Mujtaba Khamenei
مجتبیٰ خامنہ ای

فروری 2026 کے آخری ایام میں جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکے تو واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں میں یہ گمان بہت پختہ تھا کہ یہ معرکہ چند روز کی مار ہے۔ انہیں لگتا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی اور بے پناہ فضائی طاقت کے بل بوتے پر وہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ لیکن اب جب ہم مارچ کے دوسرے عشرے میں کھڑے ہیں تو زمینی حقائق امریکی اندازوں اور توقعات کے بالکل برعکس شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ صرف ایک روایتی جنگ نہیں رہی بلکہ خطے کی تاریخ کا ایک نیا اور فیصلہ کن موڑ بن چکی ہے۔
ایران نے اپنے جوابی حملوں میں مشرق وسطیٰ کے طول و عرض میں پھیلے امریکی فوجی اڈوں کو جس بے دردی سے نشانہ بنایا ہے، اس نے دہائیوں پر محیط امریکی فوجی برتری کے طلسم کو یکسر توڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ فوجی تنصیبات جنہیں کبھی ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا، آج دھوئیں اور راکھ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ ایک طویل عرصے سے مغربی دنیا ایران میں جس رجیم چینج کے خواب دیکھ رہی تھی، وہ اب ریت کے محل کی طرح بکھرتا محسوس ہو رہا ہے۔ طاقت کا توازن اس تیزی سے بدل رہا ہے کہ اس نے عالمی طاقتوں کو ایک نئی، تلخ اور غیر متوقع حقیقت کے روبرو لا کھڑا کیا ہے۔
اس ساری صورتحال میں سب سے اہم اور فیصلہ کن موڑ وہ سانحہ تھا جس نے پوری ایرانی قوم اور قیادت کو ہلا کر رکھ دیا۔ بمباری اور جنگ کی اس اندھی ہولناکی میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور فوجی و سیاسی قیادت کی اچانک شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا نقصان تھا جس کی تلافی بظاہر ناممکن لگتی تھی۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کا خیال تھا کہ اس سطح کے بڑے جانی نقصان اور صف اول کی قیادت کے اچانک خاتمے کے بعد ایران گہرے اندرونی خلفشار کا شکار ہو جائے گا۔
ان کا تجزیہ تھا کہ اقتدار کی کشمکش شروع ہوگی، سڑکوں پر افراتفری پھیلے گی اور مزاحمت کی کمر ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے گی لیکن تاریخ ہمیشہ طاقتور کے حق میں نہیں لکھی جاتی۔ جب قومیں بقا کی فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہوں تو ایسے دلخراش سانحات انہیں بکھیرنے کے بجائے ایک نئی اور نامعلوم طاقت کے ساتھ یکجا کر دیتے ہیں۔ اسی کڑے اور تاریک وقت میں قیادت کی منتقلی نے دنیا بھر کے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ کسی طویل تعطل، سیاسی رسہ کشی یا انتشار کے بجائے کمان انتہائی منظم انداز میں نئے ہاتھوں میں منتقل ہو چکی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا نئے سپریم لیڈر کے طور پر منظر عام پر آنا محض ایک انتظامی خلا کو پر کرنے کا فیصلہ یا کوئی روایتی عمل نہیں ہے۔ موجودہ خونریز جنگی ماحول اور اس ہولناک خاندانی سانحے کے فوراً بعد ان کی تعیناتی دراصل امریکہ اور اسرائیل کے لیے کھلی مزاحمت کا ایک نیا اور دو ٹوک اعلان ہے۔ وہ دہائیوں تک اقتدار کی راہداریوں میں پردے کے پیچھے رہ کر ایران کی پیچیدہ داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کو سمجھنے، بنانے اور چلانے کا انتہائی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
