Akhuwat Foundation: Khidmat, Ikhlas Aur Khudari Ki Dastan
اخوت فاؤنڈیشن: خدمت، اخلاص اور خودداری کی داستان
ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب ایک فکری اور روحانی کشش بلکہ کچھ شخصیات سے ملنے کی خواہش محض تعارف کی نہیں ہوتی، بلکہ ایک فکری اور روحانی تعلق کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جن سے ملنے کا اشتیاق دل کے کسی گوشے میں خاموشی سے سانس لیتا رہتا ہے۔
کیونکہ جو شخص چیریٹی کو محض ادارہ نہیں بلکہ امانت سمجھ کر چلاتا ہو، اس سے احترام کا رشتہ خود بخود قائم ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ محض منتظم نہیں ہوتے، وہ سوچ کے معمار ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے یہ احساس بھی دلاتے ہیں کہ خدمت صرف وسائل سے نہیں، نیت سے جنم لیتی ہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب کی شخصیت میں جو سادگی اور خلوص جھلکتا ہے، وہ انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ قیادت شور سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہے۔ ان کا انداز یہ سکھاتا ہے کہ اصل سرمایہ اعتماد ہے اور سب سے بڑی طاقت خیر خواہی۔
شاید اس ملاقات میں کوئی رسمی گفتگو نہ ہو، مگر چند لمحوں کی نشست بھی انسان کے اندر نئی توانائی جگا سکتی ہے۔ کیونکہ بعض شخصیات سے ملنا دراصل اپنے نظریات کی تصدیق کرنا ہوتا ہے، کہ ہم جس راستے کو درست سمجھتے ہیں، اس پر کوئی اور بھی اخلاص سے چل رہا ہے۔
ایسی ملاقاتیں الفاظ سے زیادہ احساس کا تبادلہ ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ خواب دیکھنا کافی نہیں، انہیں عمل میں ڈھالنا بھی ضروری ہے اور جب ہم کسی ایسے شخص سے ملنے کی تمنا رکھتے ہیں جو خدمت کو عبادت سمجھتا ہو، تو دراصل ہم اپنے اندر کے اس جذبے کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں جو معاشرے کے لیے کچھ کر گزرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
کچھ خواہشیں وقتی نہیں ہوتیں، وہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہیں، خاموش، مگر پُرامید۔
معاشرے میں تبدیلی کے دعوے بہت ہوتے ہیں، مگر عملی مثالیں کم ملتی ہیں۔ پاکستان میں غربت اور بے روزگاری کے اندھیروں میں ایک چراغ ایسا بھی جلا جس نے لاکھوں گھروں کو روشنی دی۔ یہ چراغ ہے اخوت فاؤنڈیشن، جس نے بلاسود قرضوں کے ذریعے خودداری کو زندہ کیا اور محتاجی کو محنت میں بدل دیا۔
اس تحریک کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب ہیں، جنہوں نے 2001ء میں چند ہزار روپے سے ایک ایسا سفر شروع کیا جو آج عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے۔ ان کا نظریہ واضح تھا: "کسی کو سہارا دینا دراصل اسے کھڑا ہونے کا موقع دینا ہے، نہ کہ اسے ہمیشہ کے لیے تھام لینا"۔
عملی مثالیں، جب نظریہ حقیقت بنا۔
لاہور کے ایک محنت کش شخص نے اخوت سے معمولی رقم بطور قرض حاصل کی۔ اس نے کرائے پر رکشہ چلانے کے بجائے اپنا رکشہ خریدا۔ چند ماہ میں اس کی آمدنی دگنی ہوگئی۔ اس نے نہ صرف قرض واپس کیا بلکہ اپنے بیٹے کو اسکول میں داخل کرایا۔ یہ محض ایک قرض نہیں تھا، ایک خاندان کی تقدیر بدلنے کا آغاز تھا۔
فیصل آباد کی ایک خاتون کو سلائی مشین کے لیے بلاسود قرض ملا۔ اس نے گھریلو سلائی کا کام شروع کیا، پھر دو اور خواتین کو ساتھ ملا لیا۔ آج وہ ایک چھوٹا بوتیک چلا رہی ہے۔ اس مثال نے ثابت کیا کہ عورت کو موقع ملے تو وہ نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا بھی سہارا بن سکتی ہے۔
اخوت نے تعلیم کے میدان میں بھی انقلاب برپا کیا۔ اخوت یونیورسٹی میں ایسے طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے جو ذہین تو ہیں مگر مالی طور پر کمزور۔ ایک طالب علم جو رکشہ ڈرائیور کا بیٹا تھا، آج انجینئر بن کر اپنے والدین کا سہارا ہے۔ یہ تبدیلی قرض سے زیادہ علم کی بدولت ممکن ہوئی۔
اکثر ایسے خاندان جو عزتِ نفس کے باعث ہاتھ نہیں پھیلاتے، اخوت کے ذریعے خاموشی سے مدد پاتے ہیں۔ مساجد میں قرض کی تقسیم اس احساس کو تقویت دیتی ہے کہ لینے والا تنہا نہیں، پوری برادری اس کے ساتھ ہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے خدمت کو نظام میں ڈھال دیا۔ وہ سادگی سے زندگی گزارتے ہیں اور بارہا یہ کہتے ہیں کہ: "غربت کا علاج صرف سرمایہ نہیں، اعتماد ہے"۔
ان کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ اگر شفافیت اور نیت کی پاکیزگی ہو تو عطیات اور وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔
اخوت کا ماڈل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ معاشرہ تب مضبوط ہوتا ہے جب طاقتور کمزور کا ہاتھ تھام لے۔ یہ ادارہ خیرات نہیں، مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ لوگوں کو جھکاتا نہیں، اٹھاتا ہے۔
آج کے دور میں جب مایوسی عام ہے، اخوت امید کا استعارہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ایک فرد مخلص ہو تو وہ پورے معاشرے میں روشنی پھیلا سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا وہ ادارے زندہ رہتے ہیں جو انسانوں کو زندہ دلی عطا کریں اور وہ رہنما کامیاب ہوتے ہیں جو خود مثال بن جائیں۔

