Mick Hunt: Aik Aur Azeem Rukhsat
مِک ہنٹ: ایک اور عظیم رخصت

کہتے ہیں ایک بادشاہ نے اپنے باغبان سے پوچھا کہ اس کے باغ کی سب سے قیمتی چیز کون سی ہے؟ باغبان نے نہ کسی نایاب پھول کا نام لیا اور نہ کسی مہنگے درخت کا۔ اس نے عاجزی سے کہا: "حضور، باغ کی اصل دولت وہ ہاتھ ہیں جو اسے سنوارتے ہیں اور وہ دل ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر یہ ہاتھ اور یہ دل نہ ہوں تو سب سے خوبصورت باغ بھی چند دنوں میں ویران ہو جاتا ہے"۔ بادشاہ نے اس دن پہلی مرتبہ سمجھا کہ اصل عظمت اکثر ان لوگوں میں ہوتی ہے جو پس منظر میں رہ کر کام کرتے ہیں، مگر جن کی محنت کے بغیر کوئی شان قائم نہیں رہ سکتی۔
کرکٹ کی دنیا میں بھی ایسے ہی بے شمار لوگ ہوتے ہیں جو اس کھیل کے اصل معمار ہوتے ہیں، مگر ان کے نام روشنیوں میں نہیں آتے۔ بیٹ اٹھانے والے، وکٹیں گرانے والے اور میدان میں داد سمیٹنے والے کھلاڑی تو سب کو یاد رہتے ہیں، لیکن وہ لوگ جو اس کھیل کے لیے زمین کو زندہ رکھتے ہیں، جن کے ہاتھوں سے میدان کی سانس چلتی ہے، ان کا ذکر اکثر پس منظر میں رہ جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک نام مِک ہنٹ تھا، جو تقریباً نصف صدی تک کرکٹ کے بہترین میدان لارڈز کی مٹی سے جڑا رہا۔ اب وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے، مگر اس کی محنت، اس کی محبت اور اس کا کردار اس تاریخی میدان کی گھاس کے ہر تنکے میں زندہ رہے گا۔ لارڈز صرف ایک میدان نہیں، کرکٹ کی روح ہے اور اس روح کی نگہبانی کرنے والوں میں اگر کسی کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا تو ان میں مِک ہنٹ ضرور شامل ہوں گے۔
مِک ہنٹ نے دسمبر 1969 میں لارڈز کے گراؤنڈ اسٹاف میں شمولیت اختیار کی۔ شاید اس وقت اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی کے تقریباً پچاس سال اسی میدان کی مٹی کے ساتھ گزار دے گا۔ 1985 میں جب اس کے پیشرو جم فیئربروتھر ریٹائر ہوئے تو مِک ہنٹ کو اس تاریخی میدان کا چیف گراؤنڈز مین بنا دیا گیا۔ اس کے بعد آنے والے تینتیس برس اس کے لیے محض ملازمت کے سال نہیں تھے بلکہ ایک عہد تھے جس میں اس نے زمین کے ساتھ ایک ایسا تعلق قائم کیا جسے صرف پیشہ ورانہ ذمہ داری کہنا ناانصافی ہوگی۔ اس کے دور میں لارڈز میں اکیاسی ٹیسٹ میچ کھیلے گئے، مردوں اور خواتین کے اسی سے زیادہ محدود اوورز کے مقابلے ہوئے اور آٹھ عالمی کپ فائنلز اسی میدان کی گھاس پر انجام کو پہنچے۔ ان سب کے درمیان مڈل سیکس کی بے شمار کاؤنٹی میچز بھی ہوئے۔ ہر میچ کے پیچھے ایک شخص کی خاموش محنت تھی جو صبح کی نمی اور شام کی تھکن کے درمیان میدان کی ہر سانس کو سنوارتا تھا۔
کرکٹ کی تاریخ میں میدان کی تیاری ایک فن بھی ہے اور ایک سائنس بھی۔ پچ کی مٹی کا توازن، گھاس کی مقدار، نمی کی سطح، موسم کا مزاج، یہ سب عوامل ایک ایسے کھیل کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں جسے کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں۔ مِک ہنٹ اس فن کا ایسا استاد تھا جس کے بارے میں انگلینڈ اور مڈل سیکس کے سابق فاسٹ باؤلر اینگس فریزر نے کہا کہ لارڈز کی طویل اور شاندار تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے اس میدان کی خوبصورتی اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے مِک ہنٹ جتنا کام کیا ہو۔ فریزر کے الفاظ میں، "یہ کہنا کہ مِک ایک کردار تھا، دراصل اس کی شخصیت کو کم بیان کرنا ہے۔ وہ ایک مکمل لیجنڈ تھا۔ اس نے انچ انچ گھاس کو اس محبت سے سنوارا کہ میدان ہمیشہ بے عیب نظر آئے، چاہے میچ کی اہمیت کچھ بھی ہو"۔ یہ الفاظ صرف ایک تعریف نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ کھیل کے پیچھے کھڑے لوگ بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں جتنے اس کے سامنے نظر آنے والے ستارے۔
