Main Ne Dharne Mein Kya Dekha
میں نے دھرنے میں کیا دیکھا

پنجاب کے دل لاہور میں واقع سول سیکرٹریٹ کے سامنے گزشتہ کئی روز سے سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد پرامن دھرنا دے کر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہی ہے۔ شرکاء کے جذبات کو قریب سے دیکھنے اور اظہار یکجتی کے لیے میں بھی دھرنے میں شریک ہوا۔ شرکاء کی تعداد شاید توقع کے مطابق بہت زیادہ نہ تھی، مگر جو لوگ موجود تھے ان کے چہروں پر عزم، آنکھوں میں امید اور لہجے میں اپنے حق کے لیے غیرمعمولی سنجیدگی نمایاں تھی۔ یہ لوگ اپنے روزگار، عزتِ نفس اور مستقبل کے تحفظ کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔
دھرنے میں شریک افراد سے گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ لوگ پنجاب کے دور دراز علاقوں سے سفر کرکے لاہور پہنچے ہیں۔ مختلف شہروں، محکموں اور گریڈز کے ملازمین ایک ہی مقصد کے تحت جمع تھے۔ پنڈال میں اساتذہ، کلرک، محکمہ صحت کے ملازمین، بلدیاتی ورکرز اور دیگر سرکاری شعبوں سے وابستہ افراد تھے۔ دھرنے کے روحِ رواں چیف کوآرڈینیٹر اگیگا پاکستان رحمان علی باجوہ پورے جوش اور اعتماد کے ساتھ شرکاء کے درمیان موجود تھے۔ وہ ہر آنے والے سے خوش اخلاقی سے مل رہے تھے، تصاویر بنوا رہے تھے اور شرکاء کو کامیابی کی امید دلا رہے تھے۔ ان کی گفتگو میں تلخی کے بجائے حوصلہ اور اتحاد کا پیغام نمایاں تھا۔
البتہ دھرنے میں شریک کئی افراد اگیگا پنجاب سے سخت نالاں دکھائی دیے، جس نے ملازمین کے حقوق کے لیے دیے گئے دھرنے کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ شرکاء کا مؤقف تھا کہ ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مشترکہ جدوجہد کی جانی چاہیے۔ تمام شرکاء رحمان علی باجوہ کی جرات، ہمت اور استقامت کو سراہا رہے تھے۔ رحمان علی باجوہ بھی یہی کہتے نظر آئے کہ اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ کچھ ہی دیر بعد اگیگا پنجاب کی جانب سے بھی میٹنگ کے بعد دھرنے میں شامل ہونے کا عندیہ سامنے آیا اور اختلافات کے باوجود مشترکہ جدوجہد کا اشارہ دیا گیا۔ یہ لمحہ اس دھرنے کا شاید سب سے امید افزا پہلو تھا، کیونکہ اختلافات کے باوجود اتحاد ہی کسی بھی تحریک کو طاقت دیتا ہے۔
دھرنے میں شریک ملازمین کی اکثریت حکومتِ پنجاب کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات نہ غیرقانونی ہیں اور نہ غیرحقیقی، بلکہ بنیادی حقوق سے متعلق ہیں جنہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ شرکاء کے مطابق ان کے اہم مطالبات یہ ہیں: پنشن اصلاحات کے نام پر کیے گئے ظالمانہ فیصلے واپس لیے جائیں۔ تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے تاکہ ملازمین بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کر سکیں۔ ڈسپیرٹی الاؤنس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے اور سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل روکا جائے جس سے ہزاروں ملازمین کا مستقبل غیر یقینی ہو رہا ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ ریاستی نظام دراصل انہی سرکاری ملازمین کے کندھوں پر قائم ہے۔ اسکولوں میں تعلیم دینے والے اساتذہ، ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والا عملہ، دفاتر میں نظام چلانے والے کلرک اور فیلڈ میں کام کرنے والے اہلکار ہی ریاستی مشینری کو متحرک رکھتے ہیں۔ ملازمین میں سب سے زیادہ غصہ اس بات پر تھا کہ حکومتی حلقے اپنی شاہانہ اخراجات میں کمی لانے کے بجائے معاشی بوجھ نچلے درجے کے ملازمین پر منتقل کر رہے ہیں۔
ان کا شکوہ تھا کہ حکمران طبقہ سرکاری وسائل سے مراعات خود حاصل کرتا ہے، جبکہ ملازمین کو نااہل قرار دے کر عوام میں ان کے خلاف منفی تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔ شرکاء جذباتی دکھائی دیے۔ بعض نے حکومتی پالیسیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انہیں ظلم قرار دیا، جبکہ کچھ افراد حکمرانوں کے لیے سخت الفاظ میں بددعائیں کرتے نظر آئے۔ یہ جذبات دراصل برسوں کی معاشی پریشانی، عدم تحفظ اور مسلسل نظرانداز کیے جانے کا نتیجہ محسوس ہو رہے تھے۔
دھرنے سے واپسی پر میرے ذہن میں ایک سوال بار بار گردش کرتا رہا کہ کیا ریاست اپنے ہی ستونوں کو کمزور کرکے مضبوط رہ سکتی ہے؟ یہ بھی سوچتا رہا کہ حکمران اقتدار میں آکر اپنے وعدے کیوں بھول جاتے ہیں اور کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار ہمیشہ قائم رہتا ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت اور اقتدار ہمیشہ عروج و زوال کے مراحل سے گزرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کسی حکومت کے مخالف نہیں ہوتے، وہ صرف اپنے حق، اپنے وقار اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اگر ملازمین کی آواز کو سنجیدگی سے سنا گیا تو یہ احتجاج ایک مثبت مکالمے میں بدل سکتا ہے، ورنہ خاموش اضطراب کسی بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ دھرنا ایک پیغام ہے کہ ریاست اور ملازمین ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک ہی نظام کے دو لازمی ستون ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر ریاست انہی ستونوں کو کمزور کرے گی تو نظام کی مضبوطی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

