Pemana Badlein
پیمانہ بدلیں

چند روز قبل میں اپنے مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں سول کورٹس کے کوریڈور میں ایک عدالت سے دوسری عدالت جا رہا تھا۔ ایک بزرگ سائل ہاتھ میں کاغذات لیے مسلسل ایک نوجوان کلرک کے پیچھے پیچھے گھوم رہا تھا۔ وہ بار بار مؤدبانہ انداز میں کہتا: "بیٹا، میری فائل میں فلاں فلاں دستاویزات بھی لگا دو کافی دن ہو گئے ہیں"۔
کلرک نے جھنجھلا کر کہا: "بابا جی، اتنے سیدھے مت بنیں، یہاں سیدھے لوگ ہی سب سے زیادہ رلتے ہیں"۔
یہ سن کر بزرگ نے آہستہ سے مسکرا کر کہا: "بیٹا، میں سیدھا نہیں ہوں، بس غلط ہونا نہیں چاہتا"۔
مگر کوریڈور میں کھڑے کئی لوگ ہنس پڑے۔۔ جیسے بزرگ نے کوئی حماقت کر دی ہو۔ اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے ہاں سچ اور شرافت اب سنجیدگی نہیں، تماشہ بن چکے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب الٹا پیمانہ رائج ہے۔ یہاں اگر کوئی شخص دھیمے لہجے میں بات کرے، سیدھی سادھی بات کرے، دلیل سے اختلاف کرے، سچ کو بغیر ملاوٹ پیش کرے اور گفتگو میں شرافت کو ہاتھ سے نہ جانے دے تو فوراً اس پر "بھولا"، "سیدھا" یا "کچھ زیادہ ہی شریف" ہونے کی مہر ثبت کر دی جاتی ہے اور اگر کوئی شخص بات بات پر قلابازیاں کھائے، ہر بات میں جھوٹ کی آمیزش کرے، سچ کو ضرورت کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرے، مفاد کے لیے رنگ بدلے اور چالاکی کو عقل مندی کا مترادف بنا دے تو اسے معاشرے کا "سمارٹ" آدمی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سمجھدار شخص چونک کر خود سے سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ہم نے ذہانت اور شرافت کے معیار کب اور کیوں بدل دیے؟
یہ مسئلہ کسی ایک فرد یا طبقے تک محدود نہیں، یہ ہماری اجتماعی نفسیات کا عکاس ہے۔ ہم نے علم کو کتابوں تک محدود کر دیا ہے اور عقل و تدبر کو فائدے کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ جو شخص اصول کی بات کرے وہ ہمیں غیر عملی لگتا ہے اور جو موقع پرست ہو وہ ہمیں زمانہ شناس دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سرکاری دفتر میں بیٹھا وہ افسر جو فائل قانون کے مطابق جلدازجلد نمٹانا چاہتا ہے، ماتحتوں اور سائلین کی نظر میں "مشکل آدمی" بن جاتا ہے جبکہ وہی افسر اگر اشاروں کنایوں میں راستہ نکال دے تو "کام نکلوانا جانتا ہے" کہلاتا ہے وہ بات اپنی جگہ کہ کچھ لوگ "مٹھائی" کے نام پر رشوت اینٹھنے کیلئے فائل کو "لٹکا" رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کام نکلوانا واقعی عقل کی دلیل ہے یا نظام کو کھوکھلا کرنے کی سب سے بڑی وجہ؟
تعلیمی اداروں میں بھی یہی رویہ دکھائی دیتا ہے۔ جو استاد طلبہ کو سوچنے، سوال کرنے اور دلیل سے بات کرنے کی تربیت دے، وہ اکثر "بور" کہلاتا ہے اور جو محض نمبر دلوانے کے شارٹ کٹس بتا دے، وہ مقبول ہو جاتا ہے۔ ہم نے تعلیم کو شعور کے بجائے سہولت بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ڈگری یافتہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر سلجھے ہوئے کرئیٹو ذہن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ جو طالب علم نقل سے بچنے کی بات کرے، وہ نادان سمجھا جاتا ہے اور جو نظام کو دھوکا دے کر آگے نکل جائے وہ قابل فخر مثال بن جاتا ہے۔
سماجی سطح پر بھی یہی تضاد نمایاں ہے۔ خاندانوں میں وہ شخص جو صاف گو ہو، منہ پر سچ کہہ دے اور دو رخی سے بچے، اکثر تنہا رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس بات کو لپیٹ کر پیش کرنے والا ہر دل عزیز بن جاتا ہے، چاہے اس کی نیت میں کھوٹ ہی کیوں نہ ہو۔ ہم محفلوں میں ایسے لوگوں کی کہانیاں شوق سے سنتے ہیں جنہوں نے کسی کو بے وقوف بنا کر فائدہ اٹھایا مگر ہم ان لوگوں کا ذکر کم ہی کرتے ہیں جنہوں نے نقصان اٹھا کر بھی اصول کا دامن نہیں چھوڑا۔
یہ رویہ دراصل ہمارے اجتماعی خوف کی علامت ہے۔ ہم سچ سے ڈرتے ہیں کیونکہ سچ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے اور آئینہ اکثر ہماری مرضی کا چہرہ نہیں دکھاتا۔ ہمیں وہ لوگ پسند آتے ہیں جو ہمیں وقتی فائدہ، فوری حل اور آسان راستہ دکھائیں، چاہے اس کی قیمت اقدار کی قربانی ہی کیوں نہ ہو۔ چالاکی ہمیں محفوظ محسوس ہوتی ہے، جبکہ شرافت ہمیں کمزور نظر آتی ہے۔۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے چالاکیوں سے نہیں، کردار سے بنتے ہیں۔
اگر ہم نے ذہانت کو مکاری اور سادگی کو حماقت سمجھنے کا یہ پیمانہ نہ بدلا تو ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہم نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے دیا ہیں جہاں علم کی نہیں، فریب کی عزت ہے اور جہاں دلیل کی نہیں، مکاری و عیاری کی قدر ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ ہوشیار ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم کس قسم کی ہوشیاری کو اپنا آئیڈیل بنا رہے ہیں۔ کیونکہ قومیں اسی معیار پر پہچانی جاتی ہیں جسے وہ عزت دینا سیکھ لیتی ہیں۔

