Nasl
نسل

"السلام علیکم پاپا۔۔ کیسے ہیں۔۔"
فون میں سے ہادی کی چہکتی آواز سن کر شمسہ کی جان جل کر خاک ہوگئی۔ انعام نے شمسہ کے چہرے کے بگڑتے زاویوں کو نظر انداز کر تے ہوئے گرم جوشی سے جواب دیا: "وعلیکم السلام۔۔ میں ٹھیک ٹھاک۔۔ تم سناؤ۔۔ تیاریاں کہاں تک پہنچیں۔۔ تاریخ طے ہوگئی؟"
اب شمسہ نے منہ پر دوپٹہ رکھ کر باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا انعام نے ہاتھ کے اشارے سے شمسہ کو چپ کرنے کی ناکام کوشش کی پھر تلملاتے ہوئے کمرے سے ہی نکل گئے مگر شمسہ کی آہوں سسکیوں کی آواز ہادی تک بھی پہنچ گئی۔
"پاپا۔۔ مما رو رہی ہیں نا۔۔ وہ اب بھی مجھ سے ناراض ہیں۔۔"
کچھ دیر پہلے والی خوشی ہادی کی آواز سے غائب ہو چکی تھی اور ایک گہری اداسی در آئی تھی۔
"ارے چھوڑو بیٹا۔۔ وہ کم پڑھی لکھی عورت ہے۔۔ رنگ، نسل، رشتے داریاں۔۔
چھوٹی چھوٹی چیز وں پر فوکس ہے۔۔ مگر میں ان چیزوں پر بالکل یقین نہیں کرتا۔۔ بس کلمہ گو مسلمان ہو۔۔ باقی نسل، رنگ روپ۔۔ یہ سب تو اللہ نے پہچان کے لئے بنائے ہیں۔۔"
انعام نے پردیس میں موجود اپنے بیٹے کو تسلی دینے کی کوشش کی۔
"مان جائے گی۔۔ تمہاری ماں کو میں منالوں گا۔۔ بس تم پریشان مت ہو اور سب کام اچھی طرح پلاننگ کے ساتھ کرو۔۔"
ہادی نے بھی خود کو کمپوز کر لیا۔
"جی پاپا۔۔ آپ فکر نہ کریں۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔ میں سب کرلوں گا۔۔"
***
"ایک ہی بہن ہے میری وہ۔۔ وہ بھی خفا ہوگئی۔۔"
کمرے میں شمسہ کے بین ابھی تک جاری تھے۔ انعام نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔
"تمہیں اپنے بیٹے کی خوشی سے زیادہ اپنی بہن کی خوشی کا خیال ہے۔۔ کیسی ماں ہو تم۔۔"
شمسہ نے درد بھری نظروں سے انعام کی طرف دیکھا "بیٹے کا ہی خیال ہے۔۔ جب ہی تو بہن کے گھر رشتہ طے کیا تھا۔۔ گھر کی لڑکی۔۔ دیکھی بھالی۔۔ ہم مذہب۔۔ ہم نسل۔۔ مگر آپ کو ماڈرن بنے کا اتنا شوق ہے۔۔ اکلوتے لڑکے کو بھیج دیا جرمنی۔۔ اب وہاں وہ نجانے کس کو پسند کر بیٹھا ہے۔۔ کون ہے۔۔ کس خاندان سے ہے۔۔ پتہ نہیں مسلمان بھی ہے کہ نہیں۔۔ اس کی شکل تک نہیں دیکھی ہے"۔
شمسہ کے رونے کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔
"اب ایسا بھی نہیں ہے۔۔ وہ مسلمان ہی ہے۔۔ میں نے بھی تو بات کی۔۔ اس کہا تھا کہ وہ مسلمان ہے۔۔"
انعام نے "ہے" پر زور دے کر کہا مگر شمسہ نے چٹکیوں میں بات اڑا دی۔
"اس نے کہا اور آپ نے مان لیا۔۔ واہ۔۔ واہ۔۔"
انعام کو بھی غصہ آ گیا "عجیب بے وقوف عورت ہو۔۔ ذرا سوچو۔۔ وہ جرمن نیشنل ہے۔۔ اس سے شادی کرکے ہمارا بیٹا بھی جرمن نیشنل ہو جائے گا۔۔ ہماری نسل میں بہتری آ جائے گی۔۔ گورے چٹے انگریز پوتا پوتی ہوں گے۔۔"
