Dukh Sab Ka, Faisla Riyasat Ka
دکھ سب کا، فیصلہ ریاست کا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے پورے خطے کو سوگوار کر دیا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایران کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرنے والا سانحہ ہے۔ پاکستان، جو جغرافیائی، مذہبی اور تاریخی طور پر ایران کے قریب رہا ہے، اس دکھ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔
پاکستان ہمیشہ مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں ہی نہیں بلکہ ثقافتی، مذہبی اور تہذیبی رشتے بھی موجود ہیں۔ اگرچہ ہماری اپنی کچھ مجبوریاں اور سفارتی تقاضے ہو سکتے ہیں، لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آیت اللہ کی شہادت کا دکھ ہم سب کا مشترکہ دکھ ہے۔ اسے کسی ایک مسلک، گروہ یا فکر تک محدود کرنا نہ صرف ناانصافی ہوگی بلکہ قومی وحدت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوگا۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں واقعات کو مذہبی رنگ دے کر داخلی انتشار پیدا کرنا دشمن کے مقاصد کو تقویت دیتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی فرقہ وارانہ کشیدگی کے تلخ تجربات سے گزر چکا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، اپنے جذبات کو مثبت سمت دیں اور قومی یکجہتی کو اولین ترجیح بنائیں۔
اس موقع پر پاکستان کی حکومت کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ خاموشی یا ابہام کسی بھی طور پر مفید نہیں۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ ریاست کا مؤقف کیا ہے۔ کیا ہم محض تماشائی رہیں گے یا اصولی موقف اپنائیں گے؟ خارجہ پالیسی ہمیشہ قومی مفادات کے تابع ہوتی ہے، مگر قومی مفاد صرف وقتی سفارتی توازن کا نام نہیں بلکہ عوامی جذبات، علاقائی استحکام اور طویل المدتی سلامتی کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ واضح اور دوٹوک حکمتِ عملی مرتب کرے۔ ایک طرف عالمی دباؤ اور علاقائی توازن کی حقیقتیں ہیں، تو دوسری طرف عوامی احساسات اور برادر اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات۔ اس نازک موقع پر مبہم بیانات کے بجائے واضح الفاظ میں آیت اللہ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا جائے اور یہ باور کرایا جائے کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت یا قیادت کو نشانہ بنانے کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ اگر ہم نے بروقت اور دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو پاکستان محض ردِعمل دینے والی ریاست بن کر رہ جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہو اور ایک متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دیا جائے۔
اس سانحے کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنے کے بجائے اسے امتِ مسلمہ کے ایک بڑے سانحے کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ جب کسی بھی مسلم ملک کی قیادت نشانہ بنتی ہے تو اس کے اثرات پوری امت پر پڑتے ہیں۔ ایسے وقت میں انتشار نہیں، اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان کو اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ اصولوں کی سیاست بھی کرنی ہوگی۔ ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ ہم امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کی تو تاریخ ہمیں ایک غیر فیصلہ کن قوم کے طور پر یاد رکھے گی، لیکن اگر ہم نے جرات مندانہ اور متوازن موقف اپنایا تو یہ ہماری سفارتی پختگی کا ثبوت ہوگا۔
آج سب سے اہم پیغام یہ ہونا چاہیے کہ آیت اللہ کی شہادت کا دکھ کسی ایک مسلک یا جماعت کا نہیں، پوری قوم کا دکھ ہے۔ ہمیں صبر، تحمل اور دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ اختلافات کے باوجود قومی یکجہتی کو برقرار رکھنا ہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ سنجیدہ، واضح اور قومی مفاد پر مبنی فیصلوں کا ہے۔ پاکستان کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا، کیونکہ آنے والے دنوں میں ہمارے فیصلے ہی ہماری سمت کا تعین کریں گے۔

