Tuesday, 17 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Rishton Ke Qabristan Mein Saji Aik Screen, Hum Ne Kya Kho Diya?

Rishton Ke Qabristan Mein Saji Aik Screen, Hum Ne Kya Kho Diya?

رشتوں کے قبرستان میں سجی ایک سکرین، ہم نے کیا کھو دیا؟

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں "رابطہ" تو ہے، مگر "تعلق" کا وجود ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا عجیب عہد ہے جہاں انسان اپنے گھر کے دوسرے کمرے میں موجود فرد کو میسج تو بھیج سکتا ہے، مگر اس کے پاس بیٹھ کر دو لمحے سکون کی بات کرنا محال ہوگیا ہے۔ یہ محض کوئی فلسفیانہ گفتگو نہیں، بلکہ ہمارے گھروں کی وہ تلخ حقیقت ہے جس سے ہم مسلسل آنکھیں چرا رہے ہیں۔

ہماری زندگیوں میں اب "وقت" کی وہ قدر و قیمت نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ ایک شخص اپنے بیمار والدین کے لیے بازار سے دوا لینے نکلتا ہے، مگر عین اس وقت جب اسے تیزی سے گھر پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک کے کنارے کسی بے معنی واقعے کی ویڈیو بنانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ ایک ویڈیو، ایک پوسٹ یا ایک لائیو سٹریم اس کے لیے والدین کی تکلیف سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اسے یہ خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس ڈیجیٹل مصروفیت میں کتنا قیمتی وقت بیت گیا۔ جب وہ گھر پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس کی تیمارداری کرنی تھی، وہ تو کب کا مالکِ حقیقی سے جا ملا۔ تب پچھتاوے کی ایک ایسی لہر دوڑتی ہے جو ساری زندگی کا سکون برباد کر دیتی ہے۔ تب ہوش تو آتا ہے، مگر تب تک وقت کا پہیہ بہت آگے نکل چکا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہم نے "مصنوعی زندگی" کا ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کر لیا ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج ہم کسی تقریب میں جاتے ہیں، تو ہمارا اولین مقصد اپنوں سے ملنا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسی تصویر لی جائے جو سوشل میڈیا پر لوگوں کو متاثر کر سکے؟ ہم نے اپنے لمحوں کو "جینے" کے بجائے انہیں "دکھانے" پر وقف کر دیا ہے۔ ہم والدین کی خدمت کرنے کے بجائے ان کے ساتھ بنائی گئی تصویروں کے 'لائیکس' کی گنتی میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے تب تباہ نہیں ہوئے جب بیرونی دشمنوں نے حملہ کیا، بلکہ تب برباد ہوئے جب ان کے اندرونی رشتے کھوکھلے ہو گئے۔ آج ہم جسمانی طور پر گھر میں بیٹھے ہیں، مگر ہمارا دماغ کسی اور دنیا کی سکرین پر ہے۔ ہم اپنے بزرگوں کی آنکھوں میں جھانکنے کے بجائے موبائل کی بے جان سکرین میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ یاد رکھیے، لائیکس اور کمنٹس کی یہ دنیا محض ایک سراب ہے۔ جس دن سکرین کی یہ مصنوعی روشنی بجھتی ہے، اس دن احساس ہوتا ہے کہ ہمارا کمرہ اور ہماری زندگی کتنی خالی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کا ایک باقاعدہ ٹائم ٹیبل بنائیں اور خود کو مثبت کاموں میں مصروف رکھیں۔ پانچ وقت کی نماز کی پابندی کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ سجدوں کا سکون ہی انسان کو بھٹکنے سے بچاتا ہے۔ اپنے والدین اور پیاروں کا خیال رکھیں، ان کی خدمت کریں اور انہیں اپنا وقت دیں، کیونکہ دنیا میں رشتوں کے لمس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

میری تمام پڑھنے والوں سے ایک التجا ہے کہ یہ وقت کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ اپنے والدین کے ہاتھوں کو تھامیں، ان کی باتیں سنیں اور ان کی موجودگی کو غنیمت جانیں، اس سے پہلے کہ یہ موقع آپ کے ہاتھ سے نکل جائے۔ دوا لانے میں تاخیر نہ کریں اور غیر ضروری ویڈیو سازی میں وقت نہ گنوائیں، کیونکہ بچھڑ جانے والے لمحات دوبارہ نہیں ملتے۔ زندگی سکرین کے پیچھے نہیں، بلکہ رشتوں کے احساس میں ہے۔ جس دن ہم نے سکرین کو چھوڑ کر انسان کو اہمیت دینا شروع کر دی، اسی دن سے ہمارے رشتوں کا یہ قبرستان پھر سے زندگی کی بہاروں کی طرف لوٹ آئے گا۔

اللہ ہمیں ہوش کے ناخن لینے کی توفیق عطا فرمائے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

Check Also

Rishton Ke Qabristan Mein Saji Aik Screen, Hum Ne Kya Kho Diya?

By Peer Intizar Hussain Musawir