مگر شمسہ گورے چٹے پوتا پوتی کے ذکر سے ذرا متاثر نہ ہوئیں۔
"ہاں اور تم ان کے سامنے افریقی لگو گے۔۔"
اپنے پکے رنگ پر چوٹ کھا کر انعام تلملا سے گئے۔
تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔۔"
وہ پیر پٹختے کمرے سے نکل گئے اور شمسہ نے منہ پر دوپٹہ رکھ کر رونے کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا۔
***
"کیا ہوا؟"
روما ہادی کو فون پر بات کرتے سن رہی تھی۔ وہ اردو بول رہا تھا اس لئے سمجھ نہیں پائی مگر نے ہادی کو اداس دیکھ کر پریشان ہوگئی۔
"کچھ نہیں۔۔"
ہادی نے روما کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا مگر روما مطمئن نہیں ہوئی۔
"ہادی۔۔ میرا خیال ہے تمہاری ماں اس رشتے سے خوش نہیں ہے۔۔ مجھے سوچ کر ہی اچھا نہیں لگتا۔۔ اپنا آپ مجرم سا لگنے لگتا ہے۔۔ جیسے میں انھیں دکھ دے رہی ہوں۔۔"
"۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔ پاپا میرے ساتھ ہیں۔۔ وہ مما کو منالیں گے۔۔ تم فکر نہ کرو۔۔"
ہادی نے اس کو تسلی دی۔
***
خاندان میں جوش کی لہر دوڑ گئی۔
ہادی کی شادی ہو رہی ہے۔۔
جرمنی کی ہی لڑکی ہے۔۔
بھئی واہ۔۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ دلہن بھی مل گئی۔۔
کسی نے خوشی کا اظہار کیا تو کسی نے ناگواری کا۔۔ مگر ماں نے مخالفت اور باپ نے حمایت کی۔
ماں کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ ان کی بھانجی تھی جس کے ساتھ انھوں نے ہادی کا رشتہ غیر رسمی طور پر طے کر رکھا تھا۔
"شمسہ بڑے دکھ کی بات ہے۔۔ تم کئی سال تک مجھ سے کہتی رہیں کہ فائقہ تو میرے ہادی کی دلہن بنے گی اور۔۔ اب تم مجھے بتا رہی ہو کہ ہادی کسی جرمن میم سے شادی کر رہا ہے۔۔"
نجمہ کی آواز میں دکھ غصہ دونوں شامل تھے شمسہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بہن کے سامنے کیسے صفائی دے۔
"آپا۔۔ مجھے خود علم نہیں تھا۔۔ میں نے تو ہادی کو ہمیشہ یہ ہی کہا تھا کہ میں فائقہ کو ہی اپنی بہو بناؤں گی۔۔ وہ بھی راضی تھا۔۔ مگر نجانے کون بدبخت ہے جو میرے بچے کے پیچھے پڑ گئی ہے۔۔ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔۔ پاکستان میں ہوتی تو چوٹی سے پکڑ کر منہ رگڑ دیتی۔۔ اب تو سمجھو میرے ہاتھ پیر باندھے ہوئے ہیں۔۔"
مگر نجمہ کے سامنے اس کی بیٹی سوجی ہوئی آنکھیں لئے بیٹھی تھی اس کو بہن کی کسی مجبوری کا احسا س نہیں ہو رہا تھا۔
"تم جو بھی کہو۔۔ مگر میں یہ ہی کہوں گی۔۔ تم نے اچھا نہیں کیا۔۔"
نجمہ نے فون کاٹ دیا۔ شمسہ کے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ گئے۔ ایک ہی بہن تھی وہ بھی روٹھ گئی۔
***
"ارے بھئی سامعہ، نمرہ دیکھو بھائی نے تصویر بھیج دی ہے۔۔"
