Tuesday, 10 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Ali Durrani
  4. Private School, Mustaqbil Ka Qatil

Private School, Mustaqbil Ka Qatil

پرائیوٹ سکول، مستقبل کا قاتل

زیادہ نمبروں کے لیے طلبہ سے ہزاروں روپے لینا کیا تعلیم ہے؟ کیا امتحانی ہال کو سرکاری عملے سمیت نقل کے لیے فروخت کرنا تعلیم ہے؟ کیا ایسے نالائق طلبہ کو بورڈ میں داخلہ دلوانا تعلیم ہے جو سال بھر اسکول کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے؟ جسے اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا اسے امتحان میں بٹھانا کیا تعلیم ہے؟ کیا اسکول میں نظم و ضبط نہ ہو اور اسے تعلیم کہا جائے؟ کیا امتحان کو صرف ایک رسم بنا دینا تعلیم ہے؟ کیا بغیر محنت کے نمبر دلوانا تعلیم ہے؟

اس وقت ایران پاکستان افغانستان اور انڈیا کے مسائل سے بھی بڑا اور حساس مسئلہ پاکستان کا تعلیمی نظام ہے کیونکہ جنگ انسانی سوچ کی ناکامی کا نام ہے اور سوچ و فکر کو پرائیویٹ تعلیمی ادارے متاثر بلکہ غرق کر رہے ہیں۔

آج کے دور میں تعلیم کا کاروبار منافع بخش بن چکا ہے۔ پرائیویٹ اسکول قوم کا مستقبل تباہ کرکے ماہانہ لاکھوں روپے کماتے ہیں کیونکہ بہت سے تعلیمی ادارے خود بھی اسے کاروبار بنا چکے ہیں۔ تعلیم جائے بھاڑ میں۔

یہاں بچے تعلیم حاصل نہیں کرتے بلکہ سرٹیفکیٹ خرید کر بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں جہاں جا کر گوروں اور عربوں کے واش روم دھوتے ہیں۔ ایسی تعلیم سے تو نذر گُل بہتر ہے۔ اسے اپنا نام لکھنا نہیں آتا لیکن وہ اپنا ایمان آلو اور ٹماٹر پر نہیں بیچتا۔

پشاور کے ہر کونے میں نجی اسکول موجود ہیں۔ عمارتیں شاندار ہیں مگر علم سے خالی ہیں۔ یہ اسکول تعلیم کے نام پر نہیں بلکہ فیس کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ ہر والدین کو خواب دکھائے جاتے ہیں کہ ان کا بچہ ٹاپ کرے گا اور نوے فیصد نمبر لائے گا اور اس کا مستقبل روشن ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اداروں کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے بچوں کو سیکھنے کی ضرورت کا شعور دینا نہیں۔ یہاں علم مصنوعی ہو چکا ہے تعلیم ایک کاروبار بن گئی ہے اور کامیابی کا معیار صرف نمبر اور ریکارڈ رہ گیا ہے۔

اپریل میں جماعت نہم اور دہم کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں۔ وہی پرانا عمل پھر دہرایا جائے گا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو امتحانی عملہ ہوتا ہے ان میں بعض خود پبلک سروس کمیشن جیسے سخت امتحان پاس کرکے آتے ہیں لیکن ہال میں چند پیسوں کے عوض بک جاتے ہیں۔ عوام کے منتخب نمائندے بیٹھ کر "حل" تلاش کرتے ہیں حالانکہ وہ خود اس عمل سے گزر چکے ہوتے ہیں۔ "حل" مشکل نہیں ہے۔ امتحانی مراکز میں ہر شخص کو اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرنی چاہیے۔

سال بہ سال یہی شکایت دہرائی جاتی ہے۔ بورڈ امتحانات کے وقت بڑے دعوے کیے جاتے ہیں کہ نقل کے خلاف سخت انتظامات ہوں گے مگر جیسے ہی نتائج آتے ہیں سب کچھ دھوکا ثابت ہوتا ہے۔ بچوں کے مستقبل کی حفاظت کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوتی۔ بس ایک سرکاری رپورٹ چند اخباری بیانات اور پھر خاموشی۔

یہ ظلم صرف بچوں کے ساتھ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ساتھ ہے۔ بچے جو علم کے بجائے نمبروں کے غلام بن جاتے ہیں وہ بعد میں معاشرے میں بھی یہی رویہ اپناتے ہیں۔ وہ محنت کرنے کے بجائے شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں اور ایک پوری نسل تعلیم کی اصل روح سے محروم ہو جاتی ہے۔ یہ نسل مستقبل کی تعمیر کرنے کے بجائے دھوکے اور جعل سازی کی عادی ہو جاتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں گزشتہ چودہ سال سے تحریک انصاف کی حکومت کے دوران تعلیمی نظام کی بنیادیں کھوکھلی ہوگئی ہیں۔ استاد جو کبھی معاشرے کے روشن چراغ سمجھے جاتے تھے انہیں سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کیا گیا۔ نئے منصوبوں اور پالیسیوں کے دعوے ہوتے ہیں مگر حقیقی تبدیلی نظر نہیں آتی۔

پرائیویٹ اسکول اپنی منافع بخش فیس کی دوڑ میں بچوں کی صلاحیتوں کو روندتے رہتے ہیں اور والدین بے بسی سے اپنے بچوں کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں چھوڑ دیتے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ صوبائی حکومت محض بیانات کے بجائے عملی قدم اٹھائے۔ تمام پرائیویٹ اسکولوں کا سخت احتساب ہونا چاہیے جو تعلیم کے بجائے کاروبار کر رہے ہیں۔ جو بھی بچے کے مستقبل سے کھیلتا ہوا پایا جائے اسے فوری طور پر بند کیا جائے اور قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ قومیں جنگوں سے نہیں بلکہ تعلیم کی کمی اور تعلیمی ناانصافی سے تباہ ہوتی ہیں۔ اگر آج اسکولوں کو علم کا گھر نہ بنایا گیا تو کل صرف ڈگریاں ہوں گی مگر وہ ذہن نہیں ہوں گے جو ایک روشن باوقار اور خودمختار پاکستان کی بنیاد رکھ سکیں۔۔

Check Also

Nafrat Ki Lakeer Mat Khencho

By Amer Abbas