کالم نگاروں کے ساتھ

اخبارات کو ڈائنگ انڈسٹری، یعنی مرتی ہوئی صنعت کہا جا رہا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ ہمارے کالم نگاروں کی ایک عشرے سے زائد مدت سے قائم تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹس، کے نام میں اینڈ کرئیٹرز، کا اضافہ کر دیا گیا ہے یعنی کالم نگار کے کالم نگار اور یوٹیوبر کے یوٹیوبر مگر تنظیم ایک ہی۔ ویسے ایک وقت آیا تھا کہ بہت سارے کالم نگاروں نے اپنے کالم ریکارڈ کروانے شروع کر دئیے تھے اور انہیں بولتے کالم، کا نام دیا گیا تھا۔
یوں اگر بہت سارے ویلاگز کو دیکھا جائے تو وہ بولتے کالم ہی ہوتے ہیں یعنی کالم اپنی شکل بدل رہا ہے، اب کالم نگار خود اپنے کالم کوسناتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کالم پڑھنے یعنی سننے والا کالم نگار کی شکل سے بھی واقف ہوجاتا ہے ورنہ اس سے پہلے تو کالم نگار اپنی جوانی کی جو تصویر کالم پر لگاتے تھے وہ ستر بہتر برس کی عمر تک چلتی تھی سو کالم نگاروں کوان کی تصویر سے پہچاننا اتنا ہی مشکل ہوتا تھا جتنا بیوٹی پارلر سے نکلنے والی کسی خاتون کو۔
دروغ بہ گردن راوی، کسی بیوٹی پارلر والے نے اپنے دروازے پر لکھ کر لگا رکھا تھا کہ یہاں سے نکلنے والے کسی جوان، حسین لڑکی کو چھیڑنے کی غلطی مت کریں، ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کی ساس ہو(اور آپ کا رشتہ عین مہندی والے دن ٹوٹ جائے)۔ ویسے میری اپنی تصویر بھی کوئی دس بارہ برس پرانی تو ضرور ہوگی مگر میرا معاملہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگ مجھے سکرین پر دیکھ لیتے ہیں، سو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ویسے میں برادرم سلمان غنی کی رائے سن کر ہمیشہ خوش ہوجاتا ہوں جن کے ساتھ میں نوے کی دہائی میں رپورٹنگ کیا کرتا تھا۔ ان کی گاڑی ہوا کرتی تھی اور ہماری ڈیوٹی اور سیریں ایک ساتھ۔ سلمان بھائی کی رائے ہے کہ میں پہلے جیسا ہی ہوں اور میں ان جیسے سینئر اور معتبر تجزیہ کار کی رائے سے کیسے اختلاف کرسکتا ہوں؟
بات ہو رہی تھی اس تقریب کی جس میں پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹس اینڈ کریئٹرز کی ملک بھر کی نئی باڈی کی حلف برداری ہوئی اور کمال تو یہ ہوا کہ اسے مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن کے ہال میں رکھا گیا اور اس پر بھی کمال یہ ہوا کہ بھائیوں کی طرح محترم وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے اس میں شرکت کی حامی بھر لی اس سے اندازہ ہوا کہ ابھی دنیا کالم نگاروں کو اہمیت دیتی ہے بلکہ یہ اندازہ اس وقت اور زیادہ بڑھ گیا جب انہوں نے لاہور میں بننے والا اپناایک سرکاری دفتر کو پی ایف یو سی، کو دینے کا اعلان کیا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت کوئی اخبار یا نشریاتی ادارہ گھاٹے میں نہیں ہے کیونکہ حکومت ان کی بقا اورتسلسل کے لئے باقاعدگی سے اشتہارات جاری کر رہی اور ان کی پیمنٹس کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔ ان کا یہ اعلان اس حوالے سے بہت اہم تھا کہ ایک معتبر انگریزی ادارہ اپنے ملازمین کومسلسل اس بنیاد پر ملازمتوں سے نکال رہا ہے کہ حکومت نے اس کے مبینہ طور پر اشتہارات بند کر رکھے ہیں۔
