ہیش ٹیگ "ایرانی عوام کو آزاد کرو" کی اوریجنل کہانی

ڈجیٹل دنیا میں کون سا بیانیہ ابھرے گا اور کون سا دبایا جائے گا۔ اس کی ڈیزائننگ بند کمروں میں بیٹھے ماہرین کرتے ہیں اور پھر اسے طفیلی اکاؤنٹس اور چیٹ بوٹس کی مدد سے سوشل میڈیا پر سیلابی شکل میں کچھ ایسے چھوڑا جاتا ہے گویا لاکھوں لوگ اس بیانئیے کے حامی اور حصے دار ہوں۔ یوں ناہموار فضا کو اپنے حق میں ہموار کرنے کا دھندہ چلتا ہے۔ اسے کہتے ہیں دماغ کنٹرول کرنے کی سائنس۔
تین روز قبل الجزیرہ کی ویب سائٹ پر حالیہ ایرانی بے چینی کے تناظر میں ایک چشم کشا انویسٹیگیٹو رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ میں ایلون مسک کے پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر ہیش ٹیگ " فری دی پرشین پیپل " ٹرینڈ کا جائزہ لیا گیا۔ اس ٹرینڈ کے سائے میں جنوری کے پہلے ہفتے میں ایسی پوسٹوں کا سیلاب تخلیق کیا گیا گویا یہ ایرانی تاریخ کی فیصلہ کن گھڑی ہے۔ تاثر یہ دیا گیا کہ یہ پوسٹیں ایران کے اندر سے آنے والی آوازیں ہیں۔
جب اس مہم کا سورس ٹریک کیا گیا تو بیشتر پوسٹوں کی کہانی مختلف نکلی۔ مہم کا حصہ اکثر ایکس اکاؤنٹس کے لنکس اور ڈانڈے اسرائیل یا پھر اسرائیل نواز حلقوں سے جا ملے۔ مینوفیکچرڈ بیانئیے کا ایکو چیمبر بنانے کا مقصد ایران کے دگرگوں حالات و واقعات کو ایک خاص مفاداتی جیو پولٹیکل سمت کی جانب لے جانا تھا۔ الجزیرہ کی سوشل میڈیا انویسٹیگیشن ٹیم نے ہیش ٹیگ " فری دی پرشین پیپل " کی چھتری تلے پھیلنے والی بے شمار پوسٹوں میں سے بطور سیمپل چار ہزار تین سو پوسٹوں کا ڈجیٹل پوسٹمارٹم کیا۔ یہ پوسٹیں اٹھارہ ملین صارفین تک پہنچیں۔ مگر ان میں سے صرف چھ فیصد یعنی ایک سو ستر صارفین کی پوسٹوں کا مواد اوریجنل ثابت ہوا۔
ڈجیٹل دنیا میں اس طرح کی مربوط مہم کے لیے آسٹروٹرفنگ کی اصطلاح برتی جاتی ہے۔ یعنی مینوفیکچرڈ پیغامات کو اتنے بڑے پیمانے پر پھیلایا جائے کہ وہ اکثریت کی آواز معلوم ہوں۔ ان پیغامات میں عوام بمقابلہ ریاست، آزادی بمقابلہ پولٹیکل اسلام اور ایران بمقابلہ اسلامی جمہوریہ جیسے الفاظ مشترک پائے گئے۔
اکثر پوسٹوں میں رضا شاہ پہلوی کو ایرانی عوام کے واحد سیاسی نجات دھندہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ (پہلوی کی حمائیت میں اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ نے ایک ڈجیٹل مہم اکتوبر میں بھی اسپانسر کی تھی جس میں اے آئی جنریٹڈ عوامی تصاویر اور پیغامات کا بھی بکثرت استعمال ہوا تھا۔ مگر یہ مہم چند دن بعد غائب ہوگئی)۔
تازہ مہم میں رضا شاہ پہلوی کو بطور متبادل پیش کرنے کی مہم کا خود موصوف نے بھی سنجیدگی سے اثر لیا اور اپنے ایکس ہینڈل سے واقعتاً فرمان جاری کرنے شروع کر دیے۔ چھ جنوری کی ایک ٹویٹ میں آپ نے حکم دیا " پنج شنبہ (جمعرات) اور جمعہ کی شب آٹھ بجے پوری قوم بھلے وہ باہر ہو یا گھر میں، بیک وقت مزاحمتی نعرے لگائے۔ اگر یہ اپیل کامیاب رہی تو میں اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا "۔
(پندرہ جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے ٹھیک سے نہیں معلوم کہ ایران میں رضا شاہ کتنے مقبول ہیں۔ ٹرمپ کے بیان سے چند روز قبل رضا پہلوی نے وائٹ ہاؤس میں صدر سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی مگر اسے خوبصورتی سے ٹال دیا گیا۔ دو روز پہلے موصوف نے ایک اور ایکس پیغام میں کہا کہ اگر ایرانی عوام نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا تو فوری طور پر جو اقدامات کیے جائیں گے ان میں سرِ فہرست جوہری پروگرام کا خاتمہ اور اسرائیل سے تعلقات کی بحالی شامل ہوگی)۔
