Wednesday, 04 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Mard Aur Aurat Ki Yaksan Qurbani

Mard Aur Aurat Ki Yaksan Qurbani

مرد اور عورت کی یکساں قربانی

دیارِ غیر میں مقیم مرد حضرات اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے گھر سے دور رہ کر سب سے بڑی قربانی دے رہے ہیں۔ اجنبی ملک، اجنبی زبان، کام کے طویل اوقاتِ کار، تنہائی اور اپنے بچوں کے لمس سے دوری۔۔ یہ سب واقعی آسان نہیں۔ وہ خود کو ایک مجاہد سمجھتا ہے جو اپنے بال بچوں اور بیوی کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی خواہشات قربان کر رہا ہے۔

یہ احساس اپنی جگہ درست بھی ہے، مگر ادھورا۔

وہ اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اسی فیصلے کی قیمت اُس کی بیوی بھی روزانہ ادا کر رہی ہوتی ہے مگر بغیر کسی واہ واہ کے، بغیر کسی تعریفی جملے کے۔

دیارِ وطن میں رہ جانے والی عورت صرف بچوں کی ماں نہیں رہتی، وہ آہستہ آہستہ باپ کا کردار بھی سنبھال لیتی ہے۔ بچوں کی تعلیم، اسکول کے معاملات، بیماری میں ڈاکٹر کے چکر، گھر کے بل، بجلی، گیس، پانی، مرمت، رشتہ داروں کے سوال، معاشرے کے طعنے۔۔ سب کچھ اُس کے حصے میں آ جاتا ہے۔ وہ بچے کو بخار میں گود میں اٹھائے کھڑی ہوتی ہے تو فون کے دوسری طرف شوہر صرف آواز بن کر رہ جاتا ہے۔

ایک حقیقی مثال لیجیے: شوہر دبئی یا سعودیہ میں کام کر رہا ہے۔ بچے کی اسکول فیس جمع کرانی ہے، گھر کی الیکٹرک وائرنگ کا مسئلہ بن گیا ہے ہے اور محلے دار خواتین سوال کر رہی ہیں: "شوہر کب آئے گا؟" عورت مسکرا کر کہہ دیتی ہے: "بس جلدی"۔ مگر اُس مسکراہٹ کے پیچھے خوف، تھکن اور تنہائی چھپی ہوتی ہے۔

دوسری طرف مرد بھی سچ کہتا ہے۔ وہ صحت کی پرواہ کئے بغیر فیکٹری یا دفتر میں گھنٹوں کام کرتا رہتا ہے، چھٹی کے دن بھی اوور ٹائم کرتا ہے، کسی کی موت یا خوشی میں شریک نہیں ہو پاتا اور رات کو کمرے میں اکیلا بیٹھ کر بچوں کی تصویریں دیکھتا ہے اور ہزاروں کلومیٹر دور سے ان کیساتھ بس ویڈیو پر ہی لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ وہ بھی ٹوٹتا ہے۔۔ بس خاموشی سے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ قربانی یک طرفہ نہیں ہوتی۔

یہ ایک مشترکہ جدوجہد ہوتی ہے جہاں دونوں اپنی اپنی جگہ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مرد کی قربانی نظر آتی ہے اور عورت کی قربانی معمول سمجھ لی جاتی ہے۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے دکھ کو تسلیم کریں۔ مرد اگر یہ مان لے کہ اُس کی غیر موجودگی میں عورت نے گھر کو اکیلے سنبھالا ہے اور عورت یہ سمجھ لے کہ مرد نے پردیس میں اپنی جوانی، سکون اور جذبات قربان کیے ہیں تو شکوے کم اور احترام بڑھ جاتا ہے۔

دیارِ غیر کی زندگی اصل میں دو لوگوں کی مشترکہ قربانی کا نام ہے۔ ایک گھر سے دور رہ کر کما رہا ہوتا ہے اور دوسرا گھر میں رہ کر پورا گھر بنائے رکھتا ہے، سمیٹے رکھتا ہے۔ جو رشتہ اس حقیقت کو سمجھ لے وہ فاصلے کے باوجود کبھی کمزور نہیں ہوتا۔

Check Also

Sach Ka Pehra Aur Jhoot Ka Muhafiz

By Peer Intizar Hussain Musawir