مِک ہنٹ کی زندگی میں کئی یادگار لمحات آئے، مگر ان میں سے ایک سب سے مشکل آزمائش 2012 میں پیش آئی۔ اس سال لندن اولمپکس کے دوران لارڈز کو تیراندازی کے مقابلوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ جب اولمپکس ختم ہوئے تو کرکٹ کی دنیا کو دوبارہ اسی میدان میں ایک ٹیسٹ میچ کھیلنا تھا۔ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان یہ مقابلہ صرف بارہ دن بعد ہونا تھا۔ اس مختصر مدت میں مِک ہنٹ کے سامنے ایک بڑا چیلنج تھا۔ میدان کے ایک بڑے حصے کو دوبارہ گھاس لگانی تھی کیونکہ عارضی اسٹینڈز ہٹانے کے بعد آؤٹ فیلڈ کا تقریباً ایک تہائی حصہ متاثر ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود اس نے نہ صرف پچ تیار کی بلکہ پورے میدان کو اس طرح بحال کیا کہ ٹیسٹ میچ پوری شان سے کھیلا گیا۔ جنوبی افریقہ نے وہ میچ اکاون رنز سے جیت لیا، لیکن میچ ریفری نے پچ کو "بہت عمدہ" قرار دیا۔ اس کارنامے پر مِک ہنٹ کو دنیا کا بہترین گراؤنڈز مین قرار دیا گیا۔ یہ اعزاز دراصل اس بات کی گواہی تھا کہ خاموش محنت بھی تاریخ میں اپنا مقام بنا لیتی ہے۔
2018 میں جب بھارت کے خلاف لارڈز میں ٹیسٹ میچ کھیلا گیا تو یہ مِک ہنٹ کے ہاتھوں تیار ہونے والی آخری ٹیسٹ پچ تھی۔ اسی موقع پر انگلینڈ کے عظیم بیٹر جو روٹ نے اسے ایک دستخط شدہ بیٹ پیش کیا۔ یہ صرف ایک تحفہ نہیں تھا بلکہ کرکٹ کی دنیا کی طرف سے ایک خراجِ تحسین تھا۔ اس دن شاید بہت سے لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ کھیل کے عظیم اسٹیج کے پیچھے بھی ایک انسان ہوتا ہے جس کی محنت نے اس اسٹیج کو ممکن بنایا ہوتا ہے۔ مِک ہنٹ 49 برس تک اس میدان کی خدمت کرتا رہا اور پھر خاموشی سے رخصت ہوگیا، بالکل اسی طرح جیسے وہ ہمیشہ خاموشی سے اپنا کام کرتا رہا تھا۔ اب اس کے جانے کی خبر آئی ہے تو لارڈز کی فضائیں شاید پہلے جیسی نہیں رہیں۔ کیونکہ بعض لوگ اپنے وجود سے جگہوں کو معنی دیتے ہیں اور جب وہ چلے جاتے ہیں تو جگہیں بھی کچھ اداس ہو جاتی ہیں۔
کرکٹ کی دنیا ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ عظمت صرف اسکور بورڈ پر نہیں لکھی جاتی۔ بعض عظمتیں زمین کی تہوں میں چھپی ہوتی ہیں، بعض محنتیں صبح کی شبنم میں گھل جاتی ہیں اور بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو کسی شہرت کے بغیر بھی تاریخ میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ مِک ہنٹ انہی لوگوں میں سے ایک تھا۔ اس نے بیٹ نہیں اٹھایا، اس نے سینچریاں نہیں بنائیں، اس نے وکٹیں نہیں گرائیں، لیکن اس نے وہ میدان تیار کیا جہاں یہ سب کارنامے ممکن ہوئے۔ اس کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل وقار خدمت میں ہے اور اصل عظمت اس خاموش وفاداری میں ہے جو انسان کو اپنے کام سے جوڑ دیتی ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے کھیل، اپنے اداروں اور اپنی روایتوں کے ان خاموش معماروں کو یاد کرنا چاہیے جو پس منظر میں رہ کر تاریخ کو ممکن بناتے ہیں۔ میدانوں کی گھاس، اسٹیڈیموں کی دیواریں اور کھیل کی روایتیں دراصل انہی لوگوں کی امانت ہوتی ہیں۔ جب کوئی ایسا شخص رخصت ہوتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں جاتا بلکہ ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔
اور شاید اسی احساس کو چند مصرعوں میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے:
چمن کی رونقوں میں جن کا نام کم نظر آیا
وہی تو باغ کے اصل نگہبان نکلے
نہ شور، نہ دعوے، نہ شہرت کی طلب کوئی
بس مٹی سے جڑے لوگ ہی انسان نکلے
جو گھاس کو سنوارتے رہے عمر بھر خاموش
وہی کھیل کی تاریخ کے عنوان نکلے

