Monday, 02 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Namoos e Risalat Aur Khatam e Nabuwat

Namoos e Risalat Aur Khatam e Nabuwat

ناموسِ رسالت ﷺ اور ختمِ نبوت

میں اپنے کالم کا آغاز ایک تاریخی اور معروف قول سے کرنا چاہوں گا جو ممتاز عالمِ دین مولانا مفتی محمود سے منسوب ہے۔ آپ کا تعلق صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا اور وہ اپنے دور کے قادرالکلام رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ایک موقع پر کہا تھا: "اگر خدا نے بھٹو کو معاف کیا تو دو باتوں پر کرے گا: ایک یہ کہ اس نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا اور دوسرا یہ کہ اس نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام دیا"۔

یہ قول آج بھی سیاسی و مذہبی حلقوں میں بطور حوالہ دہرایا جاتا ہے۔ تاریخ نویس کے لیے یہ ایک ناگزیر حقیقت ہے کہ جب بھی پاکستان میں ختمِ نبوت کے آئینی اور سیاسی پہلوؤں کا ذکر ہوگا تو بھٹو صاحب کا نام ضرور سامنے آئے گا، چاہے نظریاتی اختلافات اپنی جگہ موجود ہوں۔ آج اسی تسلسل میں ان کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمٰن بھی مذہبی سیاست کے اہم کردار کے طور پر متحرک دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان کی آئینی تاریخ میں 7 ستمبر 1974 ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس روز قومی اسمبلی نے دوسری آئینی ترمیم منظور کی، جس کے تحت احمدیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ طویل پارلیمانی مباحث اور ان کیمرہ کارروائی کے بعد سامنے آیا۔ بعد ازاں 1984 میں آرڈیننس XX کے نفاذ نے اس آئینی ترمیم کو مزید قانونی بنیاد فراہم کی، یوں ختمِ نبوت کا مسئلہ صرف مذہبی یا سیاسی نعرہ نہیں رہا بلکہ ریاستی و قانونی ڈھانچے کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔

حالیہ پیش رفت میں وفاقی حکومت نے 15 مارچ کو "یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ" کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی روک تھام، عوامی آگاہی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

اس سلسلے میں جن اداروں کو متحرک کیا گیا ہے ان میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی شامل ہیں۔ وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے مراسلے جاری کیے گئے ہیں تاکہ سیمینارز، خطبات، جامعات میں مذاکرے اور میڈیا مہمات کے ذریعے آگاہی پیدا کی جا سکے۔ ساتھ ہی شہریوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں قانونی راستہ اختیار کیا جائے اور قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے۔

ڈیجیٹل دور کے تناظر میں 2016 کا سائبر کرائم قانون (پیکا) بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد آن لائن جرائم اور نفرت انگیز مواد کے خلاف کارروائی کو ممکن بنانا ہے۔

سماجی اعتبار سے دیکھا جائے تو ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت کے موضوعات عوامی جذبات سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ ان معاملات میں معمولی اشتعال بھی بڑے ردِعمل کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ریاستی بیانیہ توازن، برداشت اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہونا چاہیے۔

اگر آگاہی مہمات تحقیق، ذمہ دارانہ اظہارِ رائے اور قانونی چارہ جوئی کی طرف رہنمائی کریں تو معاشرے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر محض جذباتی بیانیہ غلط فہمیوں اور بے بنیاد الزامات کو جنم دے سکتا ہے۔

سیاسی زاویے سے دیکھا جائے تو مذہبی موضوعات اکثر قومی سیاست کی سمت متعین کرتے رہے ہیں۔ 1974 کی آئینی ترمیم ہو یا 15 مارچ کا حالیہ اعلان، ہر اقدام اپنے وقت کے سیاسی و سماجی حالات کا عکاس ہوتا ہے۔ یہ اقدامات جہاں ریاست کی آئینی ذمہ داری کو ظاہر کرتے ہیں، وہیں معاشرتی ہم آہنگی اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کی ضرورت بھی یاد دلاتے ہیں۔

مجموعی طور پر ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت کا مسئلہ پاکستان کے آئینی اور سیاسی تشخص کا اہم حصہ ہے۔ 7 ستمبر 1974 کی ترمیم اس کی تاریخی بنیاد فراہم کرتی ہے، جبکہ 15 مارچ کا اعلان ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کا جواب سمجھا جا سکتا ہے۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ جذبات کے احترام کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی، ذمہ دارانہ رویّے اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے، تاکہ ریاستی نظم و ضبط اور معاشرتی استحکام دونوں مضبوط رہیں۔

Check Also

Israel, Afghanistan Aur Dakhli Inteshar: Pakistan Ke Gird Banta Ghera

By Peer Intizar Hussain Musawir