Wednesday, 04 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Ahmad Qazi
  4. Mazameen e Quran, Beesvi Nimaz e Taraweeh

Mazameen e Quran, Beesvi Nimaz e Taraweeh

مضامین قرآن، بیسویں نمازِ تراویح

آج کی نمازِ تراویح کا آغاز بائیسویں پارے سے ہوتا ہے جس کے کل 18 رکوع ہیں جس میں سورہ الاحزاب کے 6 رکوع، سورہ سبا کے 6، سورہ الفاطر کے 5 اور سورہ یٰسین کا ایک رکوع شامل ہے۔ پارے کے ابتدائی حصے میں نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہراتؓ کو خطاب کیا گیا اور ان کو بتایا گیا کہ آپ دوسری عورتوں جیسی نہیں ہیں اور آپ سب کو اچھے عمل پر دگنا ثواب دیا جائے گا۔ ازواجِ مطہراتؓ کا اعلیٰ مقام، گفتگو کرنے کا طریقہ، پردہ، نماز، زکوۃ اور رسولِ اللہﷺ کا حکم ماننے کے احکام بتاکر تقویٰ و پرہیزگاری کی ترغیب دی گئی۔

مسلمان مردوں اور عورتوں کے دس اچھے اوصاف بیان کئے گئے جن پر بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ یہ بات واضح طور پر بتائی گئی کہ کسی مسلمان مرد اور عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں تو وہ حکم نہ مانیں، بیشک یہ صریح گمراہی ہے۔ انبیاءؑ کے صفات اور ان سے ڈرتے رہنے، انبیاء کے نکاح کےمتعلق سنتِ الہی، حقوقِ زوجیت سے متعلق نبی اکرم کے لیے خصوصی رعایت، ازواجِ مطہرات سے نکاح حرام اور نبی اکرم کی رسالت و ختمِ نبوت کو بیان کیا۔ امتِ مسلمہ کو بکثرت صبح و شام ذلرِ الہی کرنے اور پھر امتِ مصطفوی ﷺ کی فضیلت و مقامِ شرف کو بیان کیا گیا۔ کفار و منافقین کو اپنی روش سے باز آنے، مسلمانوں کو ناحق ایذاء دینے، ان پر عذابِ الہی اور پھر کفار کی حسرت کے مضامین بتا کر کفار کے پیروکاروں کو ان اعمال سے بچنے کا درس شامل ہے۔

سورہ سبا میں اللہ تعالیٰ کی تعریفیں، علم الہی، رحمتِ الہی اور مغفرتِ الہی کا بیان ہوا۔ حضرت داؤدؑ اور حضر ت سلیمانؑ کا ذکر اور ان کے فضائل بیان کیے گئے۔ قومِ سبا پر انعامات، جنات پر کشف و حقیقت، قومِ سبا کی ناشکری و تکبر اور قومِ سبا پر شیطان کا اپنا گمان سچ کر دیکھانا تفصیل سے بیان ہوا۔ شفاعت کا بیان، کفار کی شفاعت سے محرومی، نیک مومنین کے لیے اعزاز و اکرام، حق و باطل کا حال بیان کرکے یہ بتا دیا کہ بوقتِ عذاب کفار کی توبہ کارگرنہ ہوگی۔

سورۃ الفاطر میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی خالق ہے اور انسان کو اس کے دشمن شیطان کے متعلق آگاہ کیا، برے اور مکر کرنے والوں کو وعیدیں سنائیں۔ نظامِ کائنات کی جلوہ گریوں سے قدرت الہیہ کی نشانیاں بیان کرکے بتایا کہ ان سب کا خالق اللہ تعالیٰ وحدہُ لاشریک ہی ہے۔ ان لوگوں کا بیان ہوا جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے پوشیدہ اور اعلانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان سب پر اللہ کا فضل ہوگا اور ان کو بھرپور ثواب عطا کیا جائے گا۔ کفارِ قریش کو گزشتہ اقوام کے احوال بیان کئے گئے تاکہ وہ عبرت حاصل کریں، کفارِ قریش کے ایمان نہ لانے کا سبب بیان ہوا اور ان کو تنبیہ کی گئیں اور گناہوں پر گرفت سے متعلق دستور الہی بیان ہوا کہ اللہ اگر ان کے اعمال کے سبب ان کو پکڑتا تو زمین پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقرر میعاد تک انہیں ڈھیل دیتا ہے اور جب وہ دن آئے گا تو بیشک اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

سورہ یٰسین کے ابتدائی رکوع میں نبی اکرم کی رسالت اور صراطِ مستقیم کا بیان ہوا کہ آپ بیشک سیدھی راہ پر ہو مگر اکثر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے۔ نصیحت قبول کرنے والوں کے اوصاف بیان ہوئے اور ان کو بشارتیں دیں گئیں۔ کفارِ قریش کی ایک بستی کا واقعہ بیان ہوا جس میں اہلِ شہر کا رسولوں پر اعتراض، ان کو دھمکی، رسولوں کا جواب اور ایک مردِ مومن کی آمد اور قوم کونصیحت کے مضامین شامل کئے گئے ہیں۔

