Wednesday, 04 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Hackers Kon? Berooni Hath Ya Androoni Hum Nawa?

Hackers Kon? Berooni Hath Ya Androoni Hum Nawa?

ہیکرز کون؟ بیرونی ہاتھ یا اندرونی ہم نوا؟

رات کے اندھیرے میں جب جیو نیوز کی اسکرین پر ایک اشتعال انگیز پیغام نمودار ہوا تو لمحہ بھر کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے ہمارے قومی اعصاب پر حملہ کر دیا ہو۔ دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی ایجنسی موساد نے سیٹلائٹ نشریات ہیک کرکے پیغام نشر کیا۔ پیغام کیا تھا؟

"تمہاری فوج کے مخصوص حلقے نے پورے پاکستان کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کے خلاف کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے سامنے کھڑے ہو جاؤ"۔

سیکورٹی اداروں کے لئے اس پیغام کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔۔ بیرون ملک و اندرون ملک سے اپنے چند کھوٹے سکے بھی اسی طرح کے نفرت زدہ پیغام اکثرسوشل میڈیا پر لگا رہے ہیں۔۔

یہ الفاظ محض جملے نہیں تھے، یہ ایک نفسیاتی جنگ کا وار تھا۔ ایک ایسا وار جو بندوق سے نہیں، ذہنوں میں دراڑ ڈال کر کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ بیرونی ہیکنگ تھی تو اس کا مقصد کیا تھا؟ اور اگر نہیں تھی تو پھر کون اس آگ کو ہوا دینا چاہتا ہے؟

جیو نیوز نے فوری وضاحت جاری کی کہ نشریات ہیک ہوئی ہیں اور اس پیغام سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں۔ متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے تحقیقات اور کارروائی کی اپیل بھی کی گئی۔ یہ ایک ذمہ دارانہ ردِعمل تھا۔ لیکن اصل مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جدید جنگیں ٹینکوں اور میزائلوں سے کم، میڈیا، سوشل میڈیا اور نفسیاتی حربوں سے زیادہ لڑی جاتی ہیں۔ دشمن کو معلوم ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنا ہو تو اس کی فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیوار میں شگاف ڈال دو۔ باقی کام خود بخود ہو جائے گا۔

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم اور فوج ایک صف میں کھڑی ہوئی، دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔ چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز ہوں یا سرحدوں پر جاری کشمکش، ہمارے جوانوں نے لہو دے کر وطن کی حفاظت کی ہے۔ لیکن آج کا دشمن زیادہ مکار ہے۔ وہ یونیفارم میں نہیں آتا، وہ اسکرین پر آتا ہے۔ وہ بم نہیں پھینکتا، وہ بیانیہ پھینکتا ہے۔

اس پیغام کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس کی زبان وہی ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے مخصوص حلقوں کی جانب سے دہرائی جا رہی ہے۔ فوج کے خلاف عوام کو کھڑا کرنے کی کوشش، قیادت پر سوالات اور اداروں کو متنازع بنانے کا رجحان، یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔

یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا ہوگا: تنقید ہر شہری کا حق ہے۔ آئین ہمیں رائے کی آزادی دیتا ہے۔ لیکن تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہے۔ اصلاح اور بغاوت میں فرق ہوتا ہے۔ اختلاف اور دشمنی میں فرق ہوتا ہے۔

اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ملک کے کسی ادارے میں خامی ہے تو اس کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری راستے موجود ہیں۔ مگر بیرونی ایجنسیوں کے بیانیے سے ہم آہنگ زبان استعمال کرنا، دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دینا، یہ محض اختلاف نہیں، یہ غیر ذمہ داری ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ معاشی دباؤ، سیاسی کشیدگی، سرحدی خطرات، ایسے میں اگر ہم خود اپنے ستون ہلانے لگ جائیں تو نقصان کس کا ہوگا؟ کسی فرد کا نہیں، پورے ملک کا۔

