Tareekh Jo Hum Nahi Jante
تاریخ جو ہم نہیں جانتے
بچپن سے لے کر آج تک ہم نے تاریخ کے نام پر جو کچھ نصاب میں پڑھا، اگر آج یہ کہا جائے کہ اس میں سے اکثر ہمارے لیے کسی عملی فائدے کا باعث نہیں بنا، تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسکول کے زمانے میں ہم نے مصریوں اور مغلوں کی تاریخ پڑھی، پھر میٹرک میں پاکستان اسٹڈیز کے نام پر پاکستان کی تاریخ کم اور حکمرانوں کے ادوارِ حکومت کی تفصیلات زیادہ پڑھیں۔ انٹرمیڈیٹ میں مسٹر چپس جیسے مضامین نصاب کا حصہ بنے، مگر ان تمام مراحل میں ایک چیز مشترک رہی: اسلامی ریاستوں کی اصل تاریخ ہم سے اوجھل رہی۔
ہم نے وہ تاریخ نہیں پڑھی جس میں اسلام کے سنہری اصولوں پر قائم معاشرے موجود تھے، جہاں مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں بھی میدانِ جنگ میں بے مثال جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتی تھیں، جہاں وہ نہ صرف دشمن کے حملوں کا دفاع کرتیں بلکہ اپنے قید شدہ بھائیوں کو بھی آزاد کرا لیتی تھیں۔ ہم نے وہ دور نہیں جانا جہاں مسلمان صرف اللہ کی ناراضی سے ڈرتے تھے، انسانوں کی خوشنودی ان کا مقصد نہیں ہوتی تھی اور اللہ کو راضی رکھنے والے بندوں سے اللہ خود راضی رہتا تھا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے نہ تو اسلامی ریاستوں کی تاریخ کو جاننے کی کوشش کی، نہ اسلام کے قدیم اسباق کو سمجھا اور نہ ہی مسلم حکمرانوں کی حکمتِ عملی اور بصیرت کا مطالعہ کیا۔ اس سے بھی بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج بھی ہمیں صحیح معنوں میں پاکستان کی تاریخ کا علم نہیں۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ پاکستان کن بے شمار قربانیوں اور مشکلات کے بعد معرضِ وجود میں آیا اور قیام کے بعد اسے کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
حال ہی میں ایران میں ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ایک باوقار اور محترم اسلامی رہنما کی شہادت کی خبر سامنے آئی، تو ہمیں یہ احساس ہوا کہ آج کے دور میں بھی ایسے مضبوط، ثابت قدم اور باکردار حکمران موجود ہیں جو اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارتے ہیں۔ ایسے رہنما جنہیں نہ اپنی جان قربان کرنے کا خوف ہوتا ہے اور نہ دشمنوں کی دھمکیوں کا، بلکہ جن کے لیے صرف اللہ کی رضا اور اسلام کی بقا ہی سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔
لیکن یہاں بھی دل دکھتا ہے کہ ہمیں اس عظیم شخصیت کے بارے میں علم ان کی شہادت کے بعد ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اس کا قصوروار کون ہے؟ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اس کا الزام صرف معاشرے پر نہیں ڈالا جا سکتا، بلکہ اصل ذمہ داری ہم خود پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ ہم نے کبھی سنجیدگی سے تاریخ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم خود کو بہت مصروف ظاہر کرتے ہیں، مگر یہ مصروفیت زیادہ تر فضول مشاغل تک محدود ہے۔ ہم نے موبائل فون اور سوشل میڈیا کی ریلز کو اپنا معمول بنا لیا ہے، جہاں دن کا بڑا حصہ گزر جاتا ہے اور ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ مگر قرآن کو دو منٹ پڑھنے سے ہمیں فوراً یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے ذمے بہت سے کام ہیں۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں، تاریخ کو محض ایک مضمون نہیں بلکہ ایک سبق کے طور پر پڑھیں اور اپنے ماضی سے وہ روشنی حاصل کریں جو ہمارے حال اور مستقبل دونوں کو سنوار سکتی ہے۔

