Friday, 06 February 2026
  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. Kashmir Hamara Hai, Saare Ka Saara Hai

Kashmir Hamara Hai, Saare Ka Saara Hai

کشمیر ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے

کشمیر کا ایشو شائد پاکستان کا واحد ایشو ہے جس پر پوری قوم متحد ہے اور کشمیر پر اپنا حق جتاتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت دوسری سے بڑھ کے کشمیر اور کشمیریوں سے یکجہتی کا مظاہرہ کرتی ہے ورنہ ہمارے پاس اپنے دفاع سے معیشت تک بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے اتنے ہو چکے کہ ہم ایک قوم لگتے ہی نہیں۔ ہم نے آزادی کو مادر پدر آزادی کے طور پر لے رکھا ہے۔ ہم شائد دنیا کی واحد قوم ہیں جس کے پاس حملہ آور بھارت اور دہشت گردافغانستان کی ترجمانی کرنے والے بھی موجود ہیں۔

ہمارے سوشل میڈیا پر ایسے یوٹیوبرز موجود ہیں جو اپنی شاہ دولہ کے چوہوں جیسے سروں میں نصب مونہوں سے بتاتے ہیں کہ نریندر مودی نے پاکستان پر حملے کے لئے بہترین وقت چنا کیونکہ ان کی نظر میں پاکستان کی قوم پاکستان کی فوج کے ساتھ نہیں کھڑی، ایک اور نمونہ قسم کی ٹویپ، ٹوئیٹ کرکے بتاتی ہے کہ بھارت کا پاکستان پر پلٹ کر زوردار وار۔ یہ وہ نادر نمونے ہیں جو فیض حمید اور اس کے ہم نوائوں نے تیار کئے، اول الذکرکے بارے تو سابق آرمی چیف نے کہا کہ وہ صبح شیو کرتے ہوئے اس کی الم غلم گفتگو سنتے تھے اور پھر نتیجہ وہی نکلا جو ایسے ذہنی مریضوں کی باتیں سننے کے بعد نکلتا ہے۔

ہوا یوں کہ اس ٹولے کے سربراہ نے دعا کی کہ نریندر مودی انتخابا ت جیت جائے۔ یہ شائد اس کی واحد دعا ہوگی (یاپاکستان کے لئے حسب روایت بددعا) جو قبول ہوگئی۔ یہ وہی نریندر مودی ہے جس نے پانچ اگست دو ہزار انیس کو بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات سب کو نظرانداز کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا آئینی حصہ بنانے کا اعلان کر دیا اوراس موقعے پر یہ ٹولہ ایک دو جمعے، اگست کی دھوپ میں، ایک ٹانگ پر آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے کے سوا کچھ نہ کرسکا۔

یوم کشمیر مناتے ہوئے مجھے کہنا ہے کہ میں نے اپنی صحافت کے تیس سے زائد اور مسئلہ کشمیر کے ساٹھ ستر برسوں میں ایک ہی موقع دیکھا جب ہم اسے گفت و شنید سے حل کرسکتے تھے اور وہ موقع تھا جب بھارت کے شاعر اور دانشور وزیراعظم اٹل بہاری باجپائی نے بس پر بیٹھ کے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ یہ اس وقت کی اتنی بڑی سیاسی اور سفارتی فتح تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی انتہا پسند جماعت کا لیڈر مینار پاکستان پر چلا گیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ پاکستان اس کی مہر کے ساتھ نہیں چلتا۔

میں ان دنوں روزنامہ دن، کا چیف رپورٹر ہوا کرتا تھا۔ اس دور میں صحافیوں کی اتنی بھیڑ بھاڑ نہیں ہوا کرتی تھی۔ جب اٹل بہاری باجپائی مینار پاکستان پر تاثرات میں لکھ رہے تھے کہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان ہی بھارت کے مفاد میں ہے تو میں ان کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ کے ساتھ کھڑا گپ شپ کر رہا تھا جنہوں نے بس ڈپلومیسی میں اہم کردارادا کیا تھا۔ مجھے کہنے میں عار نہیں کہ اگر اس موقعے پر پرویز مشرف کارگل والی احمقانہ مہم جوئی نہ کرتے تو ہم کسی فارمولے پر متفق ہوسکتے تھے کیونکہ گورنر ہاوس لاہور میں اسی شام اٹل بہاری باجپائی نے اعلان لاہور، پر دستخط کر دئیے تھے جس میں باہمی تنازعات کو گفت وشنید سے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔

