Tuesday, 10 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Mashriq e Wusta Ki Aag

Mashriq e Wusta Ki Aag

مشرقِ وسطیٰ کی آگ

6 اگست 1945ء کی صبح جاپان کے شہر ہیروشیما میں سورج معمول کے مطابق طلوع ہوا تھا۔ لوگ گھروں سے نکل کر اپنے کاموں پر جا رہے تھے، بچے سکولوں کی طرف بڑھ رہے تھے اور زندگی اپنی روزمرہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ لیکن صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر آسمان سے ایک امریکی بمبار طیارہ نمودار ہوا اور اس نے "لٹل بوائے" نامی ایٹم بم شہر پر گرا دیا۔ چند سیکنڈ کے اندر اندر پورا شہر آگ اور دھوئیں کے بادل میں تبدیل ہوگیا۔ تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ انسان پلک جھپکتے میں ہلاک ہو گئے اور دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ جب طاقت اور جنگ انسانیت پر غالب آ جائیں تو تباہی کس قدر ہولناک ہو سکتی ہے۔

قیامت کی یہ داستان یہیں ختم نہیں ہوئی۔ صرف تین دن بعد 9 اگست 1945ء کو صبح 11 بج کر 2 منٹ پر امریکہ نے جاپان کے شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم "فیٹ مین" گرا دیا۔ چند لمحوں میں شہر کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا اور تقریباً 70 ہزار انسان لقمۂ اجل بن گئے۔ یوں صرف تین دنوں میں دو شہر ایٹمی آگ میں جل گئے اور دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ جب بڑی طاقتیں جنگ میں حدیں پار کر دیتی ہیں تو انجام صرف فوجوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت اس کی قیمت چکاتی ہے۔

آج دنیا ایک بار پھر ایسے ہی خوفناک موڑ کے قریب کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور حالیہ جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی آگ میں دھکیل دیا ہے۔ یہ جنگ صرف تین ممالک کے درمیان لڑائی نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی سیاست کے توازن کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ تنازع کسی بھی وقت بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اس جنگ کا سب سے بڑا اور غیر معمولی واقعہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور اس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ علی خامنہ ای کا نیا سپریم لیڈر منتخب ہونا ہے۔ ایران کی مجلسِ خبرگان نے انہیں اس منصب پر منتخب کرکے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس نے نہ صرف ایران کے سیاسی نظام میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے بلکہ عالمی سیاست میں بھی کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سپریم لیڈر کا منصب باپ سے بیٹے کو منتقل ہوا ہے۔ ایران کا انقلاب دراصل موروثی بادشاہت کے خلاف برپا ہوا تھا لیکن اب حالات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای زیادہ تر پس منظر میں رہنے والی شخصیت سمجھے جاتے تھے لیکن ایران کے طاقتور اداروں خصوصاً پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات کی خبریں ہمیشہ گردش کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ان کا سپریم لیڈر بننا دراصل ایک پیغام ہے کہ ایران موجودہ بحران میں کسی کمزور قیادت کے حوالے نہیں کیا گیا بلکہ ایک ایسی قیادت سامنے آئی ہے جو شاید پہلے سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرے۔

ادھر امریکہ کی طرف سے ردعمل بھی فوری آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند دن پہلے بیان دیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای بطور سپریم لیڈر قابل قبول نہیں ہیں۔ یہ بیان بظاہر ایک سیاسی جملہ لگتا ہے لیکن اس کے پیچھے کئی سفارتی پرتیں چھپی ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں اکثر ایسے بیانات دباؤ ڈالنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ امریکہ شاید ایران کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ موجودہ قیادت کو تسلیم کرنے میں جلدی نہیں کرے گا اور وہ ایران سے کسی مختلف طرز کے سیاسی رویے کی توقع رکھتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے بعض حلقوں کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ امریکہ نے قطر کے ذریعے ایران کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای ریٹائر ہو جائیں اور ان کی جگہ مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنا دیا جائے تو امریکہ کے لیے ان کے ساتھ معاملات کرنا زیادہ آسان ہوگا کیونکہ وہ نسبتاً نوجوان ہیں اور نئی سوچ کے حامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس وقت ایران کی پارلیمنٹ اور خود آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس خیال کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ نہیں بلکہ شہادت کی موت چاہتے ہیں۔

