Tuesday, 17 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Shadion Ke Naye Rujhanat

Shadion Ke Naye Rujhanat

شادیوں کے نئے رجحانات

گذشتہ دنوں میں دوستوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کی کئی شادیوں کی تقریبات میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جہاں ایک نیا طرز ثقافت دیکھنے کو ملا۔ گو ہماری شادیاں ہمیشہ ہی نئے نئے رجحانات اور رواج کو جنم دیتی چلی آئی ہیں مگر پرانے رسم ورواج بھی ساتھ ساتھ جاری رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ شادی انسانی زندگی کا سب سے اہم اور مقدس رشتہ ہے یہ نہ صرف دوافراد بلکہ دو خاندانوں کا ملاپ ہوتا ہے مگر موجود دور میں شادی کے معاملات پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ، مشکل اور مہنگے ہوتے جارہے ہیں۔

جدید مصروفیات، بدلتی اقدار اور معاشرتی رویے نے اس سفر کو مہنگا ہی نہیں دشوار بھی بنا دیا ہے۔ جو معاشرتی اور مالی دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ پابندیوں کے باوجود قیمتی بری اور جہیز کا سلسلہ وہی پرانا ہے اور زیوارت کے لیے سونا خریدنا تو اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ عام آدمی صرف سوچ ہی سکتا ہے یہ سب کر نہیں سکتا اور یہی یقیناََ نکاح جیسے نیک عمل کو مشکل ترین بنا رہا ہے۔ چاہے وہ نکاح کے چھوارئے ہوں یا دودھ پلائی اور جوتا چھپائی، رخصتی کی رسم ہو ان کے طریقوں میں جدت ضرور آئی ہے مگر بات وہی پرانی ہے۔

مایوں اور مانجھے، ابٹن ہلدی، ڈھولکی جیسی رسموں سے آغاز ہوتا ہے پھر مہندی، سہرا بندی، برات، ولیمہ سب وہی پرانی رسمیں ہیں مگر ان میں جدت کا عنصر انڈین اور پاکستانی ڈرامے دیکھ دیکھ کر یکسر بدل چکا ہے۔ ان تمام رسوم میں پہلی سی سادگی اور جذبات اب بظاہر دکھائی نہیں دیتے۔ یہ رسمیں اب فوٹو سیشن اور مووی میکنگ کے تلے دب کر دور جا چکی ہیں۔ خواتین کی تمام رسوم ان کے مہنگے اور قیمتی ملبوسات، زیورات کی نمائش اور بیوٹی پارلرز کی محتاج دکھائی دیتی ہیں۔ البتہ رخصتی کے وقت دلہن کا بے تحاشا رونا اب قیمتی میک آپ کے خوف نے بند کرا دیا ہے۔ مہنگے میرج ہال اور کھانے کے بڑھتے ہوئے اخراجات شادیوں کو لٹکانے اور تاخیر کا باعث بن جاتے ہیں۔ اگر ہم شادیوں میں جدید رجحانات پر ایک نظر ڈالیں تو دکھاوئے اور نمود ونمائش کا بڑھتا ہوا رجحان واضح دکھائی دیتا ہے۔

مہنگے مہنگے خوبصورت میرج ہالز، تھیم بیسڈ تقریبات، قیمتی ملبوسات، فوٹو شوٹ اور ان کی ریہرسل اور ڈرون مووی میکنگ، سوشل میڈیا پراس نمائش نے شادی کو ایک تقریب سے ایونٹ میں بدل دیا ہے۔ شادی پر سوشل میڈیا پر "پرفیکٹ ویڈنگ"کے تصور نے مقابلے کی فضا پیدا کردی ہے۔ جس کی باعث روائتی سادگی سے دوری بڑھتی جارہی ہے اور شادیوں میں بلاوجہ تاخیر کا باعث بن رہی ہے۔ غیر ضروری اور مہنگی رسمومات معاشی و مالی دباو میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ آج دولہن کا ایک شادی کا جوڑا کئی لاکھ میں تیار ہوتا ہے جو صرف ایک دن اور ایک دفعہ ہی پہنا جاتا ہے۔ یہی صورتحال دولہا کے لباس کی ہوتی ہے جو صرف ایک دن ہی کے لیے کارآمد ہوتا ہے۔

اس مرتبہ شادیوں میں جہاں ون ڈش اور ٹائم کی پابندی جیسی مثبت اور اچھی چیزیں دیکھنے میں آئی ہیں وہیں چند چیزیں بہت تکلیف دہ بھی نظر آئی ہیں۔ جن میں کھانے کا ضیاع اور شادی ہال میں مخصوص لوگوں کے لیے خصوصی بیٹھنے کا الگ سے انتظام رواج پا رہا ہے جو لوگوں میں طبقاتی تقسیم کا باعث بن رہا ہے کیونکہ جب کچھ لوگوں کو کھانا ان کی میز پر دیا جائے گا اور کچھ بوفے کا حصہ بنے گیں تو تفریق کا عنصر سامنے آتا ہے۔ ایسے ہی سیاسی شخصیات، بارات اور لڑکی والوں کے لیے خصوصی اور امتیازی انتظام بھی کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔ مہمانوں سے یکساں سلوک ہونا ازحد ضروری ہوتا ہے ورنہ امتیازی سلوک کو لوگ بظاہر نہ سہی دلوں میں تو برا محسوس کرتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ تو برملا اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

