Qabil e Rashk Log
قابلِ رشک لوگ

قابلِ رشک لوگ وہ نہیں ہوتے جن کے نام تختیوں پر جگمگاتے ہوں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جن کے اعمال وقت کے سینے پر نقش ہو جائیں۔ تاریخ کا مزاج یہی رہا ہے کہ وہ شور سے زیادہ خاموشی کو یاد رکھتی ہے اور اشتہار سے زیادہ اخلاص کو۔ شعبان کی اس مبارک تاریخ پر جو پیغام سامنے آتا ہے، وہ کسی معمولی اعلان یا وقتی ترغیب کا نہیں، بلکہ ایک ایسے عمل کی یاد دہانی ہے جسے خود رسولِ اکرم ﷺ نے "قابلِ رشک" قرار دیا۔ رشک، حسد نہیں، رشک وہ پاکیزہ تمنا ہے کہ کاش یہ نعمت مجھے بھی نصیب ہو، کاش میں بھی اس صف میں کھڑا ہو سکوں جہاں قرآن سے رشتہ دن کی تلاوت اور رات کی عبادت میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی نہ دولت کی نمائش میں ہے، نہ عہدوں کے ہجوم میں، بلکہ اس نسبت میں ہے جو انسان کو کلامِ الٰہی سے جوڑ دے۔
یہ بات حیران کن بھی ہے اور فکر انگیز بھی کہ ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں معلومات کی فراوانی ہے، مگر حکمت کی قلت، آوازوں کی کثرت ہے، مگر سکون ناپید اور روشنیوں کا سیلاب ہے، مگر دلوں میں اندھیرا بسیرا کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں قرآن سے جڑا ہوا شخص ایک چلتا پھرتا چراغ بن جاتا ہے۔ وہ چراغ جو صرف اپنے لیے نہیں جلتا، بلکہ اردگرد کی راہوں کو بھی روشن کرتا ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ میں جن دو لوگوں کو قابلِ رشک کہا گیا، ان میں ایک وہ ہے جسے اللہ نے قرآن عطا کیا اور وہ دن رات اس کی تلاوت میں مشغول رہتا ہے۔ یہ محض تلاوت نہیں، یہ ایک مسلسل مکالمہ ہے بندے اور رب کے درمیان، دن کے اجالے میں بھی اور رات کی تنہائی میں بھی۔ یہی وہ مکالمہ ہے جو انسان کے اندر سے خوف کم اور یقین زیادہ کرتا ہے۔
دوسرا قابلِ رشک وہ ہے جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے۔ بظاہر یہ دو الگ الگ صفات ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ہی روح کے دو رخ ہیں۔ قرآن دل کو سخی بناتا ہے اور سخاوت دل کو قرآن کے لیے نرم۔ جو شخص کلامِ الٰہی کے معانی میں ڈوبتا ہے، وہ دنیا کو محض جمع کرنے کی چیز نہیں سمجھتا، بلکہ بانٹنے کا ہنر سیکھ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن والے ہاتھ تنگ نہیں ہوتے، دل کشادہ ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، بڑھتا ہے اور بانٹنے سے عزت گھٹتی نہیں، نکھرتی ہے۔ اس اعلان میں جو پیغام پوشیدہ ہے، وہ یہی ہے کہ اصل تربیت وہ ہے جو انسان کو دینے والا بنا دے، لینے والا نہیں۔
ہم اکثر رشک کو صرف ظاہری کامیابیوں سے جوڑ دیتے ہیں۔ فلاں کے پاس یہ ہے، فلاں وہاں پہنچ گیا، فلاں نے یہ حاصل کر لیا۔ مگر نبی کریم ﷺ نے معیار بدل دیا۔ آپ ﷺ نے رشک کو روحانی بلندی اور اخلاقی عظمت سے جوڑ دیا۔ قرآن کا حامل ہونا محض حفظ یا قرأت کا نام نہیں، یہ کردار کی تشکیل کا عمل ہے۔ قرآن انسان کو سچ بولنا سکھاتا ہے، امانت داری سکھاتا ہے، عدل پر قائم رہنا سکھاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ سکھاتا ہے کہ طاقت ہو تو عاجزی اختیار کرو اور اختیار ہو تو رحم۔ ایسے لوگ معاشروں کے لیے نعمت ہوتے ہیں۔ وہ خاموشی سے اصلاح کرتے ہیں، بغیر شور کے راستے دکھاتے ہیں اور بغیر دعوے کے مثال بن جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب تعلیمی ادارے، دینی مدارس یا آن لائن قرآن اکیڈمیز اس پیغام کو عام کرتے ہیں تو وہ محض ایک درس نہیں دیتے، ایک سمت متعین کرتے ہیں۔ یہ سمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری ترجیحات کہاں ہونی چاہئیں۔ اگر ہمارے بچے قرآن سے جڑ جائیں، اگر ہماری راتیں کچھ لمحے اس کے ساتھ بسر ہونے لگیں، اگر ہمارے وسائل اللہ کی راہ میں بہنے لگیں، تو معاشرے کے بہت سے زخم خود بخود بھرنے لگیں گے۔ یہ کوئی خیالی بات نہیں، تاریخ اس کی گواہ ہے۔ جن قوموں نے قرآن کو مرکز بنایا، انہوں نے علم، اخلاق اور عدل میں دنیا کی رہنمائی کی۔
آج ہمیں دوبارہ اسی مرکز کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ نہ جذباتی نعروں کے ساتھ، نہ وقتی جوش میں، بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ۔ قرآن کو پڑھنا، سمجھنا اور زندگی میں اتارنا، یہی وہ سفر ہے جو انسان کو قابلِ رشک بناتا ہے اور پھر جب یہ سفر رات کی خاموشی میں سجدوں سے جڑ جائے اور دن کی روشنی میں خدمتِ خلق سے، تو وہ فرد نہیں رہتا، ایک ادارہ بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ کم ہوں تو بھی کافی ہوتے ہیں، کیونکہ وہ معیار بن جاتے ہیں۔ یہی اس پیغام کا حسن ہے، یہی اس اعلان کی اصل روح ہے اور یہی وہ دعوت ہے جس پر لبیک کہنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کچھ پیغامات وقت کی دیوار پر ہتھوڑا بن کر نہیں، دل کے دروازے پر آہستہ سے آہٹ بن کر اترتے ہیں۔ وہ شور نہیں مچاتے، بس سننے والے دل کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ قرآن سے جڑنے کی یہ یاد دہانی بھی ایسی ہی ایک نرم ندا ہے جو اگر سن لی جائے تو زندگی کی سمت بدل دیتی ہے۔
دل کی دہلیز پہ آ کر جو ٹھہرتی ہے صدا
وہ نہ للکار ہے کوئی، نہ ہے دہشت کی صدا
شب کی خاموش فضا میں جو کلامِ رب اترا
بن گئی روح کے ویران سفر میں روشنی کی صدا
حرفِ قرآں نے سکھایا ہے قرینہ جینے کا
یوں سنورتی گئی آہستہ سے نیت کی صدا
جو ملا مال، اسے راہِ خدا میں بانٹ دے
یہی دراصل ہے انسان کی عظمت کی صدا
جنہوں نے سن لی یہ آہٹ، وہ سنبھلتے ہی گئے
بے خبر رہنے والوں کے لیے حسرت کی صدا

