Apni He Banai Hui Lot Ka Aseer
اپنی ہی بنائی ہوئی لاٹ کا اسیر

رومن تاریخ میں ایک کردار گزرا ہے، جولیس سیزر۔ سیزر کو دشمنوں نے نہیں مارا، اسے اُن لوگوں نے قتل کیا جنہیں اس نے خود طاقت دی، عہدے دیے، پہچان دی۔ تاریخ کہتی ہے کہ جب سیزر نے قاتلوں میں اپنے شاگرد بروٹس کو دیکھا تو اس کے منہ سے ایک جملہ نکلا: "تم بھی؟"
یہ جملہ صرف ایک انسان کا دکھ نہیں تھا، یہ اُس المیے کی علامت تھا جس میں لیڈر اپنی ہی تخلیق کا شکار ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں آج یہی منظر ایک نئی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ کردار بدلے ہوئے ہیں، ہتھیار جدید ہیں، مگر انجام وہی ہے۔ آج تلوار نہیں، سوشل میڈیا ہے۔ آج سازش کمرے میں نہیں، ٹائم لائن پر ہوتی ہے اور آج ایک لیڈر اپنی گرفت میں نہیں، اپنے ہی تیار کردہ ڈیجیٹل ہجوم کے رحم و کرم پر ہے اور وہ لیڈر سابق وزیراعظم عمران خان ہیں۔
چند دن قبل صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ایک عوامی اجتماع میں عمران خان پر تنقید کی۔ جملے تلخ تھے، لہجہ سخت تھا، مگر سیاست میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ زرداری صاحب نے جیل کے حوالے سے کہا:
"جیل جیل ہوتی ہے، ہم نے بھی جیلیں کاٹی ہیں"۔
یہ ایک سیاسی تنقید تھی، اس کا جواب سیاسی ہونا چاہیے تھا۔ دلیل آتی، تنقید ہوتی، بحث آگے بڑھتی۔ مگر تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے سیاست کو وہ رخ دے دیا جہاں دلیل مر جاتی ہے اور بدزبانی زندہ ہو جاتی ہے۔
جو کچھ اس کے بعد ہوا، وہ اختلاف نہیں تھا، وہ کردار کشی تھی۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کے نام اور کردار کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کی پیدائش کو موضوع بنا کر ایسی باتیں کی گئیں جنہیں نہ سیاست کہا جا سکتا ہے، نہ آزادیٔ اظہار۔
دعویٰ یہ گھڑا گیا کہ آصفہ کی پیدائش کے وقت آصف علی زرداری جیل میں تھے، لہٰذا اور یہاں "لہٰذا" کے بعد دلیل نہیں، گندگی تھی۔
حقائق مگر چیختے ہیں۔ عدالتی اجازت سے میاں بیوی کی ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کو مجبوراً سامنے آ کر وضاحت دینا پڑی۔
سوال یہ نہیں کہ بختاور نے وضاحت کیوں دی۔ سوال یہ ہے کہ ایک بیٹی کو اپنی ماں کے کردار پر لگے الزامات کا جواب دینے پر مجبور کیوں کیا گیا؟
یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست ختم ہوتی ہے اور ہجوم شروع ہو جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اختلاف نہیں، نفرت بولتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہر بار ایک خاص وقت پر کیوں ہوتا ہے؟ جیسے ہی یہ تاثر بنتا ہے کہ ریاست اور عمران خان کے درمیان کوئی راستہ نکل سکتا ہے، تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اچانک متحرک ہو جاتا ہے۔ زبان مزید تیز، حملے مزید ذاتی اور دائرہ مزید خطرناک بنا دیا جاتا ہے۔
تازہ مثال سب کے سامنے ہے۔ عمران خان کی آنکھ کے معائنے کی خبر آئی۔ ڈاکٹرز کی ٹیم جیل پہنچی۔ بات چلی کہ ممکن ہے کچھ عرصے کے لیے بنی گالہ منتقلی ہو۔ ابھی فیصلہ ہوا بھی نہیں تھا کہ سوشل میڈیا پر طوفان آ گیا۔
اس بار نشانے پر صرف سیاسی مخالف نہیں تھے بلکہ ریاستی ستون بھی تھے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف مہم تیز کر دی گئی۔ زبان وہی، الزام وہی، مقصد بھی وہی، ماحول اس قدر خراب کر دو کہ کوئی رعایت ممکن ہی نہ رہے۔
آپ اس تازہ صورتحال کو بھی دیکھ لیجیے گا تحریک انصاف کا سوشل میڈیا تب تک طوفان اٹھا کر رکھے گا جب تک یہ خبر نہیں آ جاتی کے عمران خان صاحب کو کہیں شفٹ نہیں کیا جا رہا ان کا علاج جیل میں ہی ممکن ہے۔ جیسے ہی یہ اعلان ہوگا تو یہ طوفان بھی تھمنا شروع ہو جاے گا۔
ایک اور سوال بھی ہے۔ عمران خان کی بہنیں اور پارٹی قیادت مسلسل کہتی رہیں کہ ہمیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ پھر جب ڈاکٹرز جیل گئے اور حکومت نے کہا کہ آپ بھی ملاقات کر لیجیے، تو کوئی نہیں گیا۔ نہ بہنیں، نہ رہنما۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان ایک ایسا سوشل میڈیا لشکر بنا چکے ہیں جو اب ان کے کنٹرول میں نہیں رہا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا روزگار شور میں ہے، سکون میں نہیں۔ اگر عمران خان باہر آ گئے تو یہ ڈیجیٹل دکانیں بند ہو جائیں گی۔ پھر یہ کیوں چاہیں گے کہ عمران خان باہر آئیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ جب ہجوم طاقتور ہو جائے تو لیڈر اس کا قیدی بن جاتا ہے۔
اس تناظر میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ "ہم نے عوام کو شعور دیا ہے" ایک سوال بن جاتا ہے۔ اگر واقعی شعور دیا ہوتا تو عوام تیرہ سالہ حکومت کا حساب مانگتی، کارکردگی پوچھتی اور سوال کرتی۔
شعور یہ نہیں ہوتا کہ کسی کی ماں، بیٹی اور بہن محفوظ نہ رہے۔ شعور یہ ہوتا ہے کہ ووٹر اپنے لیڈر سے سوال کرے، نہ کہ مخالف کی عزت اچھالے۔
آخر میں خود عمران خان کو بھی رک کر سوچنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ہجوم آپ خود تیار کرتے ہیں، اگر اسے اخلاق نہ دیا جائے تو وہ ایک دن آپ کو بھی نہیں بخشتا۔
سیاست اختلاف سے پھلتی پھولتی ہے۔ مگر جب اختلاف نفرت بن جائے اور دلیل گالی میں بدل جائے تو پھر صرف سیاست نہیں مرتی، پورا معاشرہ زخمی ہو جاتا ہے اور افسوس کہ آج ہم اسی زخمی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں شور بہت ہے، شعور نہیں۔

