Tuesday, 20 January 2026
  1.  Home
  2. Wusat Ullah Khan
  3. Ghaza Aur Iran Mein Lash Shumari

Ghaza Aur Iran Mein Lash Shumari

غزہ اور ایران میں لاش شماری

لگ بھگ ڈھائی برس سے مغربی میڈیا غزہ میں ہلاک، زخمی، معذور اور جھلسنے والے ہر انسان کی باریک بینی سے چھان پھٹک کرتا آ رہا ہے۔ یعنی وہ سچ مچ میں انسان ہی ہیں؟ واقعی مر گئے؟ مر گئے تو اسرائیلی بمباری، فائرنگ، ٹارچر یا محاصرے کے سبب ہی مرے اور جتنے بھی مرے ان میں سے کتنوں کے بارے میں یقین کیا جائے کہ وہ جنگجو نہیں عام سے لوگ تھے وغیرہ وغیرہ؟

تباہی کے عینی شاہد اگر مقامی فلسطینی ہیں اور انھوں نے اپنے پیاروں کو ایک کے بعد ایک مرتے بھی دیکھا ہے تب بھی کراس چیکنگ تو بنتی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت انسانی و مادی تباہی کے بارے میں جو اعداد و شمار جاری کرتی ہے ان میں سے ایک ایک دعوی کی صحت کو الٹ پلٹ کر دیکھنا بھی لازم ہے۔ بھلے اقوامِ متحدہ سمیت ہر کے لیے دار بین الاقوامی تنظیم وزارتِ صحت کی جانب سے اکہتر ہزار ہلاکتوں کی محتاط گنتی کو درست ہی کیوں نہ مان لے اور چہار جانب سے یہ گواہی بھی کیوں نہ مل جائے کہ مرنے والوں کی اکثریت (اسی فیصد) عام شہریوں کی ہے۔ حتی کہ عالمی میڈیا (مغربی میڈیا) کو بمباری سے جلتے خیموں میں پگھلتے زندہ انسانوں کی ان سیکڑوں وڈیوز کی بھی تصدیق درکار ہے جن کا اوریجن ہی غزہ ہے۔

اب تو آزاد محقق بھی کہہ رہے ہیں کہ غزہ کی وزارتِ صحت نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد کے نو ماہ کے دوران جتنی ہلاکتوں کی تصدیق کی وہ اصل تعداد سے کم ازکم چالیس فیصد کم ہیں۔ گنتی میں وہ لوگ تو شامل ہی نہیں کیے گئے جو بیماری، بھوک، موسم کی سختی، طبی مراکز کی جامع تباہی، آلودہ و زہریلے پانی کے استعمال اور صحت و صفائی کے نظام کی بربادی کے سبب مرے یا جن کے ڈھانچے ملبے تلے دب گئے یا ان کے پرخچے اڑ گئے یا ٹینکوں اور فوجی بلڈوزروں تلے کچلے گئے یا آس پاس کے بھوکے جانوروں کی خوراک بن گئے۔

جون دو ہزار چوبیس میں برطانوی طبی جریدے دی لانسٹ کا اندازہ تھا کہ پہلے نو ماہ کے دوران غزہ میں جنگی و غیر جنگی اسباب ملا کے ایک لاکھ چھیاسی ہزار انسان مر چکے ہیں۔ مگر دی لانسٹ جیسے ذمے دار اور موقر جریدے کی یہ رپورٹ کسی مغربی اخبار، چینل یا ویب سائٹ کی چیختی دھاڑتی سرخی نہ بن سکی۔

سوچئے دی لانسٹ رپورٹ شائع ہونے کے بعد کے پندرہ ماہ میں دس اکتوبر دو ہزار پچیس کی جنگ بندی تک مزید کتنے مرے ہوں گے اور جنگ بندی کے بعد بھی اب تک مسلسل اسرائیلی حملوں میں مزید ساڑھے چار ہو ہلاکتیں ہوئی ہیں جب کہ بھوک، بیماری، بے گھری اور سردی انسانوں کو بلاوقفہ نگل رہی ہے؟ مگر مغربی میڈیا آج تک غزہ کی رپورٹنگ کرتے ہوئے " اسرائیلی تردید یا غیر مصدقہ ذرائع یا حماس کی وزارتِ صحت کا دعوی " جیسے سابقے لاحقے خبر میں شامل کرنا نہیں بھولتا۔

