Tuesday, 17 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Pyasa Shehr Aur Khamosh Hukumran

Pyasa Shehr Aur Khamosh Hukumran

پیاسا شہر اور خاموش حکمراں

پانی ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، بلکہ اگر بالفاظِ دیگر کہا جائے تو بنیادی ضروریات میں سب سے زیادہ قیمتی شے پانی ہی ہے، کیونکہ پانی کے بغیر انسان کا گزارا ممکن نہیں۔ بجلی، گیس اور دیگر سہولیات اگرچہ زندگی کے لیے ضروری ہیں، مگر پانی کو ان سب پر فوقیت حاصل ہے، اس لیے کہ پانی کے بغیر زندگی کا تصور ہی محال ہے۔ اگر کسی کو یہ بنیادی ضرورت میسر نہ ہو تو اس کا جینا دوبھر اور زندگی نہایت کٹھن ہو جاتی ہے۔

آج یہی صورتِ حال کراچی کے باسیوں کی ہے، جو پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے والا یہ شہر آج کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہاں کے شہری گھروں میں نلکوں سے پانی آتا دیکھنے سے ایک عرصے سے نہ صرف ناآشنا ہیں بلکہ اس کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ اب تو مہنگے داموں ٹینکر خریدنا بھی ان کے لیے وبالِ جان بن چکا ہے۔ ٹینکر مافیا، جو واٹر بورڈ مافیا کے ساتھ ملی ہوئی ہے، دونوں مل کر عوام کو لوٹ رہے ہیں اور ان کی زندگی اجیرن بنا چکے ہیں۔

حکومتِ وقت کی سب سے اہم ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام تک بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے، جن میں صاف پانی، بجلی اور گیس سرفہرست ہیں، مگر یہاں صورتِ حال بالکل برعکس ہے۔ لائنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کراچی کے شہریوں کے لیے الا ماشاء اللہ، دن میں چاند دیکھنے کے مترادف ہو چکی ہے۔ نلکوں میں پانی اس قدر ناپید ہے کہ گھروں میں پانی کی دستیابی اب مسئلہ کشمیر سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

اگر حکومت گھروں تک پانی پہنچانے میں ناکام ہے تو کم از کم متبادل کے طور پر عوام کو مفت ٹینکر فراہم کیے جائیں اور اس کے بعد سستے داموں ٹینکرز کا نظام متعارف کرایا جائے۔ مگر بدقسمتی سے حکومت کے نزدیک ان تجاویز کی کوئی وقعت نہیں۔ نہ گھروں میں پانی فراہم کیا جا رہا ہےجو حکومت کی بنیادی ترین ذمہ داری ہےاور نہ ہی ٹینکرکے ذریعے مناسب فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔ اگر شہری پرائیویٹ ٹینکر منگوانا چاہیں تو ان کے بھاری دام اور غیر یقینی اوقاتِ فراہمی شدید مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔ یہ مسئلہ کراچی کے عوام کے لیے ایک سنگین بحران بن چکا ہے، مگر حکومتِ وقت عملی اقدامات کرنے کو تیار نظر نہیں آتی۔

بیان بازی اور شعبدہ بازی کی اگر بات کی جائے تو شاید سندھ حکومت کے وزرا اور شہر کے میئر اس میدان میں عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہوں۔ جو کام کرنا مقصود نہیں ہوتا، اس کا اعلان سرکاری طور پر ضرور کر دیا جاتا ہےکہ ہم یہ کام کررہےہیں چند روز قبل شہر کے میئر نے اعلان کیا کہ ہائیڈرنٹ سسٹم ختم کرکے عوام کو گھروں میں نلکوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے گا، مگر یہ اعلان بھی محض ایک سیاسی بیان ثابت ہوا۔

اس کے کچھ ہی دن بعد کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے کمپلینٹ سینٹر کی وہ ایپلیکیشن، جس کے ذریعے شہری شکایات درج کرکے سرکاری ٹینکر نسبتاً سستے داموں حاصل کر لیتے تھے اگرچہ وہ بھی زیادہ سستے نہیں ہوتے اسے ناکارہ بنا کر ختم کر دیا گیا۔ اس کی جگہ ایک نئی ایپلیکیشن متعارف کرائی گئی جو اس قدر پیچیدہ ہے کہ عام آدمی کی اس تک رسائی اونٹ کو رکشے میں بٹھانے کے مترادف محسوس ہوتی ہے۔ جب شکایت درج کرنا ہی اتنا دشوار ہو تو اس پر عمل درآمد کی کیا صورت ہوگی، اس بارے میں قبل از وقت کچھ کہنا ممکن نہیں۔

گزشتہ ماہ ورلڈ بینک کے وفد نے کراچی کا دورہ کیا اور واٹر لائنوں سمیت متعدد منصوبوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تین ماہ کی مہلت دی کہ اگر اس عرصے میں چھ سات مقامات پر کوئی نمایاں بہتری یا عملی کام نظر نہ آیا تو معاہدہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ K4 منصوبہ، جس کا ذکر ایک طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے اور جو وفاقی منصوبہ ہے، آج بھی محض کاغذوں اور بیانات تک محدود دکھائی دیتا ہے۔

حال ہی میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے سندھ کے دورے کے موقع پر یہ اعلان کیا کہ دسمبر تک K4 منصوبہ فائنل کر لیا جائے گا اور اس کے بعد پانی کی تقسیم صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ اس بیان کے بعد کراچی کے شہری مزید تشویش میں مبتلا ہو گئے، کیونکہ اگر صوبائی حکومت نے پانی فراہم کرنا ہوتا تو اب تک کر چکی ہوتی۔

حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں پانی کی مجموعی طور پر کوئی کمی نہیں۔ شہر کے مضافات میں واقع حب ڈیم بھر جانے کے بعد دو سے تین سال تک نہ صرف کراچی بلکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو بھی پانی فراہم کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں دریائے سندھ سے آنے والے پانی کی مقدار بھی وافر ہے۔ مسئلہ کمی کا نہیں بلکہ تقسیم کا ہے۔ کچھ علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر پانی ضائع ہوتا ہے جبکہ بیشتر علاقے سالہا سال سے پانی سے محروم ہیں۔ یہ ناانصافی عوام پہلے ہی برداشت کر رہی ہے۔

اگر K4 منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بھی پانی کی تقسیم کی ذمہ داری صوبائی حکومت کے سپرد کر دی گئی تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی اور کراچی کے باسیوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے اس منصوبے سے وابستہ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔

اس کالم کے ذریعے اربابِ اختیار، اہلِ اقتدار اور خصوصاً ریاستی اداروں سے اپیل ہے کہ کراچی جو ملک کی اصل شناخت ہے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ یہاں مسائل بے شمار اور نہایت سنگین ہیں، مگر پانی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اگر اس پر فوری اور سنجیدہ توجہ نہ دی گئی تو یہ غفلت شہر کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

Check Also

Wo Waqia Jo Kitab Mein Nahi

By Javed Chaudhry