افسوس، وزیراعظم اور کابینہ کو لاعلم رکھ کر کی گئی مہم جوئی نے جنوبی ایشیا کی تاریخ کی اہم ترین ڈویلپمنٹ کو ضائع کر دیا۔ اس موقعے پر اگرجماعت اسلامی نے جو کردارادا کیا وہ بھی انتہائی منفی تھا اور پھر ان کے ساتھ بھی بہت برا ہوا۔ پرویزمشرف کے دور میں چناب فارمولہ بھی آیا مگر وہ کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں تھی کیونکہ ہم ایک بڑا موقع ضائع کر چکے تھے۔ اس کے بعد بھی پاک بھارت تعلقات بہتر ہوئے مگر مسئلہ کشمیر پر ڈیڈلاک ہی رہا۔

دس مئی کے تجربے نے بتا دیا ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہیں۔ مسائل مذاکرات سے ہی حل ہوا کرتے ہیں مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ بھارت کے ایک ارب سے زائد عوا م کو نفرت اور انتہا پسندی کا ٹیکا لگا دیا گیا ہے۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ جس بھارت میں اب تک ایک تہائی کے پاس لیٹرین نہیں، جس کے کسان ہر روز خود کشیاں کر رہے ہیں (بی بی سی رپورٹس ہی گوگل کر لیجئے) اس کے عوام اب بھی تعمیر اور ترقی، امن و خوشحالی کی بجائے نفرت اور جنگ پر ووٹ دیتے ہیں۔ بھارت تعلیم اور آئی ٹی سیکٹر میں بہت آگے ہونے کے دعوے کرتا ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ تعلیم بھارتیوں کا کچھ نہیں سنوار سکی۔ وہ شعور سے اتنے ہی دور ہیں جتنا کوئی متعصب شخص ہوسکتا ہے۔

میں نے پہلگام فالس فلیگ کے بعد بہار کے انتخابات کا نتیجہ دیکھا تو سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ بھارت میں اب بھی نریندر مودی جیسی بدبودار سرکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی انتہا پسند قیادت پاکستان سے نفرت اور جنگ کا بیانیہ بیچ سکتی ہے اور دو تہائی سے بھی زائد اکثریت کے ساتھ جیت سکتی ہے۔ یہ بھارت کی انتہاپسند اور نفرت بھری جمہوریت کا کالا چہرہ ہے اور ایسے عوام کی موجودگی میں ریاستیں تباہ ہی ہوتی ہیں۔ اگر آپ اس وقت خطے کا جائزہ لیں تو بھارت کے ساتھ صرف افغانستان ہے اور دلچسپ تو یہ ہے کہ اس کے ساتھ اس کی کوئی سرحد بھی نہیں ملتی۔

پاکستان، چین اور بنگلہ دیش جیسے اہم ترین ہمسائیوں کے ساتھ بھارت کی جنگ ہے۔ سری لنکا کے ساتھ دہشت گردی کے ایشو پر عشروں تک تنازعات رہے ہیں۔ نیپال میں ہندووں کی بھاری اور واضح اکثریت ہے مگراس کے باوجود نیپال، انڈیاکی بجائے چین کے کیمپ میں جا چکا ہے۔ میانمار پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کر رہا ہے اوراس کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا حالیہ دورہ ایک بریک تھرو ہے۔ مالدیپ میں باقاعدہ طور پر ہندوستانیو نکل جائو تحریک چلی اور اس تحریک کو چلانے والوں نے پچھلے انتخابات بھی جیت لئے۔

مجھے کہنے میں عار نہیں کہ کوئی پاکستانی بھی کشمیر کا بھارت سے الحاق نہیں چاہتا۔ سب کا متحد اور متفق ہو کے کہنا ہے کہ کشمیر ہمارا ہے اور سارے کا سارا ہے۔ یہ سید علی گیلانی کے نعرے اور جذبے کا جواب ہے جس میں انہوں نے واضح اور دوٹوک انداز میں فرمایا، ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔ پاکستانیوں نے اسی محبت کے جواب میں آزاد کشمیر میں بجلی سے آٹا تک اس ریٹ پر دے رکھا ہے، بجلی کے جس یونٹ اور آٹے کے جس کلو کے ریٹ پر خود انہیں گھر میں وارا نہیں کھاتا کیونکہ یہ جغرافیے کے لئے نہیں بلکہ کشمیریوں کے لئے قربانی ہے۔ جغرافیہ تو ہمارے پاس بہت ہے اور آبادی بھی مگر ہمیں کشمیر چاہئے کیونکہ ان کے ساتھ ہمارے دل دھڑکتے ہیں۔ پاکستان جس طرح عالمی برادری میں اہم ہوتا چلا جا رہا ہے مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دس مئی جیسا ہی کوئی اور معجزہ رونما ہونے والا ہے۔

(یہ گفتگو پریس انفارمیشن ڈپیارٹمنٹ لاہورکے زیر اہتمام راونڈ ٹیبل ڈسکشن میں کی گئی)۔

Check Also

Moscow Se Makka (23)

By Mojahid Mirza