ان کا اس نازک ترین موڑ پر انتخاب اس بات کی واضح غمازی کرتا ہے کہ ایران اب کسی قسم کی پسپائی، دباؤ یا مفاہمت کے موڈ میں ہرگز نہیں ہے۔ ایک ہی دن میں باپ، بیوی اور بیٹی کے سائے سے محروم ہونے کے بعد ان کا ملکی اور عسکری باگ ڈور سنبھالنا ایرانی مزاحمت کا پیغام ہے۔ واشنگٹن کے لیے یہ صرف ایک چہرے یا نام کی تبدیلی نہیں ہے بلکہ ان کا واسطہ اب ایک ایسے ذہن سے ہے جو پچھلی قیادت کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت گیر، بے لچک اور حالات کے انتہائی تلخ حقائق سے نبرد آزما ہونے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت، ان کی سوچ اور ان کے کام کرنے کے انداز کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی کے اوراق پلٹ کر ان کی زندگی کے ابتدائی دنوں کی طرف جانا ہوگا۔ ان کی پیدائش ایسے وقت میں ہوئی جب ایران میں پہلوی بادشاہت کے ظلم و ستم کے خلاف ایک طویل، خاموش اور کٹھن جدوجہد کا آغاز ہو رہا تھا۔ ان کا بچپن عام بچوں کی طرح نہیں گزرا بلکہ یہ شاہ ایران کی بدنام زمانہ خفیہ پولیس ساواک کی کارروائیوں، چھاپوں، گرفتاریوں اور ایک مسلسل خوف کے سائے میں پروان چڑھا۔ انہوں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے گھر اور اردگرد انقلاب کی بازگشت سنی۔ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے انقلابِ ایران کی داستانیں صرف تاریخ کی کتابوں میں نہیں پڑھیں بلکہ اس نظریے کو گلی کوچوں میں پروان چڑھتے، خون دیتے اور پھر ایک مکمل اسلامی ریاست کی شکل اختیار کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ وہ دور تھا جس نے ان کی شخصیت کی بنیادوں میں مزاحمت، خاموشی اور استقامت کے بیج بوئے۔ ان کی موجودہ سوچ اور سخت گیر نظریات پر اس ابتدائی دور کی گہری اور انمٹ چھاپ ہے جس میں قربانی دینے اور اپنے نظریے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دینے کا سبق سب سے نمایاں تھا۔
جب 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان ایک طویل، تھکا دینے والی اور خونریز جنگ چھڑی تو مجتبیٰ محض ایک حکمران کے بیٹے کی طرح محفوظ محلات میں بیٹھ کر تماشائی نہیں بنے رہے۔ انہوں نے ایک عام رضاکار سپاہی کی حیثیت سے سیدھا محاذ جنگ کا رخ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پوری دنیا کی طاقتیں عراق کی پشت پر کھڑی تھیں، ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر تھیں اور ملک کو اپنے دفاع کے لیے بے پناہ اور ناقابل تصور قربانیاں دینا پڑ رہی تھیں۔ مجتبیٰ نے خندقوں میں مٹی اور بارود کے درمیان وقت گزارا، موت کو قریب سے دیکھا، بارود کی بو کو اپنی سانسوں میں محسوس کیا اور اپنے قریبی ساتھیوں کو خون میں لت پت اپنی جانیں نچھاور کرتے دیکھا۔ جنگ کے ان کٹھن برسوں نے انہیں صرف عملی عسکری تجربہ ہی فراہم نہیں کیا بلکہ انہیں سپاہ پاسداران کے ان کمانڈروں کے بے حد قریب کر دیا جو ایران کی عسکری طاقت اور میزائل پروگرام کا اصل مرکز ہیں۔ ان کی موجودہ طاقت اور اثر و رسوخ کا ایک بہت بڑا حصہ اسی دور کی گہری قربتوں اور اس انمٹ اعتماد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے میدان جنگ کی خاک چھان کر حاصل کیا۔
جنگ بندی اور اس کے بعد کے طویل برسوں میں مجتبیٰ خامنہ ای نے دانستہ طور پر خود کو منظر عام اور میڈیا کی چکاچوند سے دور رکھا لیکن ان کی یہ خاموشی کسی بھی طرح غیر فعالیت یا گوشہ نشینی نہیں تھی۔ انہوں نے دہائیوں تک اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر کے زیر سایہ ایک انتہائی کڑی، منظم اور طویل تربیت حاصل کی۔ وہ ریاستی امور کی باریکیوں، انتہائی حساس سکیورٹی بریفنگز، انٹیلی جنس کی رپورٹس اور عالمی سفارت کاری کی ان پیچیدگیوں کو قریب سے دیکھتے اور ان میں اپنا کردار ادا کرتے رہے جن تک ملک میں بہت کم لوگوں کی رسائی تھی۔ انہیں ایران کے پیچیدہ سیاسی اور مذہبی نظام کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کا ہنر سکھایا گیا۔ انہوں نے قم کے مدرسے کی روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ریاستی چیلنجز اور عالمی سیاست کا گہرا ادراک حاصل کیا۔ یہ وہی دور تھا جب ان کے بارے میں مغربی تھنک ٹینکس اور خفیہ اداروں میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں لیکن ان کا حقیقی اثر و رسوخ ہمیشہ ان قیاس آرائیوں سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع رہا۔ وہ خاموشی سے شطرنج کے مہرے چلنے اور اپنے حریفوں کو حیران کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اب جب وہ خود اس بساط کے سب سے اہم اور طاقتور مقام پر کھڑے ہیں تو ان کی چالیں ماضی سے کہیں زیادہ بے رحم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔
مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ بیس سالوں سے ایران کے سٹریٹجک فیصلوں کی روح رواں رہے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے قدس فورس کے ساتھ ان کا تال میل اور انٹیلی جنس نیٹ ورک پر ان کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ سی آئی اے اور موساد کبھی ان کے اگلے قدم کا اندازہ نہ لگا سکے۔ ان کی تعیناتی نے مزاحمتی بلاک یعنی حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثیوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ اب یہ جنگ صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک عالمی انتفاضہ بن چکی ہے جس کا رخ براہِ راست امریکی استعمار کی شہ رگ کی طرف ہے۔
آج جب پورا مشرق وسطیٰ بارود کے ایک بہت بڑے ڈھیر پر بیٹھا ہے اور امریکی فوجی اڈے مسلسل ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن کر تباہ ہو رہے ہیں تو مجتبیٰ خامنہ ای کا مسندِ اقتدار پر بیٹھنا واشنگٹن کو ایک انتہائی واضح اور دو ٹوک پیغام دے رہا ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما بن کر ابھرے ہیں جنہیں اب ذاتی سطح پر کسی نقصان کا کوئی ڈر یا خوف نہیں رہا۔ اپنے خاندان کی قربانی دینے کے بعد ان کے پاس کھونے کو مزید کچھ نہیں بچا جبکہ پانے کے لیے ایک پورا نظریہ اور خطے کی آزادی کا مقصد موجود ہے۔
امریکہ نے فروری کے آخر میں جس جنگ کا آغاز ایک آسان ہدف اور تیز رفتار فتح سمجھ کر کیا تھا، وہ اب اس کے گلے کی ایسی ہڈی بن چکی ہے جسے نہ اگلا جا سکتا ہے نہ نگلا جا سکتا ہے۔ ایران کی تمام تر عسکری اور مزاحمتی قوتوں کو اب ایک ایسا کمانڈر مل گیا ہے جس کی رگوں میں انقلاب کی روح، محاذ جنگ کا براہ راست تجربہ اور دہائیوں کی ریاستی حکمت عملی ایک ساتھ دوڑ رہی ہے۔ واشنگٹن کے پالیسی سازوں کو اب یہ تلخ اور ناقابل تردید حقیقت تسلیم کرنی ہی پڑے گی کہ ایران میں ان کے بنائے گئے رجیم چینج کے تمام پرانے خواب مکمل طور پر راکھ ہو چکے ہیں۔ اب ان کے سامنے ایک ایسا نیا، پرعزم اور زخم خوردہ ایران کھڑا ہے جو اپنے نئے سپریم لیڈر کی بے باک قیادت میں امریکی غرور کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملانے کا حتمی تہیہ کر چکا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران اب ایک نئی منزل کی طرف گامزن ہے جہاں امریکی استعمار کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ وہ لیڈر جس نے اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں کے جنازے اٹھائے ہوں، اسے کسی عالمی پابندی یا فوجی دھمکی سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف ایک ملک کا دفاع یا تہذیب بقا کی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ صورتحال عالمی طاقت کے توازن کی ایک نئی اور فیصلہ کن تاریخ لکھ رہی ہے۔

