Wednesday, 04 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mujahid Khan Taseer
  4. Mayoosi Ya Umeed Ki Wirasat?

Mayoosi Ya Umeed Ki Wirasat?

مایوسی یا امید کی وراثت؟

کیا آپ نے کبھی ٹھہر کر یہ سوچا ہے کہ آپ اپنی اولاد کو بطورِ وراثت کیا دے رہے ہیں؟ جائیداد، زمین، مکان، زیور، کاروبار یا بینک بیلنس؟ اگر آپ کا جواب اثبات میں ہے تو ممکن ہے آپ نے ابھی تک اصل سوال کی گہرائی کو نہیں چھوا۔ کیونکہ اولاد کو سب سے بڑی وراثت مال و متاع نہیں بلکہ احساسات، رویّے، افکار اور داخلی کیفیات کی صورت میں منتقل ہوتی ہے اور المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر والدین، دانستہ نہیں بلکہ نادانستہ طور پر، اپنی اولاد کو مایوسی، احساسِ محرومی اور اندیشوں کی وراثت دے رہے ہوتے ہیں۔

یہ عمل شعوری کم اور لاشعوری زیادہ ہوتا ہے۔ ہم بظاہر اپنے بچوں کی بہتری چاہتے ہیں، مگر اپنے طرزِ گفتگو اور اندازِ فکر سے ان کے معصوم اذہان میں وہ بیج بو دیتے ہیں جو بعد ازاں احساسِ کمتری اور خوف کی صورت میں پروان چڑھتے ہیں۔ ایک بچہ جب صبح گھر سے اسکول کی طرف روانہ ہوتا ہے تو وہ دراصل اپنے مانوس ماحول، اپنے کھلونوں، اپنی ماں کی شفقت اور باپ کی قربت سے عارضی جدائی اختیار کر رہا ہوتا ہے۔ یہ اس کے لیے ایک نفسیاتی مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر باپ اسے راستے بھر اپنے دفتر کے مسائل، اپنے افسر کی سختیوں اور معاشی پریشانیوں کا نوحہ سنائے، تو وہ بچہ غیر محسوس طریقے سے زندگی کو ایک بوجھ کے طور پر دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔

جب باپ یہ کہتا ہے: "دیکھو میرے باس کا بیٹا کہاں پہنچ گیا اور میں کہاں ہوں"، تو وہ دراصل خود کو بچے کے سامنے ایک شکست خوردہ مثال کے طور پر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ تقابل، جو بظاہر ترغیب کے لیے کیا جاتا ہے، بچے کے ذہن میں ایک غیر مرئی عدالت قائم کر دیتا ہے۔ اس عدالت میں باپ خود مدعی بھی ہوتا ہے اور ملزم بھی۔ بچہ اس منظر کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ زندگی ایک ایسی دوڑ ہے جس میں ناکامی ذلت ہے اور کامیابی محض منصب و مرتبے کا نام ہے۔ یوں وہ شعوری یا لاشعوری طور پر ایک دائمی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسی طرح ماں جب گھریلو مشقت کا تذکرہ اس انداز میں کرتی ہے کہ "میں تمہارے لیے کتنی محنت کرتی ہوں، ہمارے پاس کوئی نوکرانی نہیں، مجھے سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے"، تو وہ دراصل اپنی قربانی کو ایک اخلاقی قرض میں تبدیل کر دیتی ہے۔ بچہ محبت کے بجائے ذمہ داری کے بوجھ تلے دبنے لگتا ہے۔ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا وجود والدین کی تکالیف کا سبب ہے۔ نتیجتاً اس کے اندر ایک انجانا خوف جنم لیتا ہے۔ ناکام ہونے کا خوف، توقعات پر پورا نہ اترنے کا خوف، محبت کھو دینے کا خوف۔

