Buddu Ka Oont Aur Iran
بدو کا اونٹ اور ایران

عرب کی ایک قدیم تمثیل بین الاقوامی سیاست کے (Strategic) رخ کو سمجھنے کے لیے بہترین مشعلِ راہ ہے۔ ایک سرد صحرائی رات میں جب ایک بدو اپنے خیمے میں آرام کر رہا تھا، اس کے اونٹ نے باہر ٹھٹھرتے ہوئے التجا کی کہ اسے صرف اپنی ناک خیمے کے اندر کرنے کی اجازت دی جائے۔ بدو نے ہمدردی میں اجازت دے دی۔ کچھ دیر بعد اونٹ نے سر، پھر گردن اور آہستہ آہستہ اپنے کندھے خیمے کے اندر کر لیے۔ جب پورا اونٹ خیمے میں داخل ہوگیا تو جگہ کی تنگی کے باعث اس نے بدو کو لات مار کر باہر نکال دیا اور خود خیمے کا مالک بن گیا۔ عالمی استعمار کا کردار بالکل اسی اونٹ جیسا رہا ہے، جو پہلے تجارت، پھر تحفظ اور آخر میں "انقلاب و حقوق" کے نام پر خیموں میں داخل ہوتا ہے اور اصل مالکان کو بے دخل کر دیتا ہے۔
تاریخی حقائق کا تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی علاقائی طاقت عالمی نظام کے لیے چیلنج بننے لگتی ہے، تو اسے مفلوج کرنے کے لیے ایک ہی جیسا اسکرپٹ دہرایا جاتا ہے۔ 1970 کی دہائی میں جب شاہِ ایران نے تیل کی قیمتوں پر کنٹرول حاصل کیا اور ایران کو ایک بڑی عسکری قوت بنانے کا خواب دیکھا، تو وہ مغرب کے لیے ناقابلِ قبول ہوگیا۔ اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے "انسانی حقوق" کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے شاہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ اندرونی خلفشار کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے۔ شاہ، جو اپنی سیکیورٹی کے لیے واشنگٹن پر تکیہ کیے ہوئے تھا، اس سفارتی دباؤ کے باعث مفلوج ہوگیا اور ریاست کا کنٹرول کھو بیٹھا۔
دہائیوں بعد یہی اسکرپٹ دوبارہ منظرِ عام پر آیا جب دنیلڈ ٹرمپ نے بالکل کارٹر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے "انسانی حقوق" اور "عالمی مانیٹرنگ" کی دھمکیوں سے ایرانی حکومت کے ہاتھ باندھنے کی کوشش کی۔ شاہ کو بھی اسی "انسانیت کی فکر" نے ڈبویا اور آج کی قیادت کو بھی اسی شکنجے میں کس کر مفلوج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سازش اپنی جگہ، لیکن ایران کی اپنی "مجرمانہ غفلت" اور تساہل کی مثالیں اس سے بھی زیادہ ہولناک ہیں۔
جوہری سائنسدانوں کا قتل: ایران کی سیکیورٹی ایجنسیوں کی ناک کے نیچے اس کے چوٹی کے جوہری سائنسدان (جیسے محسن فخری زادہ) ایک کے بعد ایک قتل کیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن خیمے کے اندر تک جڑیں بنا چکا ہے۔
اندرونی غداری: حالیہ برسوں میں سابق ایرانی انٹیلی جنس حکام اور جرنیلوں کے انکشافات نے پوری دنیا کو دنگ کر دیا۔ سابق وزیرِ انٹیلی جنس کا یہ اعتراف کہ "موساد نے ایران کے حساس اداروں میں اس قدر نفوذ کر لیا ہے کہ اب ہر عہدیدار کو اپنی جان کا ڈر لگنا چاہیے"، ایران کی انٹیلی جنس شکست کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ جب ملک کے اندر سے ہی لوگ اسرائیل اور امریکہ کے لیے جاسوسی کا اعتراف کریں، تو اسے بیرونی سازش نہیں بلکہ اندرونی نااہلی کہا جائے گا۔
صدام حسین کو کویت کے جال میں پھنسا کر عبرت کا نشان بنانا ایران کے لیے کھلا سبق تھا۔ مغرب نے ہمیشہ مہروں کو ضرورت ختم ہونے پر کچرے کے ڈھیر میں پھینکا ہے۔ آج جب ایران کا سپریم کمانڈر مارا جاتا ہے، تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے عراق کے انجام سے کوئی نصیحت نہیں لی۔ آپ کی تمام تر "پراکسیز" دھری کی دھری رہ جاتی ہیں جب دشمن آپ کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تک رسائی حاصل کر لے۔
آج ایران جس سنگین بحران کی زد میں ہے، اس کا اصل محرک "یوان (Yuan)" کی طرف اس کا جھکاؤ ہے۔ ایران نے پیٹرو ڈالر کے نظام کو براہِ راست چیلنج کرتے ہوئے چین کے ساتھ 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدہ کیا اور تیل کی تجارت ڈالر کے بجائے یوان میں شروع کی۔ یہ اقدام عالمی مالیاتی نظام کی جڑوں پر حملہ تھا۔ امریکہ کسی ایسی ریاست کو معاف نہیں کرتا جو ڈالر کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی کوشش کرے۔ ایران کو دی جانے والی تمام سزائیں دراصل اسی "بغاوت" کی سزا ہیں۔
لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے ڈالر کے اونٹ سے بچنے کے لیے خود کو چین کے معاشی اونٹ کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ حقیقی آزادی نہیں بلکہ صرف آقاؤں کی تبدیلی ہے۔ جب تک ایران اپنی انٹیلی جنس کے شگاف بند نہیں کرتا اور اپنی معیشت کو نعروں کے بجائے حقیقت پسندی پر استوار نہیں کرتا، وہ عالمی بساط پر صرف ایک مہرہ ہی رہے گا۔
آج جو مسلم ممالک تمام تر ہوش و حواس کے باوجود امریکی گود میں بیٹھ رہے ہیں، انہیں یہ خبر ہونی چاہیے کہ امریکہ صرف اپنے مفادات کے ساتھ مخلص ہے، کسی ملک یا نظریے کے ساتھ نہیں۔ بہت جلد اس علاقائی استحکام کے نام پر مزید کئی اسٹریٹجک ساتھیوں کی بساط الٹ دی جائے گی، کیونکہ امریکہ کا کوئی مستقل دوست نہیں، اسے صرف "استعمال" کرنا آتا ہے۔
جو قومیں تاریخ کے ان تلخ اسباق کو نہیں سمجھتیں، وہ محض اناڑی ہیں اور ان کا مقدر بھی وہی خیمہ ہے جس سے بدو کو بے دخل کر دیا گیا تھا۔ میری تمام دعائیں اور ہمدردی ان بے گناہ مسلمانوں اور ایران کے نہتے شہریوں کے لیے ہیں جن کا لہو امتِ مسلمہ کا ایک اور رستا ہوا زخم ہے۔ ابھی غزہ کی زمین سے لہو تھما نہیں تھا کہ ایک نیا محاذ کھول دیا گیا۔ سمجھ نہیں آتا کہ جس امت کو آقاﷺ نے ایک جسدِ واحد (ایک جان) قرار دیا تھا، وہ اپنے بدن پر لگے ان پیہم زخموں کو کب تک سہہ سکے گی؟ کاش ہم اس "گریٹ گیم" کے مہرے بننے کے بجائے اپنی تقدیر کے خود مالک ہوتے۔