اور پھر اسی انتہائی احتیاط پسند میڈیا کی حالیہ ایرانی ہنگاموں کی کوریج کا انداز غزہ کے برعکس ایک سو اسی ڈگری پر گھوم گیا۔

مغربی میڈیا نے ناروے سے متحرک ایرانین ہیومین رائٹس کونسل اور امریکا میں قائم ہیومین رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی (ہرانا) کی جانب سے ہلاکتوں کے ہر دعوی کو بنا اگر مگر فوراً تسلیم کرکے شہہ سرخیوں میں بدل دیا۔ حالانکہ میڈیا کو بخوبی معلوم ہے کہ ہنگاموں کے دوران ہرانا نامی اس ادارے کی ایران کے اندر کسی طرح کی زمینی پہنچ نہیں تھی۔ بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ ایران میں کسی بھی ذمے دار بین الاقوامی میڈیائی ادارے کو اٹھائیس دسمبر تا پندرہ جنوری رپورٹنگ کی کھلی چھوٹ میسر نہیں تھی۔ انٹرنیٹ کا بھی مکمل بلیک آؤٹ تھا۔ پھر بھی مغربی میڈیا ایران کے اندرونی و بیرونی " ذرائع " کا حوالہ دے کر دھڑلے سے بارہ ہزار سے پچیس ہزار کے درمیان ہلاکتوں کے دعوے الہامی جوش و خروش کے ساتھ شائع اور نشر کرتا رہا۔

ایک ہی طرح کے میڈیا میں دو الگ الگ خطوں کے بارے میں رپورٹنگ کے متضاد معیارات برتنے کا مطلب یہ ہے کہ جن واقعات کی رپورٹنگ کوئی مخصوص بیانیہ آگے بڑھانے میں سودمند ہے اس کے لیے خبر کی صحت پرکھنے والی کم ازکم کسوٹی سے مکمل دستبرداری بھی جائز ہے اور جس المیے سے مخصوص بیانیے کو زک پہنچے اس المئے کی اطلاعاتی ترسیل کو تصدیق کی باریک ترین چھلنی سے گذارنے کے بعد بھی سوالیہ نشان کے ساتھ پیش کیا جائے۔

جمہوری اقدار، انسانی حقوق کے تحفظ اور دھشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک ادارتی پالیسی مسلح کارروائی کا آسان جواز فراہم کرتی ہے اور ایک اور طرح کی پالیسی ریاستی نسل کشی کی عریانی کو قانونی و اخلاقی جواز کی چادر دیتی ہے۔

اس پیمانے پر تولا جائے تو فلسطین بالخصوص غزہ کے ہلاک شدگان کے ناموں پر مشتمل ڈیڑھ ہزار سے زائد صفحات کے مصدقہ ریکارڈ کے بارے میں حقیقی رپورٹنگ مغربی پالیسیوں کے لیے باعثِ خفت ہے۔ لہذا یہ جائز مستحق کوریج سے بھی محروم ہے۔

موازنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران میں ریاستی تشدد نہیں ہو رہا یا لوگ بڑی تعداد میں نہیں مرے یا حکومتی پالیسیوں کے مخالفوں کا کاز جھوٹا ہے۔ اب تو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی کہہ رہے ہیں کہ ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تاہم امتیازی نیوز کوریج میڈیائی گراوٹ کا ہی نہیں بلکہ آفاقی و پیشہ ورانہ اخلاقیات کا بھی بحران ہے۔ یہ دور ثبوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی افادیت کے ترازو میں لاشیں تولنے اور گننے کا زمانہ ہے۔

About Wusat Ullah Khan

Wusat Ullah Khan is associated with the BBC Urdu. His columns are published on BBC Urdu, Daily Express and Daily Dunya. He is regarded amongst senior Journalists.

Check Also

Musadaq Se Maduro Tak

By Sanober Nazir