یہ تمام واقعات آج کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایک طرف ایران کی قیادت بدل چکی ہے اور دوسری طرف جنگ جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ کیا مجتبیٰ خامنہ ای صورتحال کو سنبھال کر مذاکرات کی طرف جائیں گے یا ایران اسی شدت کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ جاری رکھے گا؟

فی الحال ایران کا رویہ واضح ہے۔ ایرانی قیادت اور فوج دونوں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں۔ ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنا کر یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے اور فی الحال وہ ڈٹ کر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طویل جنگیں اکثر ممالک کو تھکا دیتی ہیں۔ معیشت متاثر ہوتی ہے، عالمی دباؤ بڑھتا ہے اور بالآخر مذاکرات کی میز ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔ ممکن ہے ایران بھی پہلے اپنی طاقت دکھائے اور پھر کسی مرحلے پر سفارتی راستہ اختیار کرے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ اور اسرائیل بھی کسی حد تک پیچھے ہٹ کر مذاکرات کا راستہ تلاش کریں۔ لیکن اس کے لیے فریقین خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کو فیس سیونگ چاہیے۔ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔

اصل خطرہ اس وقت جنگ کے پھیلاؤ کا ہے۔ اگر یہ تنازع صرف ایران اور اسرائیل تک محدود رہتا ہے تو شاید اسے کسی نہ کسی مرحلے پر روک لیا جائے گا لیکن اگر اس میں خطے کے دوسرے ممالک شامل ہو گئے تو صورتحال بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔ لبنان، شام، عراق، یو اے ای، سعودی عرب اور یمن پہلے ہی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں اور ایران کے اتحادی گروہ بھی کسی بھی وقت میدان میں آ سکتے ہیں۔

اگر ایسا ہوا تو یہ جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور اگر عالمی طاقتیں اس میں براہِ راست شامل ہوگئیں تو پھر یہ تنازع تیسری عالمی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔

ایٹمی ہتھیاروں کا خدشہ بھی اسی وجہ سے بار بار سامنے آ رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ بھی ابتدا میں ایک محدود تنازع تھی لیکن آہستہ آہستہ اس میں دنیا کی بڑی طاقتیں شامل ہوتی چلی گئیں اور آخرکار ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں کے بعد اس کا خاتمہ ہوا۔ آج دنیا پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہتھیاروں کی مالک ہے۔ اگر موجودہ جنگ اس سطح تک پہنچ گئی تو اس کے نتائج کا تصور بھی خوفناک ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کی موجودگی اس خدشے کو مزید بڑھا دیتی ہے کیونکہ ان کے فیصلے اکثر غیر متوقع ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست میں اس وقت بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں بظاہر اس جنگ کو پھیلنے سے روکنا چاہتی ہیں کیونکہ اگر مشرقِ وسطیٰ مکمل جنگ کا میدان بن گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور سیاست پر پڑیں گے۔

اس پوری صورتحال میں سب سے اہم کردار شاید نئی ایرانی قیادت کا ہوگا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک ایسے وقت میں اقتدار ملا ہے جب ان کا ملک حالت جنگ میں ہے۔ انہیں ایک طرف داخلی سیاسی استحکام اور یک جہتی برقرار رکھنا ہے اور دوسری طرف عالمی دباؤ کا سامنا بھی کرنا ہے۔ یہ فیصلہ کہ ایران جنگ کو مزید آگے لے کر جاتا ہے یا مذاکرات کی طرف مڑتا ہے، آنے والے مہینوں میں عالمی سیاست کی سمت طے کر سکتا ہے۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ کا آغاز کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اسے ختم کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی آج بھی انسانیت کو یہ یاد دلاتی ہے کہ طاقت کے نشے میں لیا گیا ایک فیصلہ پوری دنیا کو دہائیوں تک زخمی کر سکتا ہے۔

آج جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے تو دنیا ایک بار پھر اسی سوال کے سامنے کھڑی ہے کہ کیا انسان واقعی تاریخ سے سبق سیکھتا ہے یا ہر نسل کو اپنی غلطیاں خود دہرا کر ہی سمجھ آتی ہیں۔ اگر عقل اور سفارتکاری نے جلد راستہ نہ نکالا تو مشرقِ وسطیٰ کی یہ آگ کسی بھی وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

Check Also

Mick Hunt: Aik Aur Azeem Rukhsat

By Asif Masood