Wafadar Ya Knood?
وفادار یا کنود؟

کہتے ہیں ایک بزرگ کے پاس ایک نوجوان آیا اور عرض کیا: "حضرت! میں عبادت بھی کرتا ہوں، روزگار بھی کماتا ہوں، مگر دل مطمئن نہیں ہوتا۔ آخر کمی کہاں ہے؟" بزرگ اسے اپنے اصطبل میں لے گئے۔ ایک گھوڑے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور کہا: "اسے دیکھو۔ اسے نہ جنت کا علم ہے نہ دوزخ کا، نہ حساب کا خوف نہ اجر کی امید۔ مگر جب اس کا مالک ایڑ لگاتا ہے تو یہ اپنی پوری جان لگا دیتا ہے۔ تم علم رکھتے ہو، شعور رکھتے ہو، انجام سے باخبر ہو، پھر بھی تمہاری رفتار میں تذبذب ہے۔ مسئلہ کمیِ عمل کا نہیں، کمیِ وفا کا ہے"۔ نوجوان خاموش ہوگیا۔ بعض اوقات ایک جانور انسان کو اس کا مقام یاد دلا دیتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی کسی گھوڑے کو پوری رفتار سے دوڑتے دیکھا ہے؟ سانس پھولا ہوا، نتھنے پھیلے ہوئے، سینہ زور سے اوپر نیچے ہوتا ہوا، مگر قدم رکنے کا نام نہیں لیتے۔ یہ محض جسمانی حرکت نہیں، یہ عہد کی تکمیل ہے۔ قرآنِ حکیم کی سورت العادیات اسی تیز رفتار منظر سے آغاز کرتی ہے۔ کوئی نرم تمہید نہیں، کوئی تدریجی تعارف نہیں، بلکہ ایک دھماکہ خیز منظرنامہ: "وَالُعَادِيَاتِ ضَبُحًا"۔ ہانپتے ہوئے دوڑنے والوں کی قسم۔ لفظ "ضبح" محض سانس کی آواز نہیں، یہ اس جسم کی گواہی ہے جو اپنی حد سے آگے نکل چکا ہو۔ گویا کائنات کی زبان میں یہ اعلان ہے کہ وفاداری آدھی طاقت سے ادا نہیں ہوتی، وفا کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی پوری صلاحیت، پوری توانائی اور پوری نیت کے ساتھ میدان میں اترے۔ گھوڑا جانتا ہے کہ سامنے نیزے ہیں، تلواریں ہیں، موت ہے، مگر وہ رک نہیں رہا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا مالک اس پر اعتماد کر رہا ہے۔ یہی "لائلٹی پروٹوکول" ہے، حکم ملے تو جان بھی حاضر۔
پھر منظر اور تیز ہو جاتا ہے: "فَالُمُورِيَاتِ قَدُحًا"۔ سموں کی رگڑ سے چنگاریاں نکل رہی ہیں۔ یہ شاعرانہ مبالغہ نہیں، یہ رفتار کا طبیعیاتی بیان ہے۔ حرکت جب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو رگڑ سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ وفاداری بھی ایسی ہی ہوتی ہے، جب انسان اپنے مقصد کے ساتھ مکمل اخلاص سے جڑ جائے تو اس کی کوششوں سے روشنی پھوٹتی ہے۔ اس کے بعد صبح کے دھندلکے میں اچانک حملہ، "فَالُمُغِيرَاتِ صُبُحًا"۔ رات بھر کا سفر، تھکاوٹ، جسم کی حدیں، مگر حکم کی تعمیل میں تاخیر نہیں۔ یہ اطاعت کمفرٹ زون سے باہر کی اطاعت ہے۔ گھوڑا یہ نہیں کہتا کہ میں تھک گیا ہوں، آج موسم ٹھیک نہیں، کل دیکھیں گے۔ وہ بس دوڑتا ہے۔ گرد اٹھتی ہے، دشمن کے حواس باختہ ہوتے ہیں، فضا کا رنگ بدل جاتا ہے۔ وفاداری جب حرکت میں آتی ہے تو ماحول کو بدل دیتی ہے اور پھر سب سے خطرناک مرحلہ، لشکرکے بیچ میں گھس جانا: "فَوَسَطُنَ بِهِ جَمُعًا"۔ واپسی کا راستہ بند، چاروں طرف خطرہ، مگر قدم پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہ جانور کا کردار ہے۔
اور پھر اچانک کیمرہ گھوڑے سے ہٹ کر انسان پر آ جاتا ہے۔ گویا پوری تمہید ایک اخلاقی مقدمہ تھی۔ فیصلہ سنایا جاتا ہے: "إِنَّ الُإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ"۔ بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ "کنود" وہ ہے جو ایک تکلیف یاد رکھے اور ہزار نعمتیں بھول جائے۔ یہ نفسیاتی بیماری ہے، منفی پہلو کو پکڑ لینا اور مثبت کو نظر انداز کر دینا۔ انسان کہتا ہے: میرے پاس کیا نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں گنتا کہ میرے پاس کیا کچھ ہے۔ گھوڑا تھوڑی سی گھاس کے بدلے جان دے دیتا ہے اور انسان بے شمار نعمتوں کے باوجود شکوہ کرتا ہے۔ پھر فرمایا: "وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ"۔ وہ خود جانتا ہے۔ ضمیر ایک خاموش عدالت ہے۔ لاشعور ہر عمل کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ خود آگاہی موجود ہے، مگر اصلاح کی ہمت کم ہے۔ اصل بیماری یہ ہے کہ انسان نے "خیر" یعنی مال کو اپنا معبود بنا لیا ہے: "وَإِنَّهُ لِحُبِّ الُخَيُرِ لَشَدِيدٌ"۔ وہ بھی ہانپ رہا ہے، مگر اللہ کے لیے نہیں، بازار کے لیے۔ گھوڑا مالک کے لیے دوڑتا ہے، انسان مارکیٹ کے لیے۔ گھوڑا وفادار ہے، انسان سرمایہ پرست۔
پھر آخری پردہ اٹھتا ہے۔ قیامت کا فرانزک آڈٹ: "إِذَا بُعُثِرَ مَا فِي الُقُبُورِ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ"۔ قبروں سے جسم نکالے جائیں گے، سینوں سے راز نکالے جائیں گے۔ یہ محض حشر نہیں، یہ باطن کی نمائش ہے۔ تم نے نماز کیوں پڑھی؟ تم نے صدقہ کس نیت سے دیا؟ تم خاموش کیوں رہے؟ تم نے غصہ کیوں کیا؟ کوئی فائل ڈیلیٹ نہیں ہوگی، سب کچھ بازیافت ہوگا اور پھر مہر ثبت: "إِنَّ رَبَّهُم بِهِمُ يَوُمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ"۔ وہ خبیر ہے، اندر کی خبر رکھنے والا۔ وہ سطح نہیں دیکھے گا، مرکز دیکھے گا۔ اس سورت کا سوال سادہ مگر لرزا دینے والا ہے: اگر ایک گھوڑا ایک معمولی مالک کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے، تو کیا انسان اپنے رب کے لیے اپنا غرور نہیں چھوڑ سکتا؟ ہم سب دوڑ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ہانپ رہے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم کس کے لیے ہانپ رہے ہیں۔ اگر ہماری دوڑ مال کے لیے ہے تو ہم کنود ہیں، اگر مالک کے لیے ہے تو ہم وفادار ہیں۔ قبروں کے دروازے کھلنے سے پہلے ہمیں اپنی سمت درست کر لینی چاہیے۔
یہ کالم محض ایک سورت کی تفسیر نہیں، ایک آئینہ ہے۔ آئینہ جس میں ہمیں اپنا چہرہ دیکھنا ہے، اپنی رفتار، اپنی نیت، اپنی وفاداری۔ گھوڑا ہمیں سکھاتا ہے کہ وفا آدھی نہیں ہوتی۔ انسان کو سکھایا جا رہا ہے کہ نعمت کا اعتراف ہی بندگی کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب تک ہم اپنی دوڑ کا مرکز درست نہیں کریں گے، ہماری ہانپ بے معنی رہے گی۔
مختصر غزل پیشِ خدمت ہے:
دوڑ میں سب ہیں مگر سمت کا ادراک نہیں
ہر نفس تیز سہی، صاحبِ افلاک نہیں
گھوڑا ایڑ سنبھالے تو جھکاتا ہے فنا
ہم کو رب یاد رہے، ایسی کوئی جھانک نہیں
مال کی دھول نے آنکھوں کو دھندلا سا کیا
ورنہ دل میں بھی کوئی شعلۂ صد چاک نہیں
راز کھل جائیں گے جب سینۂ محشر میں کبھی
پھر بہانوں کی وہاں کوئی بھی املاک نہیں
اے دلِ ناداں ذرا سوچ کہ کس کے لیے ہے دوڑ
ورنہ یہ عمر بھی گزرے گی، کوئی پاک نہیں
اور آج کے عہد میں اگر اس تمثیل کو ایک جیتی جاگتی صورت میں دیکھنا ہو تو پاک فضائیہ کے ان جانثار پائلٹوں کو دیکھیے جو حکم ملنے پر آسمان کی وسعتوں کو چیرتے ہوئے دشمن کی فضائی صفوں میں اسی بے خوفی سے داخل ہوتے ہیں جیسے ہانپتے ہوئے وفادار گھوڑے میدانِ کارزار میں گھس جاتے تھے۔ لمحوں میں فیصلہ، پل بھر میں پرواز اور پھر سینے پر وطن کا نشان سجائے وہ فضاؤں میں ایسی رفتار سے بڑھتے ہیں کہ زمین پر بس دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں۔ انہیں بھی معلوم ہوتا ہے کہ سامنے خطرہ ہے، میزائل ہیں، آگ ہے، مگر حکمِ وطن ان کے لیے حرفِ آخر ہوتا ہے۔ یہ اطاعت کمفرٹ زون سے آگے کی اطاعت ہے، یہ وفاداری محض پیشہ نہیں، عہد ہے۔ پاک فضائیہ کے یہ شاہین ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب مقصد بلند ہو اور نیت خالص ہو تو خوف پیچھے رہ جاتا ہے اور ذمہ داری آگے بڑھ جاتی ہے۔

