Punjab Ka Qasoor Kya Hai?
پنجاب کا قصور کیا ہے؟

گذشتہ ڈیڑھ دہائی سے بطور سیاح یا مسافر ملک کے اندرون میرا شمال تا جنوب اور مشرق تا مغرب سفر رہا ہے۔ اس دوران میں نے اپنے بھائیوں سے بہت کچھ سُنا بھی ہے، خود دیکھا بھی ہے اور بہت کچھ دل پر سہا بھی ہے۔ کوئی مجھے پنجابی جانتے ہوئے "کالا انگریز" کہتا ہے۔ کوئی مجھے پنجابی ہونے کے ناطے پنجابی بیوروکریسی اور پنجابی فوج کے طعنے دیتا رہا ہے۔ میں یہ سن کر ہنس دیتا ہوں۔
میں یہ مانتا ہوں کہ پنجاب میں آبادی کا تناسب باقی صوبوں کی نسبت بہت زیادہ ہے اس واسطے یہاں تعلیمی ادارے، ہاسپٹلز اور سڑکوں و کمیونیکیشن کا نظام بھی باقیوں کی نسبت بہتر ہے۔ پنجابی میں بہت سی خامیاں ہیں اور ہمیشہ میں ان کا ذکر کرتا رہا اور اس بات کا ادراک رکھتا ہوں کہ جو مسائل ہیں وہ ہیں۔ لیکن بہت کچھ ایسا ہے جس میں پنجابی کا کوئی قصور نہیں اور جس کی بِنا پر خوامخواہ یا کسی سیاسی ایجنڈے کے زیر اثر نفرت پھیلائی جاتی ہے۔
فوج کو پنجابی فوج کہنے والوں سے عرض ہے کہ آج فوج میں پنجابیوں کی تعداد پختون سپاہیوں سے کم ہے۔ آپ فوج کے اعداد و شمار تو چیک کر لیں۔ سنہ 2002 مشرف کے دور سے آج تک کی بیوروکریسی میں پشتون، اردو سپیکنگ اور سندھی افسران چھائے ہوئے ہیں۔ چار مارشل لاء لگے جن میں سے ایوب خان اور یحییٰ خان پنجابی نہیں تھے۔ ضیا الحق اور مشرف ہمارے مہاجر بھائیوں میں سے تھے۔
خیبرپختونخوا کے بھائیوں کا شکوہ رہتا ہے کہ پانی ہمارا ہے تو بجلی ہمیں سستی دو۔ وہاں بہت سے علاقوں میں ویسے ہی واپڈا میٹر نہیں فکس بلز ہیں۔ بلوچستان میں بسنے والے بھائیوں کا شکوہ ہے کہ معدنیات ہماری، گیس ہماری اور ہمیں ہی نہ ملیں۔ فاٹا کے دوست الگ شکوے کرتے ہیں، سندھی بھائیوں کے شکوے الگ ہیں۔ سب کا ٹارگٹ پنجاب ہے۔ شکوہ پنجاب سے ہے۔ اسی اصول پر کیا کبھی پنجاب نے یہ مطالبہ کیا کہ گندم و اجناس یہاں پیدا ہوتیں ہیں وہ ہمیں مفت دو یا سبسڈائیز ریٹ پر دو؟ انڈسٹری یہاں ہے تو ہمیں پراڈکٹس سستی دو؟
پھر یہ طعنے بھی سنتا رہا ہوں کہ پنجاب نے غیر ملکی آمروں کے سامنے کبھی مزاحمت نہیں کی اور بادشاہ سکون سے پنجاب و دلی فتح کرتے رہے۔ غوری کی لاش پنجاب میں پڑی ہے۔ سکندر کا راستہ جہلم میں روکا گیا۔ رنجیت سنگھ نے پنجاب کا بارڈر خیبر تک پھیلا کر تمام invaders کا راستہ روک دیا تھا۔ سوال تو یہ ہے کہ جب یہ سب خیبر پاس سے گزر کر آتے تھے تو خیبر پاس والوں نے کتنوں کا راستہ روکا؟ بتائیں کہ کس نے افغانیوں، ایرانیوں اور سینٹرل ایشئین آمروں کو راہداری دی؟ کون ان کے ساتھ مل کر پنجاب آتے رہے؟ کس راہگزر سے آتے تھے؟ پنجاب تو افغانستان و ایران کا بارڈر نہیں تھا۔
جو گلے شکوے جائز ہیں وہ ہیں۔ ان کو ماننا چاہئیے۔ میں اس نظرئیے کا ہوں کہ پنجاب کے چار یا کم از کم تین ٹکرے کرکے تین صوبے بنائے جائیں۔ تین کروڑ کی آبادر پر ایک صوبہ ہو۔ پنجاب کی آبادی بارہ کروڑ سے بڑھ رہی ہے۔ مگر اتنی نفرت نہ پھیلاؤ کہ بلوچستان سے پنجابیوں کی لاشیں موصول ہوں اور باقی صوبوں کے دوست پنجابی کو ہر مسئلے کی جڑ سمجھیں۔ بہت عرصہ میں نے بھی اس ملک میں چپہ چپہ گھوما ہے۔ بہت کچھ کہہ بول سکتا ہوں لیکن نہیں کہوں گا۔ جتنا کہہ دیا یہ کافی ہے۔
ایکس فاٹا کے سفروں میں جو المئیے میرے نوٹس میں آئے وہ انتہائی درد ناک ہیں۔ بلوچستان اور اندرون سندھ کی غربت کے سامنے صومالیہ بھی پیرس معلوم ہوتا ہے۔ مگر ان سب سے اہلیان پنجاب نے کیا چھینا ہے؟ شناخت کرکے پنجابی و سرائیکیوں کو مارا جاتا ہے۔ کبھی پنجاب میں بسنے والوں نے غیر پنجابی کو شناخت کرکے اسے قومیت کی بنیاد پر مارا ہے؟
پاکستان کے وزراء اعظم و حکمران لیاقت علی خان، محمد علی بوگرہ، سکندر مرزا، حسین شہید سہروردی، اسماعیل چندریگر، ُنور الامین، ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، بینظیر بھٹو، ظفر اللہ خان جمالی، شوکت عزیز اور چاروں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرز جنہوں نے مجموعی طور پر اس ملک کے اٹھہتر سالوں میں سے ستاون سال حکومت سنبھالی ہے۔ ان میں کون پنجابی تھا؟
میں قومیت و لسانیت کی بنیادوں پر الزام تراشی کا کسی صورت قائل نہیں ہوں۔ مگر جب بڑے نامی گرامی قلمی مشقتیوں کو قومی و لسانی بنیادوں پر پنجاب کے خلاف زہر اُگلتا دیکھتا ہوں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر پنجابی نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔ جو بھی گلے شکوے ہوں، مسائل ہوں، وہ وفاق سے کریں۔ یہ ملک فیڈریشن ہے۔ پنجاب ایک صوبہ ہے۔