انعام نے اپنی بیٹیوں کو آواز دی۔ سامعہ اور نمرہ بھی کافی خوش تھیں البتہ ماں کے سامنے اظہار نہیں کرتی تھیں مگر میم بھابھی ملنے کی خوشی میں دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے، بھابھی کی تصویر کا سن کر دونوں دوڑی چلی آئیں۔
"یہ کیا بھائی نے گروپ فوٹو بھیج دی ہے۔۔
اب ان میں سے کون سی ہے؟"
نمرہ نے تصویر زوم کرتے ہوئے کہا
"بھائی نے لکھا تو ہے۔۔ پنک ڈریس والی۔۔ مگر اس میں تو دو نے پنک ڈریس پہنا ہے۔۔" سامعہ نے نمرہ کے ہاتھ سے موبائل لے لیا۔
"ارے بھئی ظاہر ہے یہ والی ہی ہے۔۔"
انعام نے فون واپس اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنی جرمن میم بہو کی تصویر کو زوم کرکے اسکرین شاٹ لے لیا۔
"اللہ پاپا۔۔ یہ تو بہت خو بصورت ہیں۔۔"
سامعہ اور نمرہ کے منہ سے ایک ساتھ نکلا
"جاؤ اپنی ماں کو بھی دکھا دو۔۔ دیکھ لیں وہ بھی اپنے بیٹے کی پسند۔۔"
نمرہ نے ڈرتے ڈرتے موبائل ماں کے سامنے کیا۔ شمسہ نے کھا جانے والی نظروں سے نمرہ کو دیکھا مگر خود کو روک نہ پائی۔ نمرہ کے ہاتھ سے موبائل چھیننے کے انداز میں لیا اور بغور دیکھنے لگیں۔ آنکھوں کے کناروں سے چھلکتی پسندیدگی کمرے میں موجود ہر ذی نفس نے خوب اچھی طرح دیکھ لی۔
***
"نکاح جرمنی میں اور ولیمہ پاکستان میں ہوگا۔۔"
ہادی نے کہا
نمرہ اور سامعہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر خوشی سے چیخ ماری۔
"یاہو۔۔"
انعام بھی اس کےاس فیصلے سے خوش تھے۔
"بالکل ٹھیک فیصلہ ہے۔۔ بھئی یہاں بھی ہمارا بھرا پرا خاندان ہے۔۔ دوست اقارب ہیں۔۔ سب کو پتہ چلنا چاہئے۔۔ تم بے فکر رہو۔۔ ہم بہو کے شایان شان استقبال کریں گے۔۔ میں سارے انتظامات کر لوں گا۔۔ ایسا ولیمہ ہوگا کہ لوگ دیکھیں گے۔۔"
مگر ہادی دھوم دھام کا سن کر برا فروختہ سا ہوگیا۔
"نہیں نہیں۔۔ پاپا۔۔ اتنا لمبا چوڑا خرچہ کرنے ضرورت نہیں ہے۔۔ بس چھوٹی سی تقریب کر لیں گے۔۔"
انعام نے وقتی طور پر تو ہادی کی بات پر ہامی بھر لی مگر جرمن بہو ملنے پر اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور وہ اس خوشی کو دل بھر کر سیلبریٹ کرنا چاہتا تھا۔
"امی سے بات کروا دیں۔۔ اپنے فون پر تو وہ میری کال ریسیو ہی نہیں کر رہی ہیں۔۔"
ہادی نے بے چارگی سے کہا
"ہاں ہاں۔۔ میں بلا کر لاتا ہوں۔۔ لو۔۔ جب تک تم اپنی بہنوں سے بات کرو۔۔"
انعام فون نمرہ کے حوالے کرکے کمرے سے نکلے اور سیدھے شمسہ کے سر پر جا کھڑے ہوئے۔
"بات سنو۔۔ بس بہت دن سوگ منالیا۔۔ اب اپنا موڈ ٹھیک کرو اور ہادی سے بات کرو۔۔ ارے بچہ پریشان ہو رہا ہے۔۔"
