع کیا۔ ان کی بےمثال بہادری کے اعتراف میں نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کو پاکستان کا اعلیٰ ترین عسکری اعزازنشان حیدر عطا کیا گیا۔ یہ داستان شجاعت اباجی کے بہادرانہ ذکرکے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوتی کیونکہ یہ اعزاز صرف ایک فرد کی بہادری کی سند نہیں تھا بلکہ اس قیادت کی بھی گواہی تھا جس نے اپنے جوانوں میں حوصلہ، نظم اور حب الوطنی کی روح پھونکی۔ اباجی ہمیشہ فخر سے اپنے ساتھیوں کا ذکر کرتےمگر اپنی ذات کو پس منظر میں رکھتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اصل عظمت ان جوانوں کی ہے جو وطن پر قربان ہو گئے۔
فوجی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی اور دینی زندگی بھی روشن تھی، ملک وقوم کے ساتھ ساتھ اپنے شہر، علاقے کے مسائل ہوں یا کسی غریب کی مدد وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ ان کی طویل سماجی خدمات کی بنا پر انہیں بےشمار سول اعزازت کے ساتھ ساتھ "بابا سماج" کا خطاب بھی دیا گیا۔ ان کی پوری زندگی دکھی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مثال تھی۔ دینی خدمات میں ملک بھر میں سیرت کانفرنس کی ابتدا، پاکستان میں پہلے بیت المال کا بہاولپور سے اجراء اور مذہبی ہم آہنگی اور باہمی یکجہاتی کے لیے جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائیں گیں۔ حضرت خواجہ حسن نظامیؒ کے روحانی فرزند اور مرید خاص ہونے کی وجہ سے ان کی ہدایت پر برصغیر کی سب بڑی لائبریری درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ پر قیام اور ترتیب میں کلیدی کردار ادا کیا اور "ندیم نظامی" کا خطاب پایا۔ وسیع مطالعہ کی باعث تحریر و تقریر کے بے تاج بادشاہ تھے اور انگریزی، اردو، فارسی اور عربی پر عبور رکھتے تھے۔
1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھی ان کی استقامت اور فرض شناسی قائم رہی اور انہیں ہر جنگ کے دوران بہادرانہ کارناموں پر مختلف فوجی جنگی اعزازت سے نوازا گیا۔ مگر ان کے لہجے میں کبھی فخر اور غرور نہ آیا۔ ان کی زندگی ہمیں سبق دیتی ہے کہ تمغے سینے پر سجتے ہیں مگر اصل وقار دل کے اندر بسنے والی سچائی اور وفاداری میں ہوتا ہے۔ آج ان کی برسی پر ہم نہ صرف ایک شفیق باپ کو یاد کرتےہیں بلکہ ایک ایسے سپاہی اور قائد کو خراج تحسین پیش کرتےہیں جس کی قیادت میں پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے شہیدوں اور غازیوں نے ایک ناقابل فراموش تاریخ رقم کی۔ آج ان کی بیسیوں برسی پر پاکستان کے لیے ان کی جنگی وسماجی اور دینی خدمات کی طویل جدوجہد اورداستان شجاعت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اباجی اوران کے شہدا ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی بے مثال قربانیوں کی لاج رکھنے کی توفیق عطا کرئے آمین!
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندئے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحراودریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیزہے لذت آشنائی