یہ خوف جب وقت کے ساتھ گہرا ہوتا ہے تو دو راستے اختیار کرتا ہے: یا تو بچہ حد سے زیادہ مقابلہ پسند اور حسد میں مبتلا ہو جاتا ہے، یا پھر شکست کو اپنی شناخت بنا لیتا ہے۔ پہلی صورت میں وہ دوسروں کو گرا کر آگے بڑھنے کی نفسیات اپناتا ہے اور دوسری صورت میں خود کو ناکام سمجھ کر گوشہ نشین ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات یہی احساسِ محرومی اسے اس انتہا تک لے جاتا ہے جہاں زندگی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ والدین اپنے بچوں سے توقعات کیوں رکھتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان توقعات کو کس اسلوب میں پیش کیا جاتا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ کامیابی محض منصب اور دولت کا نام ہے؟ یا ہم انہیں یہ باور کرا رہے ہیں کہ اصل کامیابی کردار، دیانت اور معاشرتی ذمہ داری میں مضمر ہے؟

زندگی کی دوڑ میں اکیلے سب سے آگے نکل جانا کوئی بڑا کارنامہ نہیں۔ اصل عظمت اس میں ہے کہ انسان اپنے ساتھ دوسروں کو بھی منزل تک لے جائے۔ ایک فرد کی کامیابی وقتی ہو سکتی ہے، مگر ایک ذمہ دار انسان کی کامیابی اجتماعی ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو یہ شعور دے دیں کہ وہ معاشرے کے کمزور طبقات کا سہارا بنیں، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، تو ہم انہیں ایک بامعنی زندگی کا راستہ دکھا رہے ہوں گے۔

تاریخِ انسانی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ عظیم معاشرے وہی ہوتے ہیں جہاں افراد اپنی ذات سے بلند ہو کر اجتماعی فلاح کو مقدم رکھتے ہیں۔ ابتدائی مسلم معاشرے کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ایثار اور ترجیحِ غیر کی عملی صورتیں ملتی ہیں۔ یہ واقعات محض مذہبی نہیں بلکہ ایک اخلاقی فلسفہ ہیں۔ وہ فلسفہ جو یہ سکھاتا ہے کہ انسان کی قدر اس کے منصب سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے متعین ہوتی ہے۔

والدین کا اصل فریضہ یہ نہیں کہ وہ اپنی محرومیوں کا بوجھ اولاد کے کندھوں پر منتقل کریں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان کے دل میں امید کا چراغ روشن کریں۔ انہیں یہ کہیں: "بیٹا! تم مجھ سے بہتر بن سکتے ہو۔ تم وہ حاصل کر سکتے ہو جو میں نہ کر سکا، مگر یاد رکھنا کہ تمہاری کامیابی صرف تمہاری ذات تک محدود نہ ہو"۔ یہ جملہ بچے کے اندر اعتماد بھی پیدا کرتا ہے اور وسعتِ نظر بھی۔

ہمیں اپنے بچوں کو جذباتی بلیک میلنگ سے نہیں بلکہ حوصلہ افزائی سے آگے بڑھانا ہوگا۔ انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے کا مرحلہ ہے۔ انہیں یہ باور کرانا ہوگا کہ ان کی قدر ان کے نمبروں، عہدوں یا تنخواہوں سے مشروط نہیں بلکہ ان کی انسانیت سے وابستہ ہے۔

اگر ہم نے اپنی اولاد کو امید، خود اعتمادی اور خدمتِ خلق کا شعور دے دیا تو ہم نے انہیں سب سے قیمتی وراثت عطا کر دی۔ ورنہ مال و دولت کی فراوانی بھی اس خلا کو پر نہیں کر سکتی جو احساسِ کمتری اور مایوسی پیدا کرتی ہے۔

یاد رکھیے، ایک کارآمد شہری بننے والا بچہ ہی ایک بہترین بیٹا اور بیٹی بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جس شخصیت کی بنیاد کردار اور شعور پر ہو، وہ ہر رشتے کو وقار بخشتی ہے۔ آئیے ہم اپنی اولاد کو محرومی نہیں، امکان کی بشارت دیں، مایوسی نہیں، امید کی روشنی دیں اور تقابل نہیں، تعاون کا فلسفہ سکھائیں۔

یہی وہ وراثت ہے جو نسلوں کو سنوارتی ہے۔

Check Also

Bill Bijli Kam Karva Lo

By Ashfaq Inayat Kahlon