شمسہ بھی شوہر کے کڑے تیور دیکھ کر چپکی رہ گئیں۔ انعام نے تھوڑا نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا "دیکھو شمسہ۔۔ ہمیں اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش ہوناچاہئے۔۔ چلو شاباش۔۔ بات کرو اس سے۔۔"
خود شمسہ بھی اتنے دن ناراض رہ کر ہادی سے بات نہیں کر رہی تھیں مگر اندر ہی اندر وہ اس کی آواز سننے کے لئے بے تاب تھیں لہذا چپ چاپ کمرے میں پہنچی اور فون کان سے لگا لیا۔
"امی۔۔ آپ ناراض ہیں؟"
اکلوتے بیٹے کی روہانسی آواز نے ان کی ساری ناراضگی کو خشک پتوں کی طرح اڑا دیا۔
***
"امی میں بھابھی کی تصویر واٹس ایپ اسٹیٹس پر لگا دوں؟"
ماں کی ناراضگی ختم ہونے پر نمرہ نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ورنہ ماں کے ڈر کے مارے دونوں اس بارے میں بات بھی نہیں کرتی تھیں۔
"نہیں۔۔ بالکل نہیں۔۔"
شمسہ نےسختی سے کہا "آپا اور فائقہ۔۔ دونوں دیکھیں گی تو اور زیادہ دکھی ہو جائیں گی۔۔ پھر نظر لگنے کا ڈر بھی رہتا ہے۔۔ بس ابھی نہ اسٹیٹس پر لگانا نہ کسی کو دکھانا۔۔ جب وہ یہاں آئے گی تو سب ہی دیکھ لیں گے۔۔"
خوشی بھری مسکراہٹ بے قابو ہو کر شمسہ کے ہونٹوں کے کناروں سے چھلکنے لگی۔
گھر میں ایک جشن کا سا ماحول تھا۔ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت۔۔ دلہن کا ولیمے کا سوٹ۔۔ زیور۔۔ بری کے سوٹ۔۔ سب کچھ ہی لینا تھا مگرایک ڈر بھی تھا۔
"امی نجانے ان کو ہماری شاپنگ پسند آئے گی بھی یا نہیں۔۔ بھائی نے تو پہلے ہی منع کیا ہوا ہے۔۔ کہہ رہے تھے بہت پیسے خرچ نہیں کرنے ہیں۔۔ ان سے بھی نہیں پوچھ سکتے۔۔"
سامعہ نے بڑے شوق سے خوب گہرے خوبصورت رنگوں کے کئی ڈریسس آرڈر کر دئیے تھے۔
"بھئی اس پر تو پر رنگ اچھا لگے گا۔۔ ہادی کہہ رہا تھا کہ روما کو پاکستانی ڈریسس بہت اچھے لگتے ہیں۔۔ یہاں کی رسموں کے بارے میں اس نے کافی کچھ سیکھ لیا ہے۔۔ وہ تو بہت ایکسائیٹڈ ہے۔۔"
انعام نے بیٹیوں کا سارا خوف دور کردیا۔
***
"ہادی۔۔ مجھے اب بھی ڈر لگ رہا ہے۔۔ پتہ نہیں تمہارے گھر والوں کا کیا ری ایکشن ہوگا۔۔"
ادھر روما بھی ڈری ہوئی تھی۔ خود روما کے والدین اس رشتے کے حق میں نہیں تھے۔۔
ایک بالکل اجنبی شخص۔۔ بالکل اجنبی کلچر۔۔ روما کیسے ایڈجسٹ ہوگی اور اب روما کو بھی ڈر لگ رہا تھا۔
"کچھ نہیں ہوگا۔۔ روما۔۔ میر ے پاپا بہت براڈ مائنڈڈ ہیں۔۔ وہ رنگ و نسل پر یقین نہیں رکھتے۔۔ امی تھوڑا سا خفا تھیں۔۔ اب تو وہ بھی مان گئیں ہیں۔۔ سب بہت خوش ہیں۔۔"
ہادی نے اس کو سمجھایا۔
"میری ایک بات مان لو۔۔ نکاح کی تصویریں پاکستان مت بھیجنا۔۔ ہم خود جا کر دکھائیں گے۔۔"
روما نے کہا "ٹھیک ہے یار۔۔ بس تم جیسے کمفرٹیبل فیل کرو۔۔ وہ کر لیں گے۔۔"
روما نے گہری سانس لی اور ہادی کو دیکھ کر مسکرانے لگی اس کے موتیوں کی لڑیوں جیسے سفید دانت جھلملا اٹھے۔
