Mazloom Jail Mein
مظلوم جیل میں

پاکستان کی سیاست اس وقت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے ایک طرف نام ہے جمہوریت دوسری طرف انداز حکومت کا وہی پرانا طاقت کا دباؤ کا اور بند کمروں میں فیصلوں کابات سادہ ہے مگر ماننے کو کوئی تیار نہیں۔ اگر عمران خان نے جرم کیا ہے تو شفاف ٹرائل ہو کھلی عدالت ہو۔ ثبوت ہوں فیصلہ ہو اور اگر جرم نہیں کیا تو پھر قید کیوں؟ قانون کا تقاضا جذبات سے بالاتر ہوتا ہے نہ این آر او انصاف ہے نہ سیاسی انتقام عدل ہے انصاف کا مطلب صرف ایک ہے اصول سب کے لیے برابر لیکن مسئلہ اصول کا نہیں اختیار کا ہے۔
پاکستانی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ اس کا مرکز پارلیمان نہیں کبھی کبھی ایک ایسا چوکیدار بن جاتا ہے جو بظاہر سرکاری ملازم ہوتا ہے مگر سیاست کا محور و مرکز بن بیٹھتا ہے فیصلے ایوان میں کم اور اشاروں میں زیادہ ہوتے ہیں سیاستدان زبان سے جمہوریت کا ورد کرتے ہیں مگر دل سے طاقت کے دربار کے حاضری دیتے ہیں سوال یہ نہیں کہ عمران خان کو ریلیف ملے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں قانون کسی شخصیت سے بالاتر ہو سکتا ہے۔
ہماری سیاست کا المیہ یہی رہا ہے کل جنہیں چور کہا گیا آج وہ اتحادی ہیں کل جو محب وطن تھے آج غدار ٹھہرے مسئلہ کردار کا نہیں وفاداری کے رخ کا ہے اقتدار کی ہوا جس طرف چلے اصول بھی ادھر ہی بہہ جاتے ہیں یہی وہ سیاسی موسمیات ہے جس نے عوام کو بدظن کیا نظام کو کمزور کیا اور ریاست کو تماشہ بنا دیا۔ این آر او اگر ملتا ہے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ طاقتور کے لیے قانون نرم ہے اگر انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر کسی کو جیل میں رکھا جاتا ہے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ اختلاف کی سزا قید ہے۔ دونوں صورتیں خطرناک ہیں میری نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاست ایک اسٹیج ہے جہاں کردار بدلتے رہتے ہیں مکالمے وہی رہتے ہیں ہر دور کا ایک ہیرو ہوتا ہے ہر دور کا ایک ولن فرق صرف اتنا ہے کہ اسکرپٹ کبھی عوام نہیں لکھتے۔
جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں رویے کا نام ہے اگر سیاستدان واقعی جمہوری ہیں تو انہیں سب سے پہلے یہ ماننا ہوگا کہ عدالتیں آزاد ہوں فیصلے شفاف ہوں اور کسی کو سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے اوپر یا نیچے نہ کیا جائے کسی طاقتور کے اشارے پر نہ ناچا جائے ورنہ تماشا جاری رہے گا مجرم اقتدار میں مظلوم جیل میں اور عوام تالی بجاتے یا سر پکڑتے رہیں گے اور مہنگائی کے قرب میں ازیتیں جھیلتے رہیں گے اصل سوال آج بھی وہی ہے کیا ہم قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں یا طاقت کی؟
جس طرح دورِ یزید میں حق کا عَلَم اُٹھانا آسان نہ تھا سچ کہنا بغاوت سمجھا جاتا تھا اور عدل کا ساتھ دینا جرم ٹھہرتا تھا آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں حق کے ساتھ کھڑے ہونا اب بھی آزمائش ہے۔ سچ اب بھی قیمت مانگتا ہے اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانا اب بھی قربانی چاہتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ وقتی طاقت کبھی دائمی نہیں ہوتی باطل کا شور جتنا بھی بلند ہو حق کی خاموش استقامت آخرکار غالب آتی ہے جو لوگ ظلم سہتے ہوئے بھی صبر و ثابت قدمی کا دامن نہیں چھوڑتے وہ دراصل شکستہ نہیں بلکہ منتخب ہوتے ہیں۔ بیشک صبر کرنے والوں کے لیے ربِّ کریم کی طرف سے ایسا اجر ہے جو نہ صرف آخرت میں سرخرو کرتا ہے بلکہ دنیا میں بھی ان کے کردار کو امر بنا دیتا ہے آزمائشیں وقتی ہیں، مگر صبر کا انعام ابدی ہے اقتدار ہر دور میں مجرموں اور قاتلوں کے ہاتھ میں رہا ہے مگر سرخرو مظلوم ہی ہوئے ہیں۔

