رمضان المبارک، عبادت سے کردار تک ہماری اصل ذمہ داریاں

رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں، وقت کی رفتار میں ٹھہر جانے والا وہ لمحہ ہے جس میں انسان اپنے وجود کے اصل معنی دریافت کرتا ہے۔ سال کے باقی ایام میں زندگی ضرورتوں، مصروفیتوں اور خواہشوں کے گرد گھومتی رہتی ہے، مگر یہ مہینہ آتے ہی ترجیحات کا پیمانہ بدل جاتا ہے۔ بھوک اور پیاس کا احساس ہمیں جسم کی حدود سے نکال کر روح کی دنیا میں لے جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت رسم سے نکل کر شعور بن جاتی ہے۔
عام طور پر روزہ صرف فجر سے مغرب تک کھانے پینے سے رک جانے کا نام سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ تربیت کا مکمل نظام ہے۔ یہ انسان کو بتاتا ہے کہ خواہش پر قابو پانا ہی اصل آزادی ہے۔ جس معاشرے میں ہر شخص اپنی خواہش کو حق سمجھنے لگے وہاں فساد جنم لیتا ہے اور جہاں انسان اپنی خواہش کو اخلاق کے تابع کر لے وہاں امن پیدا ہوتا ہے۔ رمضان اسی اخلاقی ضبط کا عملی نصاب ہے۔ زبان کو جھوٹ سے روکنا، نگاہ کو بے راہ روی سے بچانا، ہاتھ کو زیادتی سے باز رکھنا اور دل کو حسد سے پاک کرنا یہی روزے کی اصل روح ہے۔
ہماری ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم رمضان کو صرف عبادات کے اضافے تک محدود کر دیتے ہیں۔ تراویح کی لمبائی اور سحری و افطار کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں مگر رویے وہی رہتے ہیں۔ حالانکہ یہ مہینہ محاسبۂ ذات کا نام ہے۔ اگر کسی شخص نے تیس دن بھوک برداشت کر لی مگر اس کے لہجے میں سختی، معاملات میں دھوکا اور سوچ میں تکبر باقی رہا تو اس نے روزے کا ظاہر تو حاصل کیا، باطن نہیں۔ روزہ انسان کو دوسروں کی تکلیف محسوس کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ جب پیاس شدت اختیار کرتی ہے تو یاد آتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے لیے پانی روزمرہ سہولت نہیں بلکہ نعمت ہے۔ اسی احساس سے رحم، سخاوت اور عدل پیدا ہوتا ہے۔
رمضان کی ایک اہم ذمہ داری سماجی انصاف بھی ہے۔ عبادت کا حقیقی اثر انسان کے اردگرد کے ماحول پر نظر آنا چاہیے۔ اگر کسی بستی میں امیر کی دسترخوان کی چکاچوند اور غریب کی خالی پلیٹ کے درمیان فاصلہ برقرار رہے تو اس کا مطلب ہے کہ عبادت نے دل کو نرم نہیں کیا۔ زکوٰۃ اور صدقات کا فلسفہ یہی ہے کہ دولت گردش میں رہے اور معاشرہ توازن کی طرف بڑھے۔ لیکن اکثر اوقات ہم خیرات کو وقتی تسکین بنا دیتے ہیں، مستقل ذمہ داری نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مدد کو احسان نہیں بلکہ حق سمجھیں، کیونکہ اسلام میں محتاج کا حق ادا کرنا عبادت ہے، عطیہ نہیں۔
اس مہینے کا ایک پہلو خود احتسابی کا بھی ہے۔ انسان پورا سال دوسروں کے اعمال کا حساب رکھتا ہے مگر اپنے کردار کی جانچ کم کرتا ہے۔ رمضان دراصل اندر کی عدالت ہے جہاں کوئی وکیل نہیں، کوئی جج نہیں، صرف ضمیر ہے۔ دن بھر کی بھوک ہمیں بتاتی ہے کہ ہم صبر کر سکتے ہیں، تو پھر غصے پر کیوں قابو نہیں؟ ہم حلال کھانے سے رک سکتے ہیں تو حرام بات سے کیوں نہیں رک سکتے؟ یہ سوالات انسان کو اس کی اصل کمزوریوں سے آشنا کرتے ہیں اور یہی آگاہی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔
معاشرتی سطح پر بھی رمضان ذمہ داریوں کا احساس بڑھاتا ہے۔ بازاروں میں دیانت، ملازمت میں امانت اور تعلقات میں برداشت اسی وقت پیدا ہوگی جب روزہ صرف معدے تک محدود نہ رہے۔ افسوس یہ ہے کہ بعض اوقات اسی مہینے میں منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور دھوکا دہی بڑھ جاتی ہے، گویا عبادت کی روح کو کاروبار کے شور میں دبا دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ انسان کو خود پر سخت اور دوسروں پر نرم بناتا ہے۔ اگر اس کے برعکس رویہ پیدا ہو تو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے مقصد کھو دیا ہے۔
روحانی تربیت کے ساتھ رمضان فکری بیداری کا مہینہ بھی ہے۔ قرآن کی تلاوت محض ثواب کا ذریعہ نہیں بلکہ رہنمائی کا پیغام ہے۔ جب تک ہم اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے، تلاوت الفاظ کی ادائیگی تک محدود رہے گی۔ قرآن انسان کو انصاف، دیانت اور توازن کا درس دیتا ہے۔ اگر معاشرے میں جھوٹ عام ہو، وعدہ خلافی معمول بن جائے اور حق کمزور پڑ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے کتاب کو پڑھا ضرور ہے مگر اپنایا نہیں۔
گھر کے ماحول میں بھی اس مہینے کی خاص ذمہ داریاں ہیں۔ والدین کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ بچوں کو عبادت کا خوف نہیں بلکہ محبت سکھائیں۔ جب بچہ روزے کو سزا نہیں بلکہ شرف سمجھے گا تو اس کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ اسی طرح خاندان میں برداشت اور احترام کو فروغ دینا بھی اسی تربیت کا حصہ ہے۔ ایک دسترخوان پر بیٹھ کر افطار کرنا صرف روایت نہیں بلکہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔
انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر رمضان کا پیغام توازن ہے۔ نہ رہبانیت، نہ بے لگامی، نہ دنیا سے انکار، نہ دنیا میں غرق ہونا۔ یہ مہینہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی خواہشات کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں اصول کے تابع کرنا ہے۔ عبادت اور کردار جب ایک ہو جائیں تو معاشرہ خود بخود سنور جاتا ہے۔
آخرکار رمضان ایک وقتی کیفیت نہیں بلکہ سال بھر کی زندگی کا پیش خیمہ ہے۔ اگر عید کے بعد بھی صبر باقی رہے، زبان نرم رہے، معاملات صاف رہیں اور دل میں ہمدردی زندہ رہے تو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے رمضان کو پایا ہے۔ ورنہ تیس دن کی مشقت کے باوجود ہم نے صرف وقت گزارا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ یہ مہینہ ہمیں بدل دے، کیونکہ رمضان کا مقصد کیلنڈر بدلنا نہیں، انسان بدلنا ہے۔