ہادی محبت پاش نظروں سے اس کو دیکھنے لگا۔
***
"یہ کیا بات ہوئی۔۔ بھائی بالکل ولیمے والے دن آئیں گے۔۔" نمرہ نے مایوسی سے کہا
"ہم نے اتنے مہنگے پارلر سے بکنگ کروائی ہے۔۔ دو دن پہلے سے فشل اور مینی پیڈی کیور شروع ہو جاتا ہے۔۔"
سامعہ بھی اداس ہوگئی تھی۔
"میں نے تو رت جگا بھی پلان کر لیا تھا۔۔ ہم بھابھی کو سامنے بٹھا کر گانے گاتے۔۔ ناچتے۔۔"
"اور مہندی۔۔ مہندی بھی لگنی ہے۔۔
اسی دن یہ سب کیسے ہوگا؟"
شمسہ دونوں بیٹیوں کی شکل دیکھ کر بولیں
"ارے وہ میم ہے۔۔ جرمن میم۔۔ اس کو ان فشل اور مینی پیڈی کی ضرورت نہیں۔ ہلکے سے میک آپ میں بھی پری ہی لگے گی۔۔ ہاں مہندی لگنا ضروری ہے۔۔ آج کل ویسے بھی ایمرجنسی مہندی کون آ گئی ہے۔۔ بس آتے ہی لگوا دیں گے۔۔
گورے گورے ہاتھوں پر دس پندرہ منٹ میں ہی کلر آ جائے گا۔۔"
شمسہ کے الفاظ سن کر نمرہ اور سامعہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
***
خدا خدا کرکے ولیمہ کا دن آ پہنچا۔ سب ہی کسی نہ کسی کام میں مصروف تھے۔ حجلہ عروسی سجانے والے گلابوں کے ٹوکرے لئے آ جا رہے تھے۔ سامعہ اور نمرہ پارلر جانے کی تیاریاں کر رہی تھیں۔ شمسہ رسموں کے لئے استعمال ہونے والی چیزیں سجا رہی تھی اور انعام کو تو سر کھجانے کی فرصت نہ تھی کبھی ہال کی ڈیکوریشن والے فون کرتے تو کبھی انٹری اور آتش بازی والے۔۔
کیٹرنگ پر بھی نظر رکھنی ضروری تھی۔
زندگی گویا اپنی پوری رفتار سے بھاگ رہی تھی۔۔ خوشی گلاب کے پھولوں کی مہک کے ساتھ گھر کے کونے کونے میں تیرتی پھر رہی تھی۔
تب ہی انعام موبائل ہاتھ میں لئے کمرے میں داخل ہوئے جہاں تینوں ماں بیٹی اپنے اپنے ولیمے کے ڈریس دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں۔
"اچھا بھئی سنو۔۔ پلین تھوڑا لیٹ ہے۔۔ کچھ فنی خرابی ہوگئی تھی۔۔ وہ دونوں رات دس بجے تک پہنچیں گے۔۔"
موبائل فون سے آتی ہادی کی آواز سن کر تینوں ماں بیٹی کا منہ لٹک گیامگر انعام نے بات سنبھال لی
"کوئی بات نہیں۔۔ تم لوگ دلہن کا سب سامان ہال لے جانا۔۔ وہاں ڈریسنگ روم میں تیار کر دینا۔۔"
اب اس کے سوا چارہ بھی کیا تھا تینوں نے سر ہلا دیا۔
***
"سارا انتظام پرفیکٹ ہے۔۔ ہال میں مہمان آنا شروع ہو گئے ہیں۔۔ بھئی سب ہی ہادی کی میم دلہن دیکھنا چاہتے ہیں۔۔ ایسی انٹری کرواؤں گا لوگ یاد رکھیں گے۔۔"
انعام خوشی خوشی شمسہ کو بتا رہے تھے۔ خود شمسہ بھی کسی دلہن کی طرح ہی سجی بنی ہوئی تھیں۔۔ آخر کو اکلوتے بیٹے کا ولیمہ تھا۔۔ سامعہ اور نمرہ نے بھی اپنی تیاری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا تھا۔
اسی لمحہ انعام کو فون بجا۔ ہادی کی کال تھی۔
"پاپا۔۔
