Mere Shehar Ka Noha
میرے شہر کا نوحہ

میرا شہر استا محمد جو نہ صرف زرعی حوالے سے زرخیز علاقہ ہے بلکہ سیاسی حوالے سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ایک وقت تھا شہر کی مثالی امن و امان کی مثال دی جاتی تھیں۔ مثالی امن کی بدولت ملک بھر میں نمایاں پہچان ہونے کے ساتھ بلوچستان میں چاول کی پیداوار اور چاول کے کارخانوں کی وجہ سے میرے شہر کو بلوچستان کا صنعتی حب بھی کہا جاتا ہے۔ اس شہر کی مثالی امن و کاروباری مواقعوں کو دیکھ کر بلوچستان بھر اور سندھ کے مختلف علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد جن میں ہندو تاجروں کی بڑی تعداد شامل ہے یہاں آکر آباد ہوئے۔
شہر کے مثالی امن کو دیکھ کر کاروباری برادری دل کھول سرمایہ کاری کرنے لگے یہی وجہ ہے میرے شہر استا محمد میں ایک سو پچاس سے زیادہ صرف چاول صاف کرنے کے کارخانے ہیں جہاں پر سندھ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آنے ہوئے ہزاروں محنت کش دن رات کام کرتے تھے اور باعزت روزگار سے وابستہ ہوتے گئے۔ شہر میں قانون کا راج تھا شہری ہرطرف سکون چین کی زندگی بسر کرتے تھے کبھی کبھار شہر کے قریب جوار میں واقع کسی گاؤں دیہات سے کسی کی کوئی مویشی چوری ہونے کی بات سنتے تھے۔ شہر میں کسی قسم کی چوری ڈکیتی کی تصور ہی نہیں تھا کاروباری سرگرمیاں تیزی کے ساتھ پھیل رہی تھیں۔ امن سکون خوشحالی ترقی کا یہ سلسلہ 2000 تک رہا پھر آہستہ آہستہ شہر میں بد امنی نے سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے بد امنی کا یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور شہر کی کاروباری سرگرمیاں سکڑتی گئیں۔ ہندو تاجروں نے نہ صرف مزید سرمایہ کاری کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا بلکہ نقل مکانی شروع کی جس کی بدولت کاروباری سرگرمیاں ماند پڑتے گئے۔ بدامنی کا جو سلسلہ شروع ہوا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ بد امنی میں اضافہ ہوتا گیا ہے۔
اب تو میرے پورے ضلع استا محمد کے باسیوں کی جان و مال نہ شہر میں محفوظ ہے اور نا ہی دیہاتوں میں دن ہو یا رات شہری اپنی جان و مال کو نہ گھر میں محفوظ سمجھتے ہیں اور نہ ہی دوکان دفتر فیکٹری میں۔ بس سب کو یہی فکر لاحق ہے کہ کسی وقت بھی کہیں پر ڈاکوؤں کا گروہ ان پر حملہ آوار ہوسکتے ہیں۔ ڈر اور خوف کے ماحول میں شہری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہی وجہ ہے ہر دوسرا شخص اس بد امنی لاقانونیت کی وجہ سے ذہنی مریض بن کررہ گیا ہے۔ خوف کی تاریکی نے پورے شہر بلکہ پورے استا محمد کے ضلع کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ڈر و خوف کا یہ عالم ہے لوگ سب کچھ جاننے کے باوجود منہ کھولنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ پہلے چوری ڈکیتی کی واردات کرنے ایک دو ملزم آیا کرتے تھے اور مزاحمت کے دوران بھاگ نکلتے تھے۔ اس وقت ان جرائم پیشہ افراد کے حوصلے اتنے تو بڑھ گئے ہیں کہ اب یہ لوگ گروہ کی شکل میں آٹھ آٹھ دس دس افراد مل کر جرائم کی وارداتیں کرنے لگے ہیں۔ گھروں میں گھس کر اہل خانہ کو یرغمال بنا کر گھنٹوں تک تسلی کے ساتھ لوٹ مار کرکے با آسانی فرار ہو جاتے ہیں اور جاتے وقت منہ بند رکھنے کی دھمکی دے کر نکل جاتے ہیں۔ متاثرین ڈر کی وجہ سے منہ بند رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مجبور کیوں نہ ہوں کیونکہ انھوں نے دیکھا جس نے اپنا منہ کھولا ملزمان کو تو کچھ نہیں ہوا اولٹا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان جرائم پیشہ کے زیر عتاب آئے ہیں۔
اب میرے شہر کی یہ صورت حال ہے کہ ڈاکو دن دھاڑے سر عام لوٹ مار کرنے لگے ہیں۔ مزاحمت کرنے پر گولی مار کر قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ ایک ہی دن میں ڈکیتی کی کئی وارداتیں روز کا معمول بن گئے ہیں۔ اس طرح لوگوں کی کئی سالوں کی خون پسینے کی کمائی کو ایک لمحے میں لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں۔ کروڑ پتی کو (کنگال) بنا دیتے ہیں پریشانی اور مایوس کن بات یہ ہے کہ استا محمد کے شہری لوٹ رہے ہیں قتل ہورہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ بےبس ہیں بلکہ بےحس بھی ہیں لیکن پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے بھی ضلع میں بگڑتی ہوئی بد امنی لوگوں کی جان ومال کی حفاظت اور جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کے لئے کسی قسم کی سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے لاپرواہی بہت ہوگیا ہے استا محمد شہر اور ضلع بھر میں امن و امان قائم رکھنے کےلئے فوری طور پر پولیس ضلعی انتظامیہ اور علاقے کے با اثر افراد مل کر ہنگامی طور سخت اقدامات کریں بہت ہوگیا اب پانی سر سے گزرنے والا ہے ایسے نہ ہو کہ یہ سب کو لے ڈوبے۔