میں نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریباََ پچیس فیصد کھانا بلا وجہ بچ کر ضائع ہوتا ہے اور پھینک دیا جاتا ہے کاش کوئی ایسا طریقہ بھی ہوتا کہ اضافی کھانا ضرورت مندوں تک پہنچ پاتا؟ اس جدید دور میں بھی شادی ہالز والے پہلے مردوں کو کھانا دیتے ہیں اور بعد میں خواتین کا نمبر آتا ہے جس کی باعث بچے بھو ک سے بلبلا اٹھتے ہیں اور مردوں کو شادی سے واپسی کے لیے خواتین کا طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں کہ رقص اور موسیقی شادیوں کی جان ہوتی ہے لیکن اگر قوالی نائٹ کی نام پر کرنسی کا بے دریغ استعمال ہو تو یہ خوشی سے زیادہ نمائش بن جاتی ہے۔ آ جکل مہندی کی رسم میں بےشما ر فضول خرچی کی رسومات شامل ہو چکی ہیں۔ اس میں اب بے ہنگم اور بلندآواز بینڈ کے ساتھ قوالی نائٹ بھی شامل ہوگئی ہے جہاں نوٹوں کو نچھار کرنے کے لیے پورا ہال کرنسی سے بھر جاتا ہے اور قوال یہ رقم بوریوں میں بھر کر لے جاتے ہیں۔

خدارا اس طرح نوٹوں کی برسات کرنے سے ایک مشکل اور غلط روایت جنم لے رہی ہے۔ قوالی کبھی دل کی دھڑکن اور روح کی تازگی سمجھی جاتی تھی اور ہماری ثقافت کا حصہ تھی آج وہی قوالی شادی ہال کی چمکتی روشنیوں، ڈی جے کی گونج اور موبائل کیمروں کے ہجوم میں گم ہوتی جارہی ہے۔ اپنی ثقافت کو زندہ ضرور رکھیے مگر وقار کے ساتھ، قوالی سے روحانیت اپنائیے مگر خلوص کے ساتھ کیونکہ جب کلام میں نیت کی سچائی ہوتو خاموش محفل بھی دل ہلا دیتی ہے اور جب نیت میں نمائش ہو تو بلند آواز بھی اثر نہیں کرتی۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم قوالی سن رہے ہیں یا شور؟ پھر یہ نوٹوں کی بارش اور برسات کیوں؟ یہ رقم نمائش کے بغیر چپ چاپ بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ قوالی نائٹ سرور سماع ہے یا شور و نمائش؟

اسلام نے نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل اور گناہ قرار دیا ہے مگر ہم نے الٹا کردیا ہے۔ آج نکاح مشکل اور دکھاوا آسان ہوگیا ہے۔ ہم بھول گئے ہیں کہ شادی کا اصل مقصد سکون، اعتماد اور باہمی احترام ہوتا ہے نہ کہ کیمروں کی چمک اور سوشل میڈیا کی داد اور واہ واہ کا شور؟ وقت آگیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر خود سے سوال کریں کہ کیا ہم واقعی خوشیاں بانٹنا چاہتے ہیں یا صرف دکھاوا؟ کیا ہم نئی زندگی کا سفر شروع کرنا چاہتے ہیں یا پھر ایک دن کی واہ واہ اور تعریف؟ اگر ہم نے شادیوں کو پھر سے سادہ، پروقار اور بامقصد نہ بنایا توشادی معاشرتی خوشی نہیں بلکہ معاشرتی بوجھ بن کر رہ جائے گی۔

سادگی کوئی محرومی نہیں بلکہ اصل خوشی کی طرف واپسی ہے اور شاید یہی وہ راستہ ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو ذہنی، معاشی اور سماجی سکون دے سکتا ہے۔ اسلامی احکامات کے مطابق شادی کو ہر ممکن آسان اور سادہ بنا کر ہی موجود شادیوں میں حائل روکاوٹوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔ اگر اللہ نے دولت کی نعمت سے نوازا ہے تو شکران نعمت کے طور پر اس کا مصرف کئی بہتر طریقوں سے بھی کیا جاسکتا ہے جو آپکی خوشیوں کو یادگار بنا سکتے ہیں۔ ایسی ہی شادی کے بارے میں گذشتہ دنوں ایک اچھی خبر نظر سے گزری کہ ایک ترک جوڑے نے اپنی شادی کی خوشی کو منفرد انداز میں منانے کے لیے ایک غیر معمولی اقدام کیا۔ انہوں نے روایتی شادی کی ضیافت کے بجائے 4,000 شامی مہاجرین کو کھانا کھلانے کا فیصلہ کیا۔

یہ انسانیت دوست عمل ترکی کے شہر کیلیس میں انجام دیا گیا، جو شام کی سرحد کے قریب واقع ہے اور جہاں بڑی تعداد میں شامی پناہ گزین مقیم ہیں۔ جوڑے نے اپنی شادی کے موقع پر خرچ ہونے والی رقم مہاجرین کی مدد کے لیے وقف کر دی اور شادی کے دن کھانے کے ٹرکوں کے ذریعے ضرورت مندوں میں کھانا تقسیم کیا۔ اس اقدام کو نہ صرف مہاجرین نے سراہا بلکہ دنیا بھر میں اس جوڑے کے اس جذبۂ ہمدردی کو خوب پذیرائی ملی۔ یہ واقعہ خوشی، محبت، اتحاد اور انسانیت کی ایک روشن مثال بن گیاہے۔

Check Also

Rizq Ki Physics: Bahao Ka Qanoon

By Asif Masood