تیئسویں پارے کے کل 17 رکوع ہیں جس میں سورۃ یٰسین کے 4، سورۃ الصٰفٰت کے 5، سورۃ ﷺ کے 5 اور سورہ الزمر کے 3 رکوع شامل ہیں۔ مردِ مومن جو اپنی قوم کی طرف آیا اس کے کلام کو شامل کیا جس میں وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں قوم کو سمجھا رہا ہے کہ کیا میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گئے۔ دلائل قدرت کا بیان آیا کہ کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ کیسے ہم نے بنجر زمین کو سرسبز کیا (یعنی مردہ کو دوبارہ زندہ کیا) اور ساری امتیں ایک مقررہ دن کو بارگاہِ الہی میں پیش ہوں گی۔ اس کے بعد قدرت کی مزید نشانیاں رات، دن، سورج، چاند، سمندر، بحری جہاز و کشتیوں کا چلنا اور پھر سمندر سے بچنے کے دو اسباب بیان ہوئے۔ قیامت کے احوال، مرنے کے بعد زندہ کرنے، مجرموں اور اہلِ جنت کے بارے بتایا گیا کہ ان کو ربِ رحیم کی طرف سے سلامیاں دی جائیں گیں، جہنم میں داخل ہونے پر مجرموں سے کلام اور اعضاء کی گواہی کو بیان کیا۔

سورہ الصٰفٰت میں اللہ کی نورانی مخلوق فرشتوں بارے مضامین بیان ہوئے کہ دربارِ الہیہ میں قطار در قطار صف بندی کا اہتمام کرتے ہیں اور قرآن کریم کو عرش معلیٰ پر لوح محفوظ سے فرشتوں کسے واسطے سے منتقل کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی حفاظت کے لیے بروج (حفاظتی چوکیاں) قائم کیں اور فرشتوں کو ان پر معمور کیا تاکہ شیاطین سے حفاظت کی جاسکے۔ شہاب ثاقب ان شیاطین کا پیچھے کرتے ہیں جو چھپ کر باتیں سنتے ہیں۔ دو دوستوں کے عبرت ناک واقعات بیان ہوئے تاکہ لوگ ان سے نصحیت پکڑیں ایک جنتی آدمی اللہ سے اپنے دوست متعلق پوچھے گا کہ وہ مجھے نظر نہیں آ رہا تو جب وہ نیچے جھانک کر دیکھے گا تو اسے جہنم کے عذاب میں مبتلا پائے گا کیونکہ وہ جنتی دوست کو گمراہ کرنے پر کمر بستہ رہتا تھا۔

درختِ زقوم کا تعارف اور اسے کافروں کے لیے آزمائش قرار دے کر کفار کا جہنم میں کھانے اور پینے کے متعلق کلام کیا گیا۔ حضرت نوحؑ کی عظمت، ان پر انعماتِ الہی اور قومِ نوح کے انجام کا قصہ بیان ہوا۔ حضرت ابراہیمؑ کی اپنے چچا اور قوم کو تبلیغ، بت شکنی، قوم کی نافرمانی اور آپ کو آگ میں ڈالنے کا واقعہ بیان کرکے قدرت الہی کی طاقت کو بیان کیا کہ کس طرح آگ سے آپ کو بچایا۔ حضرت ابراہیم کی نیک اولاد کے لیے دعا اور اسکی قبولیت، انعامات، حضرت اسماعیلؑ کے ذبح کا واقعہ، حضرت اسحاقؑ کی بشارت اور ان کے فضائل، نزولِ رحمت اور دوگروہ، حضرت موسیٰؑ و ہارونؑ، حضرت الیاسؑ، حضرت یونسؑ اور قومِ لوط کے عبرت ناک واقعات کو کھول کر بیان کیا تاکہ یہ لوگ اور آئندہ آنے والے ان سے نصیحت لیں۔ سورہ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ ہی کے لیے پاکی ہے اور سلامتی ہے اس کے سب رسولوں کے لیے۔

سورہ ص کا آغاز اس بات سے ہوا کہ کلام ربی کتابِ نصیحت ہے جس میں منکرین توحید، انبیاءؑ، انکی قوموں کی ہلاکت کے مضامین آئے ہیں۔ حضرت داؤدؑ کو بیٹے عطا کرنے، بارگاہِ حضرت سلیمان میں گھوڑوں کے اوصاف کا بیان، حضرت سلیمانؑ کے لیے ہوا اور جنوں کی تسخیر، حضرت سلیمانؑ کے اختیارات، حضرت ایوبؑ پر فضلِ ربی اور دیگر انبیاءؑ کا تذکرہ شامل ہوا۔ جنت و جہنم کا بیان کرے کے جنتی و دوزخی کے آپس میں کلام کرنے اور ان کو ان کے اعمال پر جزا و سزا کو مفصل بیان کیا گیا۔ تخلیقِ آدمؑ اور ابلیس کا واقعہ بیان کرکے بتایا کہ کیسے ابلیس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کا عزم کیامگر بارگاہ الہی سے ابلیس کو جواب ملا کہ رحمٰن کا بندہ کبھی بھی تیری راہ پر نہیں چلے گا۔

سورہ الزمر میں جنتی اوردوزخی گروہوں کے بارے میں مضامین شامل کئے گئے اور مرکزی مضمون توحیدِ باری تعالیٰ سے متعلق ہے۔ حضرت آدمؑ کی تخلیق، انہی سے عورت (حوا) کا پیدا کرنا، آٹھ نر اور مادہ چوپائے، شکمِ مادر کے تین اندھیرے (پیٹ، رحم جھلی)، انسان کی بدلتی کیفیات اورپھر تکلیف میں انسان کی حالت اور پکار کو بیان کیا۔ مشرک و مومن کا فرق کرکے ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے خوشخبریاں جبکہ نافرمانوں کے لیے عذاب بیان ہوئے۔ پارے کے آخر میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی حکمت اور حساب و کتاب کو بیان کیا گیا کہ (اے حبیبﷺ) بیشک آپ کو وصال (اس ظاہری دنیا سے پردہ) فرماناہے اور ان کو بھی مرنا ہے پھر (اے لوگو) تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑوگے۔

Check Also

Saanson Par Mandlata Khatra

By Noorul Ain Muhammad