Adnan Mustafa
عدنان مصطفی

کراچی شفٹ ہونے کے بعد شروع میں مجھے ہم عمر دوست بنانے میں مشکل پیش آئی۔ ماموں زاد اور تایا زاد بھائی کئی سال بڑے تھے یا کئی سال چھوٹے۔ پھر عدنان مصطفی نام کا ایک لڑکا ملا۔
تب میں بارہ سال کا تھا اور خانیوال سے چھٹی پاس کرکے آیا تھا۔ کراچی آنے کے بعد ہر دوسرے چوتھے دن کسی نہ کسی رشتے دار کے ہاں جانا ہوتا۔ ایک دن نانی اماں کے چچازاد بھائی نواب حسن کے ہاں جانا ہوا جن کا گھر ناظم آباد میں تھا۔ امی انھیں ماموں نواب کے نام سے یاد کرتی تھیں۔ لیکن بدقسمتی سے ایک ڈیڑھ سال پہلے ان کا اور چھ ماہ پہلے ان کی بیوی ممانی نازک کا انتقال ہوچکا تھا۔ یعنی ہم ان کے بچوں سے ملنے گئے۔
ماموں نواب کے بڑے بیٹے انور بھائی سال بھر پہلے خانیوال آچکے تھے۔ لیکن ان کے گھر جاکر مجھے پتا چلا کہ انور بھائی ابوظبی میں جاب کررہے ہیں۔ ان کی تین بہنیں اور چھوٹے بھائی شہزاد سے ملاقات ہوئی۔ اماں اور امی ان سے باتوں میں لگ گئیں۔ میں بیٹھا بور ہورہا تھا کہ نگہت باجی نے کہا، مبشر، تم عدنان سے ملے؟ میں ابھی اسے بلاتی ہوں۔
مجھے یاد ہے کہ اس رات بجلی گئی ہوئی تھی۔ عدنان سامنے کے ایک مکان میں رہتا تھا۔ دبلا پتلا، مجھ سے ذرا سا لمبا قد اور گہری آواز، جیسے کنویں سے آرہی ہو۔ اس سے فوراََ دوستی ہوگئی۔ اس وقت رشتے داری کا علم نہیں تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ ہماری چھوٹی ممانی کا بھانجا ہے۔ یعنی میرے ماموں زاد کا ماموں زاد۔ لیکن وقت کے ساتھ دوستی ایسی ہوگئی کی رشتے داری پیچھے رہ گئی۔
میں امی کے ساتھ ناظم آباد جاتا یا عدنان گھر والوں کے ساتھ انچولی آتا تو سارا وقت ہم ساتھ ہی رہتے۔ عدنان میرے گھسے پٹے لطیفوں پر کھلکھلاکر زور سے ہنستا۔ اس کے پاس لطیفے نہیں، دلچسپ سچی کہانیاں ہوتی تھیں جنھیں سن کر مزہ آجاتا۔ وہ میری طرح ہائی اسکول میں تھا لیکن لڑکیوں سے دوستیاں تھیں اور ان کی باتیں سناتا رہتا تھا۔ میں اس قدر شرمیلا ہوتا تھا کہ فی میل کزنز تک سے بات کرتے ہکلاتا تھا۔ اس کے جوانمردی کے قصے سن کر رشک آتا تھا۔
میٹرک کے بعد ہم دونوں کالج میں آگئے۔ ان دنوں روزنامہ جنگ میں جمعہ کو جنگ ڈائجسٹ کے نام سے ایک صفحہ نکلتا تھا۔ بچوں کے رسالوں کے بعد اس میں میری کہانیاں چھپنے لگی تھیں۔ ایک دن میں نے عدنان سے کہا کہ میں جنگ کے دفتر جانا چاہتا ہوں۔ کسی دن ساتھ چلو۔ عدنان نے کہا، جس دن چاہو، میرے کالج آجاو۔ وہیں سے ساتھ چلیں گے۔ میں ایک دن اس کے کالج پہنچ گیا۔ وہ میرے ساتھ نکلا تو میں نے کہا، کون سی بس جنگ پریس جاتی ہے؟ یا رکشا کرلیں؟ عدنان نے کہا، بس یا رکشا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ سامنے بلڈنگ نظر آرہی ہے؟ وہی تو ہے جنگ پریس۔ مجھے بہت حیرت اور خوشی ہوئی۔ عدنان ڈی جے کالج میں پڑھتا تھا۔
میں نے جنگ گروپ میں سترہ سال ملازمت کی۔ لیکن وہ پہلا دن نہیں بھولا جب عدنان کے ساتھ وہاں گیا۔
ایک بار عدنان نے کہا کہ ہم چودہ اگست کو اپنے علاقے میں طویل ترین پرچم بناکر لہراتے ہیں۔ رات کو کنسرٹ بھی ہوتا ہے۔ اس میں کافی خرچہ ہوتا ہے۔ کوئی اسپانسر مل سکتا ہے تو بتاو۔ میں نے کہا کہ اس کی خبر چھپوا دیتے ہیں۔ اسپانسرشپ کی کوشش بھی کروں گا۔ اتفاق سے نہ خبر کہیں چھپوا سکا، نہ کوئی اسپانسرشپ دلواسکا۔ اتفاق کیا، اس کی اوقات ہی نہیں تھی۔ بہرحال عدنان نے خوب بدلہ لیا۔ اس نے کہا کہ انچولی سے اپنے خاص خاص دوستوں کو لے کر کنسرٹ میں آنا۔ میں تین چار دوستوں کو لے کر رات نو بجے پہنچ گیا۔ پروگرام شروع ہوچکا تھا۔ پورا محلہ جمع تھا۔ شامیانے میں سب کرسیاں مرد و خواتین بھر چکے تھے۔ لونڈے لپاڑے ہوٹنگ کرنے کو موجود تھے۔ اچانک موسیقی رکی اور مائیک سے اعلان ہوا کہ جناب عالی، ہمارے مہمان خصوصی شہر کے ممتاز صحافی مبشر علی زیدی تشریف لاچکے ہیں۔ ان کا بھرپور استقبال کریں۔ سب نے خوب تالیاں پیٹیں اور سیٹیاں بجیں۔ کچھ سیٹیاں لونڈوں نے بجائیں، باقی میرے کان میں بجیں۔ قدم من من کے ہوگئے۔ جو دوست ساتھ آئے تھے، وہ بھی ہکابکا رہ گئے۔ پتا نہیں کیسے ہم مجمع کے سامنے گھسٹتے ہوئے پہلی رو تک پہنچے۔ میرے گلے میں ہار ڈالا گیا اور مہمان خصوصی کی کرسی پر بٹھادیا گیا۔
یاد رہے کہ "شہر کے ممتاز صحافی" نے اس وقت انٹر کیا تھا اور پروفیشنل جرنلزم کی پہلی ملازمت ملنے میں کئی سال باقی تھے۔
چار پانچ ملی نغموں کے بعد وقفہ آیا اور روشنیاں مدھم ہوئیں تو مہمان خصوصی مع اپنے حواریوں کے شامیانے سے نکل بھاگے اور پتلی گلیوں سے ہوتے ہوئے بس اسٹاپ پہنچے تاکہ ٹو ڈی روٹ کی بس پکڑ کر اس کے آخری اسٹاپ انچولی جاسکیں۔ میں سارا وقت آستین سے منہ چھپائے رہا کہ کوئی مہمان خصوصی کو نہ پہچان لے۔
اس کے بعد میں سال بھر ناظم آباد نہیں گیا۔ چودہ اگست پر گھر تک سے نکلنا چھوڑ دیا تھا۔
میں اور عدنان خاندان کی تقریبات کے علاوہ بھی ملنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے۔ محرم میں ایک دن طے پایا کہ باب العلم میں ماتمی شب بیداری ہے۔ رات کو وہاں ملتے ہیں۔ مقررہ وقت پر ملے اور امام بارگاہ کے بحائے سامنے جوس شاپ پر جاکر بیٹھ گئے۔ میں نے بتایا کہ آج کل پیسوں میں کھیل رہا ہوں۔ عدنان نے کہا کہ اس کی جیبیں نوٹوں سے بھری رہتی ہیں۔ گھنٹا ڈیڑھ بیٹھے پتا نہیں کیا کیا ہانکتے رہے۔ ملک شیک کے دو دو گلاس بھی پیے۔ اٹھنے لگے تو عدنان نے کہا، پیسے دو۔ میں نے کہا، میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔ بلکہ گھر جانے کا بس کا کرایہ تک نہیں ہے۔ کسی ماتمی انجمن کی بس میں جاوں گا۔ عدنان کے ہاتھ پاوں پھول گئے۔ کہنے لگا کہ پیسے میرے پاس بھی نہیں ہیں۔
کچھ دیر ہم ایک دوسرے کا منہ تکتے رہے۔ پھر میں نے کہا، اچھا بیٹھے رہو۔ میں ابھی آتا ہوں۔ بھاگ کر باب العلم گیا۔ انچولی کا ایک واقف نظر آیا تو اس سے پیسے ادھار لیے اور واپس آکر بل چکایا۔
شادی سے پہلے میرے خاندان میں کچھ لوگ یا بہت سے لوگ مجھے بدماغ یا غصیلا سمجھتے تھے اس لیے میں جتنا بھی ریکارڈ لگالوں، مجھ سے مذاق کرنے کی ہمت کم لوگوں کو ہوتی تھی۔ لیکن عدنان کا معاملہ جدا تھا۔ میں شادی کے دن سہرا باندھے اسٹیج پر بیٹھا تھا کہ عدنان پانچ روپے والے نوٹوں کا ہار لایا اور میرے گلے میں ڈال دیا۔ ہمارے ہاں نوٹوں والے ہار نہیں پہنائے جاتے۔ عدنان کی حرکت پر خوب قہقہے لگے اور ویڈیو بھی بنی۔ میں نے کہا، عدنان بیٹے، تیری بھی شادی ہوگی۔
عدنان بیٹے نے شادی اتنی دیر سے کی کہ پانچ روپے کے نوٹ ہی بند ہوگئے۔
ایک بار عدنان ملنے آیا تو بہت اداس تھا۔ میں نے کہا، جانی کیا ہوا؟ کہنے لگا، وہ لڑکی یاد ہے جو مجھ سے ٹوٹ کر محبت کرتی تھی۔ میں نے کہا، تم نے کوئی پچیس لڑکیوں کے بارے میں یہی بتایا تھا۔ عدنان نے کہا، ہاں ان میں سے ایک تھی وہ۔ آج اس نے مٹھائی بھجوائی۔ میں نے پوچھا، کیا تمھاری منگنی ہوگئی؟ اس نے کہا، عدنان، میری بیٹی کی منگنی ہوگئی۔
میرے بچپن کے یار عدنان مصطفی کو بہت سے فیس بک فرینڈز عدنان نذر کے نام سے جانتے ہیں۔