مجھے خاص طور پر اس ادارے کی اردو ویب سائیٹ بند ہونے کا بہت زیادہ افسوس ہے، کیونکہ ایک عشرے سے زیادہ ہوگیا، میں اسی اردو ویب سائیٹ سے جامع اور معتبر خبری تفصیلات کے لئے رجوع کرتا ہوں۔ مجھے کسی نے بتایا کہ یہ ویب سائیٹ ہرگز خسارے میں نہیں تھی۔ اس کا خرچہ چھ لاکھ روپے ماہانہ کے لگ بھگ تھا جبکہ اس سے کمائی اس سے زیادہ ہی ہو رہی تھی۔ میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ کسی پارٹی کو یہ ویب سائیٹ ٹھیکے پر لے لینی چاہیے تھی تاکہ وہ چلتی رہتی مگر بتایا گیا کہ وہ ادارہ اپنا نام اور پلیٹ فارم نہیں دے گا۔
مجھے پتا چلا کہ حکومت بہت سارے پروگرام اور ادارے بچانے کے لئے آوٹ آف دی وے بھی جا رہی ہے جیسے کہ پاکستان آئیڈل۔ یہ عام لوگوں سے گلوکاری کا ٹیلنٹ منظر عام پر لانے کے لئے بہت ہی موثر پلیٹ فارم ہے۔ جب حکومت کو پتا چلا کہ یہ پروگرام پاکستان میں بند ہو رہا ہے تو وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سے بھی رابطہ کیا گیا کہ اس کو سپورٹ کریں اور اس پر یہ پروگرام چلایا گیا۔
مجھے وفاقی وزیر اطلاعات کے اس اعلان کو سن کر خوشی ہوئی کہ میڈیا کے اداروں کو پیمنٹس باقاعدگی سے ہور ہی ہیں اور ان کا یہ بیان بھی زبردست لگا کہ اب کسی ادارے کو تنخواہیں روکنے یا ملازمین کو نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو وجوہات اس کی اپنی ہوں گی۔ برادر عطا اللہ تارڑ نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لئے قانون سازی، ریگولیٹری اداروں کی ضرورت پر بھی زور دیا جس پر بہت تالیاں بجیں۔ ا نہوں نے کہا کہ جب ایک عام صحافی بھی ٹیکس دیتا ہے تو پھر وہ یوٹیوبر کیوں نہیں دیتے جو لاکھوں ڈالر ماہانہ کماتے ہیں؟
بات ہو رہی ہے کالم نگاروں کی اوراخبارات کی مرتی ہوئی صنعت کی۔ اس پر میرا موقف بہت واضح ہے کہ اس وقت سب سے سنجیدہ اور معتبر صحافت پرنٹ میڈیا ہی کر رہا ہے۔ یہ واحد شعبہ ہے جس میں ایڈیٹر کا ادارہ اور خبر کے چیک اینڈ بیلنس کا اہم صحافتی تقاضہ زندہ ہے ورنہ باقی سب تو شتر بے مہار ہو چکا۔ میں نے دوستوں سے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر یورپ اور امریکہ میں اخبارات موجود ہیں جہاں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل جرنلزم اپنی انتہا پر پہنچ چکے تو پاکستان میں بھی اخبارات موجود رہیں گے مگر ہمیں ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے کہ یہ عین ممکن ہے ان کے پرنٹ ایڈیشن بہت زیادہ نہ رہیں اور اخبارات بھی ڈیجیٹل ہوجائیں، ای پیپر کے ساتھ ساتھ کسی ویب سائیٹ کی صورت۔
یہ عین ممکن ہے کہ پانچ سے دس سال بعد اخبارات صرف فون اور ٹیب پر ہی ملیں لیکن وہ ضرور ملیں گے کیونکہ پرنٹ ایڈیشن ختم ہوسکتا مگر خبر اور سچ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ موجود رہیں گے چاہے اپنے شکل کچھ بدل لیں۔ جیسے میں نے کہا کہ اب ویلاگز کی صورت میں ہر کوئی بولتے کالم کر رہا ہے۔ وہی بات جو آپ لکھ کے پڑھانا چاہتے تھے وہی بات آپ بول کر سنا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے دوست، پی ایف یو سی کے چیئرمین فرخ شہباز وڑائچ کی قیادت میں نام میں کریئٹرزکا اضافہ ہوگیا ہے اور یوں بھی تنظیم کے صدر فرید رزاقی ہوں یاسیکرٹری اطلاعات سعدیہ خالد، یہ سب کے سب ڈیجیٹل میڈیا کے بڑے ایکٹیویسٹس میں سے ہیں۔
جب میں پی ایف یو سی، کے پلیٹ فارم پر اپنے دوستوں ساجد خان اور نورالہدیٰ وغیرہ کو دیکھتا ہوں تو خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے محب وطن اور ترقی پسند دوست یہاں متحرک ہیں۔ میں شروع سے قائل ہوں کہ ہمارا سیاسی موقف الگ الگ ہوسکتا ہے مگر اسلام، پاکستان اور جمہوریت پر ہم سب متفق ہیں اور اس پر بھی کہ جس طرح پاک فوج وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے ہم اس کی نظریاتی سرحدوں کے سپاہی ہیں۔

