Aik Inqilabi Talib e Ilm Se Rehbar e Aala Tak
ایک انقلابی طالب علم سے رہبرِ اعلیٰ تک

انیس اپریل 1939 کو ایران کے مقدس اور علمی شہر مشہد میں پیدا ہونے والے علی خامنہ ای کا تعلق ایک مذہبی اور علمی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد آیت اللہ سید جواد خامنہ ای اپنے وقت کے معروف دینی عالم تھے، جن کی نسبت آذربائیجان کے شہر خامنہ سے تھی اور اسی نسبت سے خاندان "خامنہ ای" کہلایا۔ مذہبی ماحول میں آنکھ کھولنے والے علی خامنہ ای نے کم عمری ہی میں قرآن مجید، عربی زبان، فقہ اور منطق کی تعلیم کا آغاز کر دیا، جس نے ان کی فکری بنیادوں کو مضبوط کیا۔
اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے وہ بعد ازاں قم منتقل ہوئے، جو ایران کا سب سے بڑا علمی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وہاں انہوں نے وقت کے جید علما، خصوصاً روح اللہ خمینی، حسین بروجردی اور محمد حسین طباطبائی سے فقہ، اصول اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ اسی دور میں ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو نمایاں ہوا ادب اور شاعری سے گہرا شغف۔ فارسی و عربی ادب، تراجم اور فکری مباحث میں دلچسپی نے انہیں محض ایک مذہبی طالب علم نہیں بلکہ ایک صاحبِ ذوق مفکرکے طور پر بھی متعارف کرایا۔
انیس سو ساٹھ کی دہائی ایران کی سیاسی تاریخ کا ہنگامہ خیز دور تھا۔ شاہِ ایران محمد رضا پہلوی کے خلاف عوامی بے چینی بڑھ رہی تھی۔ اس پس منظر میں علی خامنہ ای نے امام خمینی کی انقلابی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی تقاریر، خفیہ تنظیمی سرگرمیاں اور نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوششیں حکومت کی نظر میں کھٹکنے لگیں۔ نتیجتاً انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں اور جلاوطنی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
سن 1981 میں تہران میں ایک عوامی خطاب کے دوران ان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ اس حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کا دایاں ہاتھ مستقل طور پر مفلوج ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد ایران میں انہیں "زندہ شہید" کے لقب سے یاد کیا جانے لگا، جو ان کی جدوجہد اور قربانیوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
1979 کے اسلامی انقلاب کی کامیابی نے ایران کی سیاسی بساط ہی بدل دی۔ اس انقلاب کے بعد علی خامنہ ای تیزی سے قومی سیاست کے مرکزی دھارے میں ابھرے۔ انہیں پہلے نائب وزیرِ دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی، پھر تہران کا امام جمعہ مقرر کیا گیا۔ 1981 میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کا دورِ صدارت ایران عراق جنگ کے نہایت کٹھن برسوں پر محیط تھا، جب ملک کو داخلی استحکام اور بیرونی محاذ دونوں پر چیلنجز درپیش تھے۔ اس دوران انہوں نے انقلابی اداروں کے استحکام اور جنگی حکمت عملی میں فعال کردار ادا کیا۔
جون 1989 میں روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد مجلسِ خبرگانِ رہبری نے آئینی ترمیم کے تحت علی خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا۔ اس منصب پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے دفاع، خارجہ پالیسی، عدلیہ، فوج اور پاسدارانِ انقلاب سمیت اہم ریاستی اداروں کی نگرانی سنبھالی۔ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں ان کی قیادت نے ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
علی خامنہ ای کی شخصیت محض سیاسی قیادت تک محدود نہیں۔ وہ ادب اور شاعری سے خاص شغف رکھتے ہیں اور مختلف مواقع پر ادبی نشستوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ ان کی تحریریں اور خطابات مذہبی فکر، سیاسی بصیرت اور تہذیبی شعور کا امتزاج پیش کرتے ہیں، جس سے ان کا ایک فکری رہنما کا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔
مختصراً، علی خامنہ ای کی زندگی ایک ایسے طالب علم کی داستان ہے جو مذہبی درسگاہوں سے اٹھ کر انقلاب کی صفِ اول میں کھڑا ہوا، آزمائشوں سے گزرا اور بالآخر ایران کے سب سے بااختیار منصب تک پہنچا۔ ان کی قیادت اور پالیسیوں پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ وہ جدید ایران کی سیاسی تاریخ کی ایک مرکزی اور اثر انگیز شخصیت ہیں۔

