Wednesday, 25 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Nazm o Zabt

Nazm o Zabt

نظم و ضبط

زندگی ایک حسین سفر ہے، لیکن یہ سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ہم انسان ہیں، ہم جذبات رکھتے ہیں۔ جیسے کہ خوشی، غم، مایوسی، محبت، یہ سب ہمارے دل کا حصہ ہیں۔ کبھی کبھی دوستوں کے رویے بدل جاتے ہیں، گھر والے اپنے مصروفیت میں تھوڑے سخت لگتے ہیں اور ہم خود بھی اپنے احساسات میں کھو دیتے ہیں۔

ایسی صورت میں ڈسپلن یعنی نظم و ضبط ہمارے لیے رہنما روشنی بن سکتا ہے۔ یہ ہمیں وقت کی قدر کرنا سکھاتا ہے، کام میں مستقل مزاجی دیتی ہے اور زندگی کو منظم ضبط کے ساتھ گزارنا سکھاتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں، ڈسپلن کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے دوستوں، خاندان، رشتوں یا جذبات کو قربان کر دیں۔ محبت، تعلقات اور خلوص زندگی کے سب سے اہم جزو ہیں۔

ڈسپلن کو صحیح طریقے سے اپنانے کا مطلب ہے کہ ہم اپنے خوابوں کے لیے محنت کریں، اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں اور اپنے جذبات کو سمجھیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رشتوں کا خیال رکھیں، اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ تعلق مضبوط رکھیں۔ کیونکہ حقیقی ڈسپلن وہ ہے جو زندگی کو آسان بنائے اور دل کی خوشی کو برقرار رکھے۔

چھوٹے چھوٹے اقدامات بہت فرق ڈالتے ہیں: صبح جلدی اٹھنا، کام کو شیڈول کے مطابق کرنا، لیکن ساتھ ہی اپنے پیاروں کے لیے وقت نکالنا، مسکرانا، بات کرنا اور محبت دینا۔ اسی سے ہماری زندگی میں ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں اور ڈسپلن ہی کی وجہ سے ہمیں دل کا سکون بھی حاصل ہوتا ہیں۔

یاد رکھیں ڈسپلن وہ طاقت ہے جو ہمیں خوابوں تک پہنچاتی ہے، لیکن محبت اور رشتے وہ دل کی روشنی ہیں جو زندگی کو مکمل کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی کو اسان بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ڈسپلن کو اپنی زندگی کے لیے اتنا ہی ضروری بنانا ہوگا جتنا کہ کھانا اور پانی ہمارے لیے ضروری ہے۔ ڈسپلن آپ کی زندگی کو اسان کرتا ہے آپ کو بہت سی ذہنی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ اس کو اپنی زندگی میں ضرور شامل کریں۔ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے اسانیاں پیدا کریں۔ مجھے امید ہے کہ یہ کالم ہم سب کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنُفَعُهُمُ لِلنَّاسِ، وَأَحَبُّ الُأَعُمَالِ إِلَى اللَّهِ"، یعنی "اللہ کے نزدیک سب سے محبوب لوگ وہ ہیں جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہوں اور اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ اعمال وہ ہیں کہ کسی مسلمان کو خوشی پہنچائی جائے، اس کی تنگی دور کی جائے، اس کا قرض ادا کیا جائے، یا اسے بھوک سے بچایا جائے"۔

یہ روایت صحیح مسلم (Sahih Muslim) کتاب اعمال و آداب کے باب میں محدثین نے نقل کی ہے۔

Check Also

Abadi Tarazu

By Toqeer Bhumla