Tuesday, 10 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Nafrat Ki Lakeer Mat Khencho

Nafrat Ki Lakeer Mat Khencho

نفرت کی لکیر مت کھینچو

کتنی عجیب بات ہے کہ لکھنے والوں نے ہمیشہ والدین کو پاک پاوتر اور غلطیوں سے مبرا ہی لکھا۔ میرے پاس آفس آ کر جب لوگ اپنے والدین یا اپنے طاقتور رشتےدار یا بھائی کی ناانصافی بارے بات کرتے ہیں یا فون پر والدین کی عدم مساوات یا زورآور بھائی کی جانب سے زیادتی کی صورت میں جائیداد میں سے یکسر محروم کر دینے بارے بتاتے ہیں تو دل میں ایک ہؤل سا اٹھتا ہے۔ والدین جن کے سینے میں سب سے زیادہ گنجائش ہوتی ہے، جن کی دعائیں رات کی تاریکی میں اولاد کے لئے ستارے گن گن کر مانگی جاتی ہیں، کبھی کبھار انہی ہاتھوں سے ناانصافی کی وہ دیوار کھڑی ہو جاتی ہے جسے وارثت کا تنازعہ کہہ کر عمر بھر بہن بھائی ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔

یہ میرا بار بار کا مشاہدہ ہے۔ عدالت کچہری میں آئے روز ایسے تماشے برپا ہوتے دیکھتا ہوں۔ یہ زمین، یہ مکان، یہ کھیت کھلیان۔۔ سب اللہ کی دین ہیں مگر افسوس کہ بعض ماں باپ اپنی زندگی ہی میں یہ تمام کا تمام عطیۂ خداوندی ایک بیٹے کے نام لکھ کر باقیوں کی جھولی خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ کسی کے دل میں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ بانس کو اگر ایک طرف سے زیادہ پانی دیا جائے تو دوسرا حصہ سوکھ ہی جائے گا۔ یہی ناانصافی آگے چل کر سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے جب بہن بھائی آپس میں ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔

ماں باپ کی چھتری تو اللہ کی بڑی نعمت ہے مگر جب وہی سایہ ایک طرف جھک جائے تو پیاسے درخت کو دھوپ بھی کچھ زیادہ ہی جھلسا دیتی ہے۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اپنے شرعی وارثان کو چھوڑ کر یہی ناانصافی جب وصیت کی شکل اختیار کرتی ہے تو خون کے رشتے کاغذ کے ان کترنوں میں بکھر کر رہ جاتے ہیں اور بعدازاں انھی کترنوں کو خون آلود ہوتے بھی دیکھا ہے۔

کتنے ہی بیٹے ہیں جو ماں باپ کی خدمت میں جوتے گھساتے ہیں، ان کے بڑھاپے کا سہارا بنتے ہیں اور کتنے ہی ہیں جو صرف خوشامد کی ڈور پکڑ کر ماں باپ کی آنکھوں پر محبت کی پٹی باندھ دیتے ہیں۔۔ پھر زمین کے کاغذ پر وہی نام امر ہو جاتا ہے جس نے دلوں کو مار کر جائیداد ہتھیا لی۔

عدالتوں میں سالہا سال سے چلتے آ رہے ایسے ہی کیسز کی بھرمار ہے جن میں سے ہزاروں کیسز تاحال بےنتیجہ ہیں جبکہ انکو تیسری نسل لے کر چل رہی ہے۔ کہیں پر اولاد والدین کو عدالتوں میں گھسیٹ رہی ہے جبکہ کہیں پر والدین اپنی اولاد کیخلاف عدالت میں کھڑی ہیں۔ کہیں پر عدالت کے دونوں کثہروں میں دونوں بھائی ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں۔ چاہے سونا ہو یا چاندی، کھیت ہو یا مکان۔۔ یہ سب وہی ہے جو قبر کی مٹی میں چند انچ بھی ساتھ نہیں جاتا۔ وہاں صرف عدل کا پلڑا تولنے والے رب کیجانب سے متعین کئے گئے فرشتے بیٹھے ہیں جو قبر میں اترتے ہی حساب بےباک کر دیتے ہیں۔ رب العظیم عرش پر بیٹھا ہے، جو قبر میں اور پھر روز محشر انصاف کا سب سے بڑا منصف ہے۔

معذرت کے ساتھ اولاد کے درمیان نفرت کا بیج بونے میں دیگر محرکات کے ساتھ کئی جگہوں پر ایسے تفریق کرنے والے والدین کا بھی نمایاں کردار ہے۔

ماں باپ وہ درخت ہیں جن کی چھاؤں میں سب پتے برابر ہرے رہتے ہیں۔۔ ایک پتہ پیلا کر دیں تو درخت کی ہریالی بھی بے رونق ہو جاتی ہے۔

سو اے دوستو!

اپنے ہی ہاتھوں اپنے بہن بھائیوں یا اپنی اولاد کے بیچ نفرت کی لکیر مت کھینچو۔ ورنہ یاد رکھو۔۔ جب لوگ آپ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آئیں گے تو کچھ ہاتھ دعا کے ہوں گے اور کچھ بددعا کے۔ کوشش کرو کہ سب ہاتھ دعا کے اٹھیں اور سب دل آپ کی مغفرت کی دعا کریں کیونکہ بٹوارے کے کاغذ تو بٹ جاتے ہیں لیکن ٹوٹے دل اکثر عمر بھر جڑتے نہیں۔

Check Also

America Aur Aslam Bhai Ka Dabdaba

By Wusat Ullah Khan