ایسا نہیں کہ ایرانی عوامی تحریک کے بارے میں نامعلوم اکاؤنٹس سے ہی اکثر پیغامات جنریٹ ہوتے رہے۔ اسرائیلی قیادت نے براہ راست بھی اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے ایک مرکزی کردار یعنی اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بین گویر کی جانب سے فارسی میں ٹویٹ کیا گیا کہ " آزادی اور قاتل آمر خامنہ ای سے نجات کی جدوجہد میں ہم ایرانی عوام کے شانہ بشانہ ہیں "۔ سابق اسرائیلی وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ کی بھی ملتی جلتی ٹویٹ اچھی خاصی ایمپلیفائی ہوئی۔
ایال یعقوبی اور حلیل نوئر کے نام سے دو اسرائیلی اکاؤنٹس خاصے متحرک نظر آئے۔ ان اکاؤنٹس پر عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کی " مجرمانہ خاموشی " کا مسلسل شکوہ کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے جب " ہم ایران میں مسلح مداخلت کے لیے کیل کانٹے سے لیس بالکل تیار ہیں " جیسے پیغامات جاری کیے تو چیٹ بوٹس پر ان پیغامات کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اکثر ری ٹویٹس کے ساتھ یہ بھی پوچھا گیا کہ اب صدر ٹرمپ کو کس بات کا انتظار ہے؟ بشمول امریکی ریپبلیکن رکنِ کانگریس پیٹ فیلن بہت سے پیغامات میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے بھی براہ راست مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔
ہیش ٹیگ " فری دی پرشین پیپل " ٹرینڈ کو پھیلانے میں جن مزید اکاؤنٹس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان میں " ردھم آف ایکس " بھی شامل ہے۔ دو ہزار چوبیس سے متحرک یہ ایکس اکاؤنٹ اب تک پانچ بار اپنا ہینڈل بدل چکا ہے۔ اس اکاؤنٹ کا محور اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت، ایران میں بادشاہت کی بحالی اور پاسداران کے خلاف مسلح امریکی کارروائی کے تکراری مطالبات ہیں۔ " نیوہا برگ " کے نام سے دو ہزار سترہ سے جو اکاؤنٹ متحرک ہے وہ بھی پانچ بار اپنا نام بدل چکا ہے۔ اکاؤنٹ ہولڈر کا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی نژاد یہودی ایکٹوسٹ خاتون اور ایرانی حکومت کو مطلوب ہے۔ ایک اور اکاؤنٹ " اسرائیل وار روم " کے نام سے متحرک ہے۔ اس اکاؤنٹ اور نیوہا برگ اکاؤنٹ سے اکثر ایک ہی طرح کے پیغامات جنریٹ ہوتے ہیں۔
الجزیرہ کی ڈجیٹل انویسٹیگیشن ٹیم نے یہ مجموعی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ " فری دی پرشین پیپل " ڈجیٹل مہم ایرانی عوام کے غصے کے بے ساختہ اظہار سے زیادہ ایک خود ساختہ اظہاریہ تھی۔ یہ اطلاعاتی آپریشن ایران سے باہر ترتیب دیا گیا اور اس کے بنیادی محرکین اسرائیلی یا ان کے ہمدرد اکاؤنٹس ہیں۔ یہ مہم دراصل ایرانی حکومت کے خلاف جائز عوامی جدوجہد کو ایک خاص مفاداتی سمت میں لے جانے کی ہائی جیکرانہ کوشش تھی۔
ایرانی عوام کے لیے جیو پولٹیکل ہائی جیکنگ کوئی نیا واقعہ نہیں۔ کہانی انیس سو اکیاون سے شروع ہوتی ہے جب برطانوی اینگلو ایرانین آئل کمپنی کو ایرانی عوام کے استحصال سے روکنے کے لیے منتخب وزیرِ اعظم محمد مصدق نے تیل کی صنعت کو قومی ملکیت میں لیا۔ انھیں اس جرات کی سزا دینے کے لیے انیس سو تریپن میں کرائے کے ہجوم کے ذریعے برطرف کروانے کی سازش میں برطانوی ایم آئی سکس اور امریکن سی آئی اے نے کامیابی حاصل کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ سازشی چہرے ضرور بدلے مگر ہدف نہیں بدلا۔