افواجِ پاکستان کوئی آسمانی مخلوق نہیں، یہ اسی مٹی کے بیٹے ہیں۔ انہی گھروں کے جوان ہیں جن کے دروازوں پر سبز ہلالی پرچم لپٹا آتا ہے۔ ان کے بھی خاندان ہیں، خواب ہیں، زندگیاں ہیں، مگر وہ سب کچھ وطن پر قربان کر دیتے ہیں۔ کیا چند سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ہم ان قربانیوں کو فراموش کر دیں؟

ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کا اصل ہدف نوجوان نسل ہے۔ سوشل میڈیا پر جذبات بھڑکانا، آدھی سچائیوں کو مکمل جھوٹ میں بدلنا اور ہر مسئلے کی جڑ ایک ادارے کو قرار دینا، یہ سب ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

قومی اداروں پر سوال اٹھانا جرم نہیں، مگر انہیں گرانے کی مہم چلانا جرم کے مترادف ضرور ہے، کم از کم اخلاقی جرم۔ اگر واقعی کوئی ہیکنگ ہوئی ہے تو یہ ہماری سائبر سیکیورٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں اپنی نشریاتی اور ڈیجیٹل دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ کیونکہ آنے والے وقت میں جنگیں زیادہ تر اسی محاذ پر لڑی جائیں گی۔

لیکن اس سے بھی زیادہ اہم کام عوامی شعور کی مضبوطی ہے۔ اگر قوم باشعور ہو تو کوئی ہیک شدہ اسکرین اسے گمراہ نہیں کر سکتی۔ اگر قوم متحد ہو تو کوئی بیرونی ایجنسی اسے تقسیم نہیں کر سکتی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیاسی اختلافات کو قومی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، جماعتیں بنتی بگڑتی رہتی ہیں، مگر ریاست اور اس کے بنیادی ادارے قائم رہتے ہیں۔

حب الوطنی کا مطلب آنکھیں بند کر لینا نہیں، بلکہ آنکھیں کھول کر دشمن کو پہچاننا ہے۔ حب الوطنی کا مطلب اندھی حمایت نہیں، بلکہ ذمہ دارانہ تنقید ہے۔ حب الوطنی کا مطلب نفرت نہیں، بلکہ اتحاد ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا کے اشتعال انگیز نعروں کے پیچھے چلیں گے یا قومی مفاد کے پرچم تلے کھڑے ہوں گے۔

پاکستان کسی ایک جماعت، ایک رہنما یا ایک ادارے کا نام نہیں۔ پاکستان 26 کروڑ عوام کا نام ہے۔ پاکستان شہداء کے لہو کا نام ہے۔ پاکستان اس ماں کی آنکھوں کے آنسو کا نام ہے جس نے بیٹا وطن پر قربان کیا۔

ہیکرز نے جو پیغام جیو نیوز پر نشر کیا، وہ اسرائیلی موساد کے ہیکرز نے کیا۔۔ یا "پاکستانی ہیکرز" نے۔۔ اب سیکورٹی اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کا امتحان ہے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچ کر ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔۔ کیونکہ یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں۔۔ ہماری پاک فوج کے خلاف بغاوت کی سر عام ترغیب دی گئی ہے اور اگر واقعی کسی بیرونی ہاتھ نے ہماری اسکرینوں پر پیغام چلایا ہے تو ہمیں اپنے دلوں کی اسکرین مضبوط کرنی ہوگی۔ وہاں صرف ایک پیغام ہونا چاہیے:

پاکستان پہلے۔ اختلاف بعد میں۔ دشمن کی چالیں تب ہی ناکام ہوں گی جب اختلافات کو دشمن کا ہتھیار نہیں بننے دیں گے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جذبات میں نہیں، شعور میں متحد ہوں۔ آواز اٹھائیں، مگر پاکستان کے خلاف نہیں، پاکستان کے لیے۔

اب یہ سیکورٹی و انٹیلی جنس اداروں کا امتحان ہے کہ معاملے کی تہ تک پہنچ کر ہیکرز کو بےنقاب کیا جائے۔ کیونکہ اگر پاکستان محفوظ ہے تو ہم سب محفوظ ہیں اور اگر خدانخواسطہ پاکستان کمزور ہوا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔۔

پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔

Check Also

Sach Ka Pehra Aur Jhoot Ka Muhafiz

By Peer Intizar Hussain Musawir