ہم علاقے میں داخل ہو گئے ہیں۔۔ 10 منٹ میں وہاں ہوں گے۔۔"
سامعہ نمرہ پھولوں کے ہار گجرے لے کر باہر بھاگیں۔ ساری کزن بچیوں نے پھولوں نچھاور کرنے لئے پلیٹیں تھام کر قطار بنا لی۔
بینڈ باجے والی منہ میں سانس بھر کر تیار ہو گئے۔ آتش بازی، لائٹس، میوزک، ویڈیو میکر۔۔ سب اسٹینڈ بائی ہو گئے۔
شمسہ نے گہری سانس لے کر خود کو پر سکون کیا وہ سب سے آگے کھڑی تھیں۔۔
چار سال بعد اکلوتا بیٹا واپس آ رہا تھا۔۔ جرمن میم کو بہو بنا کر لا رہا تھا۔۔
انعام بار بار تنقیدی نظروں سے انتظامات کا جائزہ لے رہا تھا۔۔
کچھ ہی منٹوں بعد بڑی سے سیاہ کار ہال کے مین گیٹ کے پاس آ کر رکی سب سے پہلے ہادی اترا۔
شمسہ کو لگا اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں۔۔ ہادی سب سے پہلے ماں کے گلے لگا پھر باپ اور بہنوں کا بازوں میں لے لیا۔
"ارے بیٹا۔۔ دلہن کو تو اتارو۔۔"
انعام نے کہا تو ہادی جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھا۔
شمسہ، انعام، نمرہ اور سامعہ کا دل گویا آنکھوں میں آگیا۔
انعام نے اندر بیٹھی روما کی طرف مسکرا کر دیکھااور ہاتھ بڑھایا۔
روما کافی کنفیوژ تھی۔۔
اجنبی جگہ۔۔ اجنبی لوگ۔۔ اس نے بہت بڑا فیصلہ کیا تھا۔
روما نے اپنا ٹھنڈا ہاتھ انعام کے ہاتھ میں دیا اور سہج سہج سرکتے ہوئے گاڑی سے باہر قدم رکھے۔۔
شمسہ، انعام، نمرہ اور سامعہ کی آنکھوں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
شمسہ نے لڑکھڑا کر انعام کا سہارا لیا۔۔ مگر انعام کو تو خود سہارے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔
بینڈ باجے والے منہ میں بھری سانس باہر نکالنا بھول گئے۔
انٹری اور آتش بازی والے پلکیں جھپکانا بھول گئے۔
مووی میکر کا کیمرہ زمین کی طرف رخ کئے رہا۔
سامعہ نمرہ کی کئی بار پلکیں جھپکیں۔۔ منظر اپنی پوری جزیات کے ساتھ موجود رہا۔
ہادی اپنی جرمن نژاد افریقی نسل بیوی کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی ماں کے مقابل لے گیا۔
"روما۔۔ شی از مائی مدر۔۔"
"سیاہ فام" روما کے آبنوسی چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔
گہرے عنابی ہونٹوں کے بیچ اس کے دانت کچھ زیادہ ہی چمک رہے تھے
"اور امی یہ میری دلہن ہیں۔۔ روما۔۔"
پیچھے کھڑے بینڈ باجے والوں کے کانوں نے جیسے ہی دلہن کا لفظ سنا ان کے منہ اور ہاتھ خود کار انداز آلات موسیقی پر چلنے لگے۔۔
انٹری اور آتش بازی والے بھی ہوش میں آگئے۔۔
کیمرہ میں کا کیمرہ سیدھا ہو کر دلہا اور دلہن کی وڈیو بنانے لگا۔۔
ہادی باپ اور بہنوں کے تعارف کے بعد اب دوستوں اور رشتے داروں کی قطار تک پہنچ چکا تھا جبکہ انعام، شمسہ، نمرہ اور سامعہ اب تک پتھر کی بت بنی وہیں کھڑی تھیں۔

