Wednesday, 04 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Saanson Par Mandlata Khatra

Saanson Par Mandlata Khatra

سانسوں پر منڈلاتا خطرہ

جدید دور کی چمکتی دنیا میں انسان نے سہولتوں کے انبار تو لگا دیے، مگر ان سہولتوں کی قیمت وہ اپنے ہی ماحول کو تباہ کرکے ادا کر رہا ہے۔ فریج، ایئرکنڈیشنرز، فیکٹریاں، گاڑیاں اور بے شمار مشینیں ہماری زندگی کو آسان تو بنا رہی ہیں، لیکن ان سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں فضا میں شامل ہو کر قدرتی توازن کو بگاڑ رہی ہیں۔ کلورو فلورو کاربن (CFCs) جیسی گیسیں اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جو دراصل زمین کے گرد ایک حفاظتی حصار ہے۔ یہی تہہ سورج کی مضر الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ اگر یہ کمزور ہو جائے تو جلد کا کینسر، آنکھوں کی بیماریاں، فصلوں کی تباہی اور ماحولیاتی بگاڑ جیسے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی اب محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور موسموں کا نظام بے ترتیب ہو چکا ہے۔ کبھی شدید بارشیں تباہی مچاتی ہیں تو کبھی طویل خشک سالی خوراک کی قلت کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ سمندروں میں صنعتی فضلہ اور پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال آبی حیات کو بھی معدومی کے دہانے پر لے آیا ہے۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ سردیوں میں اسموگ کا عذاب شہریوں کا سانس لینا دوبھر کر دیتا ہے۔ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت پر بھی کاری ضرب ہے۔ سیلاب، فصلوں کی تباہی اور بیماریوں کے اخراجات ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے کم از کم 25 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے، مگر پاکستان میں یہ شرح محض 4 سے 5 فیصد ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔ درخت صرف آکسیجن کا ذریعہ نہیں بلکہ موسمی توازن، زمین کی زرخیزی اور قدرتی آفات سے تحفظ کا بھی اہم وسیلہ ہیں۔

آلودگی کی دیگر وجوہات میں صنعتی دھواں، گاڑیوں کے اخراج، ناقص سیوریج نظام، زرعی ادویات اور پلاسٹک بیگز کا بے تحاشہ استعمال شامل ہیں۔ یہ تمام عناصر مل کر فضا، پانی اور زمین کو آلودہ کر رہے ہیں۔ اگر اس صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو آنے والی نسلوں کے لیے صاف پانی، خالص ہوا اور محفوظ خوراک کا حصول خواب بن جائے گا۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ماحولیات کے شعبے کو قومی ترجیح بنائے۔ ایک باصلاحیت اور سنجیدہ وزیر ماحولیات کا تقرر، سخت قوانین کا نفاذ، صنعتی فضلے کے مؤثر انتظامات، صاف ایندھن کا فروغ اور پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی ناگزیر اقدامات ہیں۔ شجرکاری کو محض نمائشی مہم کے بجائے مستقل قومی پالیسی بنایا جائے۔ اگر ہر شہری سال میں کم از کم ایک درخت لگانے کا عزم کرے تو یہ چھوٹا سا قدم بھی ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔

میڈیا اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عوام میں شعور بیدار ہو۔ 1987ء کے مونٹریال معاہدے کی روح یہی تھی کہ دنیا اوزون کی حفاظت کے لیے متحد ہو۔ ہمیں بھی عالمی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ماحول کا تحفظ صرف حکومت کا کام نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج ہوش کے ناخن نہ لیے تو کل شاید سانس لینے کے لیے بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر زمین کو بچانے کا عہد کریں، کیونکہ یہی زمین ہماری پہچان، ہماری بقا اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔

Check Also

Mard Aur Aurat Ki Yaksan Qurbani

By Amer Abbas